فاٹا کے تیل اور گیس کے ذخائر پاکستان کا توانائی بحران حل کرسکتے ہیں چھاپیے
سیمینار

1tCوفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں تیل اور گیس کے ذخائر سے مکمل گنجائش کے مطابق پیداوار حاصل کی جائے تو پاکستان نہ صرف توانائی کی قلت کے موجودہ بحران سے نکل سکتا ہے بلکہ یہ خود قبائلی علاقے کی سماجی و معاشی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم آئین اور حکمرانی کے مسائل کو بلا تاخیر حل کرنا ہوگا۔

 وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں تیل اور گیس کے ذخائر سے مکمل گنجائش کے مطابق پیداوار حاصل کی جائے تو پاکستان نہ صرف توانائی کی قلت کے موجودہ بحران سے نکل سکتا ہے بلکہ یہ خود قبائلی علاقے کی سماجی و معاشی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم آئین اور حکمرانی کے مسائل کو بلا تاخیر حل کرنا ہوگا۔

یہ اس سیمینار کا پیغام تھا جو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد میں ہوا۔ سیمینار کا عنوان تھا: ’’فاٹا میں ترقیاتی شروعات- تیل اور گیس کا شعبہ: امکانات اور حکمتِ عملی‘‘ یہ پاکستان کے قبائلی علاقے کے مطالعہ کے سلسلہ کا دوسرا سیمینار تھا۔سیمینار کی صدارت سابق سیکرٹری وزارت پٹرولیم اور قدرتی وسائل ڈاکٹر گل فراز احمد نے کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر فضلِ ربی نے سیمینارسے خطاب کیا۔ ڈاکٹر فضلِ ربی گورنر خیبر پختون خوا کی جانب سے فاٹا میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے نامزد کو آرڈی نیٹر ہیں۔

سیمینار میں فاٹا میں قدرتی وسائل کے ذخائر کے امکانات، تیل کے کنوئوں کی تیاری اور تیل نکالنے کے عمل کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیا گیا اور اس میں قبائلی علاقے کی ترقی اور خوش حالی کے پوشیدہ امکانات پر گفتگو کی گئی۔

ڈاکٹر گل فراز نے کہا کہ آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد اب تیل اور گیس کی ملکیت وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیانی مساوی طور پر تقسیم ہے جبکہ تیل کی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدنی تمام کی تمام صوبے کو جائے گی۔ تاہم فاٹا کو ملنے والی آمدنی مرکزی پول میں جائے گی۔ یہ ایک دستوری اور آئینی صورتِ حال ہے۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ قدرتی وسائل کی مکمل ملکیت فاٹا کو ملنی چاہیے تاکہ یہاں کے باشندوں کو مکمل احساسِ شرکت دلایا جاسکے نیز علاقے کی معاشی و سماجی ترقی کو دیگر علاقوں کے برابر لایا جاسکے۔

انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں تیل اور گیس کمپنیاں ان قدرتی ذخائرکی تلاش میں رہتی ہیں اور فاٹا میں تیل کے ذخائرکی موجودگی کے بہت واضح امکانات ہیں۔ یہ کمپنیاں ضرور یہاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے آنا چاہیں گی اگرچہ یہ کمپنیاں امن و امان کے حوالے سے کچھ زیادہ ہی حساس ہوتی ہیں اور فاٹا میں امن کا قیام ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کی وجہ سے تیل کی تلاش کے لیے ہزاروں ڈالرز کی رقم مختص ہونے کے باوجود یہ علاقہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے یہاں سرمایہ کاری کا منتظر ہے۔

اس سے پہلے ڈاکٹر فضلِ ربی نے اس علاقے میں تیل اور گیس کی موجودگی کے شواہد کے لیے بہت سے تیکنیکی امور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ محتاط اندازے کے مطابق یہاں تیل اور گیس کے ذخائر کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ پاکستان کی توانائی کی تمام ضروریات صر ف اس جگہ سے پوری ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے چند غیر ترقیاتی پراجیکٹس پر روشنی ڈالی اور حکمتِ عملیوں اور درپیش چیلنجوں کا ذکر کیا جو تیل کی تلاش اور کنوئوں کی کھدائی کے عمل کو تیز کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس سیمینار سے ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالدرحمن، آئی پی ایس ایسوسی ایٹس ایمبیسڈ ریٹائرڈ ایاز وزیر اور سید نذیر مہمند نے بھی خطاب کیا اور تیل اور گیس کے شعبہ کو فاٹا اور پورے علاقے کی سماجی و معاشی بہتری کے لیے اہم شعبہ قرار دیا۔

سیمینار کے شرکاء نے پشاور یونیورسٹی میں قائم جیالوجی کے قومی مرکز کے اساتذہ اورطلبہ کے جذبے کو سراہا جنہوں نے ہر طرح کے خطرات کے باوجود فاٹا کے دور دراز علاقوں میں جا کر تحقیقی کام کی تکمیل میں اپنا حصہ ادا کیا۔ اس تحقیق کے نتیجے میں یہاں کے تقریباً تمام 17بلاکس میں تیل کی تلاش کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو لائسنس جاری کردیے گئے ہیں یا یہ کام زیرِ عمل ہے اور ان سے تخمینے لیے جا رہے ہیں۔

نوعیت:    روداد سیمنار    
تاریخ:    ۱۹ ستمبر ۲۰۱۴ء