سندھ میں تبدیلئ مذہب کے حوالے سے کی گئی وسیع اور طویل المدتی تحقیق میں "جبری تبدیلئ مذہب" کا کوئی سراغ نہیں ملا چھاپیے
سیمینار

 FC

اسلام آباد، 17 اکتوبر 2021: انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے تحقیق کار صوفی غلام حسین کی جانب سے سندھ میں تبدیلئ مذہب پر اپنی نوعیت کے پہلے تحقیقی مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبے میں غیرمسلموں بشمول نابالغ لڑکیوں کےجبری تبدیلئ مذہب کا نشانہ بننے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔دس سالہ عرصے پر محیط اس تحقیق میں مرحلہ وار فیلڈ وزٹس، سندھی سماج کے مختلف طبقات کے انٹرویوز اور صوبے بھر کی درگاہوں اور عدالتوں سے حاصل شدہ اعداد و شمار کا شماریاتی تجزیہ کیا گیا۔

یہ تحقیق جس کا حوالہ گزشتہ ہفتے مسترد ہونے والے "انسدادِ جبری تبدیلئ مذہب بل" کے جائزے کے لیے بننے والی پارلیمانی کمیٹی بھی دے چکی ہے،آئی پی ایس کے حاصل کردہ اور ترتیب شدہ ایک بڑے ڈیٹا سیٹ پر مشتمل ہے۔

طویل ترین اور انتہائی تفصیلی فیلڈ ورک میں سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے مسلم اور غیر مسلم افراد کے 200 تفصیلی انٹرویوزلینے کے ساتھ ساتھ 400 سے زائد آڈیو ریکارڈنگز کے مواد کا تجزیہ اور غیرسرکاری تنظیموں کی ۱۹ رپورٹوں  کاجائزہ لیا گیا۔

شماریاتی نمونہ (Quantitative Sample)

2008 سے 2020 کے دوران  جمع اور درج ہونے والے تبدیلئ مذہب کے 6055 واقعات پر مشتمل تھا۔ تحقیق عمل کے سربراہ صوفی غلام حسین نے تقریباً 32 خاندانوں، 24 جوڑوں (جن میں سے زیادہ تر خواتین حال ہی میں مسلمان ہوئی تھیں)، 16 مردوں، ہندو برادری کے 24 رہنماوٴں،22 مذہبی علماء، 21 سماجی کارکنان، 8 وکلاء ، 2 پولیس افسران اور 2 مجسٹریٹوں  کے انٹرویو لیے۔


تحقیق کا بنیادی مقصد اس سوال کا جواب تلاش کرنا تھا کہ آیا واقعی 18 برس سے کم عمر غیرمسلم لڑکیوں کو جبری طور پر اسلام میں داخل کیا جا رہا ہے۔ حاصل شدہ مواد کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ رضاکارانہ شادی کی خاطر قبولِ اسلام  کے ضمن میں درج ہونے والے مجموعی واقعات میں سے محض چند ایک نابالغ لڑکیوں کے تھے۔ غلام حسین کا کہنا ہے کہ "دیہی سندھ میں 18 سال سے کم عمر میں شادی کے عمومی رواج کو دیکھتے ہوئے یہ تعداد غیرمتوقع نہیں ہے۔"
 
اگر "جبر" کا مفہوم   طاقت کے استعمال، بلیک میلنگ، دھوکہ بازی یا کسی فرد یا اس کے والدین کو قتل کرنے کی دھمکی کے ضمن میں لیا جائے تو اس تحقیق کے مصدقہ واقعات میں سے تبدیلئ مذہب کا کوئی واقعہ جبری نہیں ہے۔ بالعموم پھیلائے جانے والے تاثر کے برعکس اس تحقیقی مطالعے میں ظاہر ہوا ہے کہ ایسے واقعات میں طاقت کا استعمال عموماً مذہب تبدیل کرنے والے فرد کے والدین اور برادری کی جانب سے کیا جاتا ہے تاکہ اسے پرانے مذہب میں واپسی پر مجبور کیا جا سکے۔ یہ طاقت بالعموم سیاسی دباوٴ، مقامی انتظامیہ یا ریاستی اداروں میں اثر و رسوخ کے استعمال، سوشل میڈیا مہم، غیرسرکاری تنظیموں کےتحرّک، ذات یا برادری کی عزت کے حوالے، پدرسری انا کو ابھار کر، علیحدگی پسند عناصر کو متحرک کرکے ، یہاں تک کہ تشدد کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے۔
تحقیقی مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ تبدیلئ مذہب کا عمل سندھ کی نمایاں درگاہوں اور مذہبی مقامات پر انجام پاتا ہے ۔ یہی درگاہیں اور مذہبی ادارے قانونی کارروائی اور متعلقہ کاغذی کارروائی کی ذمہ داری بھی انجام دیتے ہیں جس میں عدالتی مراحل بھی شامل ہیں۔ تحقیق کے عمل کے دوران نمایاں مذہبی درگاہوں اور مراکز سے ان افراد کے تفصیلی کوائف بھی حاصل کیے گئے جنھوں نے یہاں آ کر اسلام قبول کیا تھا۔ ان اداروں میں امروٹ شریف(شکارپور)، بھرچونڈی شریف(گھوٹکی)، گلزارِ خلیل(عمر کوٹ)، بیت السلام (بدین)، مدینہ مسجد (میرپورخاص)، اور جامعہ بنوریہ (کراچی) شامل ہیں۔

