تازہ سرگرمیاں
آئی پی ایس میں قومی ہیروایم ایم عالم کی برسی کے موقع پر کتاب کی تقریبِ پزیرائی پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
سیمینار

National hero MM Alam thumb۱۹۶۵ کی پاک بھارت جنگ کے عالمی ریکارڈ یافتہ قومی ہیرو اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کی چوتھی برسی کے موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اسلام آباد میں انڈس کاٹیج لائیبریریز نیٹ ورک کے اشتراک سے معروف صحافی رفیق شہزاد کی تصنیف کردہ ان کی سوانح 'مایہُ ناز ہیرو: ایم ایم عالم' کی تقریبِ پزیرائی ۱۸ مارچ ۲۰۱۷ کو منعقد ہوئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
'بدلتا ہوا عالمی نظام: پاکستان کے لئے مضمرات اور مواقع' پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
سیمینار

Evolving Wordl Order thumb1انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں ۱۳ فروری ۲۰۱۷ کو ایک سیمینار منعقد ہوا جس سے جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پولی ٹیکٹ فیلو اور خلیجی مملک  کے امور کے ماہر عبداللہ خرم نےکلیدی اسپیکر کے طور پر اظہارِ خیال کیا۔ 'بدلتا ہوا عالمی نظام: پاکستان کے لئے مضمرات اور مواقع' مباحثے کا عنوان تھا جس کے دیگر شرکاء میں ڈی جی آئی پی ایس خالد رحمٰن، سینیر ریسرچ فیلو، سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹیجک استڈیز، سید محمد علی، سابق سفیر ایاز وزیر، بین القوامی تجارت کے ماہر ظیرالدین ڈار اور آئی پی ایس کی ریسرچ ٹیم کے ارکان شامل تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
سابق چیف اکنامسٹ فصیح الدین کی کتاب 'مشاہداتِ زندگی' کی تقریب رونمائی پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
سیمینار

MushahidateZindagi thumb3انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) سے وابستہ معروف ماہر اقتصادیات اور سابق چیف اکنامسٹ، پلاننگ کمیشن آف پاکستان، فصیح الدین کی کتاب "مشاہداتِ    زندگی' کی تقریب رونمائی 2 فروری ۲۰۱۷ کو انسٹی ٹیوٹ کے سیمنار ہال میں منعقد ہوئی۔ کتاب کوآئی پی ایس پریس (انسٹی ٹیوٹ کے اشاعتی بازو) نے شایع کیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
توانائی کی بچت کا قانون: اطلاق پر عمل درآمد کا جائزہ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
سیمینار

Energy Conservation Law thumb 126جنوری 2017ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں تونائی کے کارگراستعمال اور بچت کے ایکٹ 2016 پر منعقد ہونے والے سیمینار میں اس پر عمل درآمد کی حکمتِ عملی اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ حال ہی میں قائم کیے گئے NEECA (National Energy Efficiency & Conservation Authority) کے مینیجنگ ڈائریکٹر حسن ناصر جامی کی نمائندگی کرنے والے انجینئر اسد محمود نے اس پالیسی مباحثے میں بتایا کہ طویل انتظار کے بعد منظور ہونے والے اس  قانون پر عمل درامد کے لیے ایک مربوط قومی پالیسی وضع کی جا رہی ہے جس کے ڈرافٹ کو اگلے دو ہفتوں کے اندر  تمام اسٹیک ہولڈروں کو ان کی آراء جاننے کے لیے بھیج دیا جائے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
مزید مضامین...
«شروعپیچھے12345678910آگےآخر»