عالمی قیادت اور مسلم نوجوانوں کا کردار: ڈاکٹر ہانی البنا کے ساتھ ایک نشست چھاپیے
مکالمہ اور گفتگو

Dr Hany El-Bannaآئی پی ایس لیڈ (The Learning, Excellence and Development Program of IPS) نے 9مئی 2014ء کو بین الاقوامی شہرت یافتہ فلاحی کارکن، ترقی و تعمیر کے رہبر اور مغرب میں قائم سب سے بڑی مسلم این جی او ’’اسلامک ریلیف‘‘ کے بانی ڈاکٹر ہانی البنا کے ساتھ تبادلۂ خیال کی ایک نشست کا اہتمام کیا۔

 آئی پی ایس لیڈ (The Learning, Excellence and Development Program of IPS) نے 9مئی 2014ء کو بین الاقوامی شہرت یافتہ فلاحی کارکن، ترقی و تعمیر کے رہبر اور مغرب میں قائم سب سے بڑی مسلم این جی او ’’اسلامک ریلیف‘‘ کے بانی ڈاکٹر ہانی البنا کے ساتھ تبادلۂ خیال کی ایک نشست کا اہتمام کیا۔ اس نشست کا عنوان تھا: ’’عالمی قیادت اور مسلم نوجوانوں کا کردار‘‘۔ آئی پی ایس لیڈ سے وابستہ نوجوانوں کے مختلف گروپوں کے رہنمائوں اور ان کے نمائندوں نے اس پروگرام میں شرکت کی۔

ہانی البنا

ڈاکٹر ہانی نے نوجوانوں کی ترقی پر سرمایہ کاری کو پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم اور پوری مسلم دنیا کی ابھرتی ہوئی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے مسلمان نوجوانوں کو مشترک اور عمومی اقدار کو معاشرے میں جگہ دے کر بکھری ہوئی نسلِ انسانی کو متحد کرنے کا عمل اپنانا ہو گا۔

ان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ کسی قوم کی فسطائیت کا جواب اسی انداز میں نہیں دیا جانا چاہیے بلکہ مسلمان نوجوانوں کو کسی بھی تنازع میں اپنے دین کے دیے ہوئے اصول و ضوابط اور تعلیمات کو مشعلِ راہ بنانا چاہیے اور ان پر سختی سے عمل پیرا رہنا چاہیے۔ انہوں نے اپنی زندگی اور پیشے کے بہت سے تجربوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کس طرح غزہ اور چیچنیا جیسے مقامات پر بھی شفافیت اور اخلاق کے سنہری اصولوں کے سبب ان کی ٹیم نے تمام رکاوٹوں اور چیلنجوں پر غلبہ پا لیا۔

انہوں نے ترقی یافتہ ملکوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں نوجوانوں کی ترقی پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے تاکہ معاشرے کی ہر سطح پر مستقبل کی قیادت کی آبیاری کی جا سکے۔
انہوں نے معاشرے میں ہر فرد کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے ملک کی ترقی کا اہم ترین عنصر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں اور زندگی کے مقصد سے باخبر ہونا چاہیے اور معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو سب سے پہلے اپنے معاشروں کے سماجی تانے بانے، ثقافت، سوچ اور اقدار سے با خبر ہونا چاہیے اور پھر ان اقدار کے ذریعے اپنی کمیونٹیوں کو متحد کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

انہوں نے تیزی سے ترقی پاتی دنیا میں ’سوشل میڈیا‘ کو موجودہ دور کی ایک زبان گردانا۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ سازی میں یہ انتہائی مؤثر طریقۂ کار ہے جسے پوری دنیا میں انسانی ہمدردی کی اقدار کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اسلام کی اصل تصویر پیش کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