اکٹھی کی گئی جن متعلقہ سرکاری دستاویزات کا تجزیہ کیا گیا ان میں رضامندی کے سرٹیفکیٹ، (والدین سے تحفظ دینے کے لیے جمع کروائی گئی) درخواستیں، عدالتی فیصلے اور احکامات، والدین کی جانب سے درج ایف آئی آرز اور پولیس ریکارڈ، نومسلموں کے شناختی کارڈ، نکاح نامے یا(نادرا کے جاری کردہ) شادی کے سرٹیفکیٹ،پرائمری سکول چھوڑنے کے سکول سرٹیفکیٹ یا میٹرک کی اسنادجن سے عمر پتا چلتی ہو، عمر طے کرنے والی والی طبی اسناد، تبدیلئ مذہب کی اسناد، تبدیلئ مذہب کے رجسٹر اور تبدیلئ مذہب کی تقریبات کے اشتہار شامل تھے۔

تحقیق سے پتا چلا کہ ایک سے دوسرے مذہب میں شمولیت کے عمل میں بہت سے سماجی و معاشی، مذہبی اور ثقافتی عوامل بطور ترغیب اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اکثر واقعات میں تبدیلئ مذہب کے مروجہ طریقے اور سماجی و معاشی فوائد(ترہیبی عوامل)، شادی کی خواہش اور اسلام اور اس کے مذہبی علماء سے متاثر ہونے کا عنصر (ترغیبی عوامل) وہ نمایاں عوامل ہیں جو تبدیلئ مذہب کے عمل پر ابھارتے ہیں۔ ترہیبی عوامل عمومی طور پر درپیش صورت حال، ماحول اور  مذہبی و ثقافتی پس منظر میں بروئے کار آتے ہیں، جبکہ ترغیبی عوامل بالعموم انفرادی یا گروہی تحرک کی صورت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
مجموعی نمونے سے وہ 4490 افراد جنھوں نے بمع اہلِ خانہ اسلام قبول کیا، یا تو کئی دہائیوں کے سفر میں اسلامی تعلیمات سے آگاہ ہوچکے تھے یا انھیں مسلمانوں میں سماجی و معاشی تعاون کے بہترنظام نے قبولِ اسلام کی ترغیب دی۔

تحقیقی نمونے میں انفرادی طور پر اسلام قبول کرنے والے 229 مردوں کی موجودگی اس مقبول غلط فہمی کو رد کرتی ہے کہ صرف خواتین ہی اسلام قبول کر رہی ہیں۔970 افراد پر مشتمل جوڑوں میں ایک بڑی تعداد ان بیواوٴں کی ہے جو ہندو رہتے ہوئے دوسری شادی نہیں کر سکتی تھیں۔ ان میں ایک نمایاں تعداد میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو اپنے کزنز سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن ہندو مذہب میں ان کے لیے یہ گنجائش موجود نہیں تھی۔کئی شادیاں دو مختلف ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان طے پاتی ہیں جس کی گنجائش انھیں ہندو روایات کی  رو سے حاصل نہیں ہوتی اور وہ مذہب تبدیل کرکے یہ راستہ اختیار کرلیتے ہیں۔ یہ ایک بڑا ترہیبی عنصر ہے کیونکہ شادی پر منتج ہونے والے تبدیلئ مذہب کے 723 میں سے 617 واقعات میں متعلقہ افراد سابقہ شیڈولڈ کاسٹ ہندو تھے۔

تحقیقی عمل کے دوران سامنے آنے والا یہ مواد پہلے ہی کئی قومی و بین الاقوامی فورمز پر پیش کیا جا چکا ہے جن میں پارلیمنٹ، اسلامی نظریاتی کونسل، اسلام آباد بار کونسل اور امریکہ کی براوٴن یونیورسٹی کا واٹسن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی و عوامی امور شامل ہیں۔