سیمینار: اسکینڈے نیویا اور دیگر یورپ میں دائیں بازو کی طرف رجحان؟ چھاپیے
سیمینار

scand1 tیورپ میں دائیں بازو کی جماعتیں طاقت حاصل کر رہی ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی دفعہ مقبولیت اور قوت میں انتہائی اونچے درجے پر جا پہنچیں گی۔ دائیں بازو کی سیاست کا رجحان یورپ میں تارکینِ وطن اور کثیر ثقافتی تنوع کے لیے نئے چیلنجز لا رہا ہے۔

یورپ میں دائیں بازو کی جماعتیں طاقت حاصل کر رہی ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی دفعہ مقبولیت اور قوت میں انتہائی اونچے درجے پر جا پہنچیں گی۔ دائیں بازو کی سیاست کا رجحان یورپ میں تارکینِ وطن اور کثیر ثقافتی تنوع کے لیے نئے چیلنجز لا رہا ہے۔

یہ وہ موضوع تھا جس پر گفتگو کرنے کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد اور پاکستان ناروے ایسوسی ایشن (PANA) نے جمعہ ۱۴ فروری۲۰۱۴ ء کو ایک سیمینار کا اہتمام کیا۔ اس سیمینار کا عنوان تھا ’’اسکینڈے نیویا اور دیگر یورپ: دائیں بازو کی طرف رجحان؟‘‘
اس اجلاس کی صدارت سابق سینیٹر اور آئی پی ایس نیشنل اکیڈمک کونسل کی رکن سعدیہ عباسی نے کی۔ جب کہ نائب صدر کی حیثیت سے فرائض ناروے کے سماجی سائنسدان اور PANA کے سیکرٹری ایٹلے ہیٹ لینڈ نے ادا کیے۔ پینل میں شریک دیگر افراد میں یونیورسٹی آف لائپزگ جرمنی اور قائدِاعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ہارٹ مٹ ایلزین ہینز، نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے پریسٹن یونیورسٹی اسلام آباد کے استاد بکر نجم الدین، ناروے میں پاکستانی تاجر عامر افتخار وڑائچ، سماجی سائنسدان اور آئی پی ایس کی سینئر ایسوسی ایٹ ڈاکٹر صبیحہ سید، سویڈن کی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے آئی پی ایس کے ایسو سی ایٹ عبید الرحمن او رPANA کے چیئر مین اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے اسسٹنٹ پروفیسر علی نواز شامل تھے۔
اپنی پریزینٹیشن میں عامر افتخار نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ اسکینڈے نیویا اور یورپ میں دائیں بازو کی تحریک نسلی یا کثیر ثقافتی مسائل کی بنیاد پر نہیں ہے۔ اس کے برعکس یہ مسلم دشمن سوچ پر مبنی ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جو پورے یورپ میں انتہا پسند دائیں بازو کی اکثریت کا نمایاں وصف ہے۔ انہوں نے ناروے میں ان حقارت آمیز جذبات کی موجودگی کی طرف اشارہ کیا جس کی بنیاد یہ خوف ہے کہ کہیں مسلم تارکین وطن کسی ایسے متوازی معاشرے کی تشکیل نہ کردیں جو مقامی ثقافت اور عقائد سے مختلف ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس نقطۂ نظر کا سامنا تارکین وطن کو شدت سے کرنا پڑا ہے اور اس طرح کے حالات مزید خرابی کی طرف جا سکتے ہیں۔


صبیحہ سید نے کہا کہ پچھلی صدی میں ترک وطن یا امیگریشن اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا البتہ سرحدوں کی تقسیم اہمیت کا حامل معاملہ تھا۔ تاہم اس صدی میں امیگریشن ایک سیاسی اور اقتصادی مسئلہ بن چکا ہے۔ موجودہ دور میں ترکِ وطن کو محدود رکھنے کے لیے بہت سی پالیسیاں مرتب کی گئی ہیں۔ ایک طرف اسکینڈے نیویا اور یورپ کے ممالک متنوع ثقافتوں کے حامل ہونے پر فخر و انبساط کا اظہار کرتے ہیں لیکن دوسری طرف ان کی امیگریشن پالیسیاں بے پناہ پابندیوں کا شکار ہو گئی ہیں۔ دوہرا معیار یہ ہے کہ یہ ممالک کارکنوں اور مزدوروں کو خوش آمدید کہنے کو تو تیار ہیں لیکن ان کے لیے مناسب پالیسیوں کو مرتب نہیں کر پاتے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم عالمگیریت کی دنیا میں رہ رہے ہیں اور ہمیں عالمی شہری بننے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر ہارٹ مٹ ایلزین ہینزنے دائیں بازو کی تحریک کو ملازمتوں کے خوف کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مسائل اس وقت نہیں تھے جب ان خطوں میں ملازمتوں کی صورتِ حال بہتر تھی۔
بکر نجم الدین کی رائے یہ تھی کہ دائیں بازو کی تحریک کا معاملہ مسائل کے حل کی کوشش ہے کیونکہ لوگوں کی ہمدردیاں دائیں بازو کی طرف ہیں۔
ایٹلے ہیٹ لینڈ نے اسکینڈے نیویا بالخصوص ناروے کی معاشی سرگرمیوں اور معاشرے میں مسلمان تارکینِ وطن کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے یورپ میں یورپی عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن معاشروں کو فروغ دینے میں مسلمانوں اور دیگر تارکین وطن کے کردار کو سراہا۔
آئی پی ایس کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمن جنہوں نے اس سے پہلے موضوع کے پس منظر اور اہمیت پر سیر حاصل گفتگو کی تھی، پروگرام کے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ آئی پی ایس اور پانا مستقبل میں بھی اس طرح کے باہمی دلچسپی کے موضوعات پر پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
نوعیت:     روداد سیمینار
موضوع:    اسکینڈے نیویا اور دیگر یورپ:  دائیں بازو کی طرف رجحان؟
تاریخ:    ۱۴ فروری۲۰۱۴ ء