تازہ سرگرمیاں
امریکہ کی نئی پاک افغان حکمتِ عملی اور پاکستان اور جنوبی ایشیاء کی سیاست پر اِس کےاثرات پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
کانفرنس

US Afghan Pakامریکی صدر اُوباما نےافغانستان اور پاکستان کےلیےجس نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے، اس نےجنوبی ایشیاء کی علاقائی سیاست میں نیا تحرک پیدا کر دیا ہے۔ ایک جانب یہ ان حدود و قیود کو آشکارا کرتا ہےجو افغانستان کی جنگ میںامریکہ کو درپیش ہیں دوسری جانب یہ امریکہ کی اس خواہش کو ظاہر کرتا ہےجو وہ پاکستان کو اس ریجن میں وسیع تر دفاعی رول ادا کرنےکےلیےآمادہ کرنےکی خاطر رکھتا ہے۔

خالد رحمٰن نےامریکہ کی اس نئی پالیسی اور جنوبی ایشیاء کی سیاست پر اس کےاثرات کےحوالہ سےاپنےمضمون میں بحث کی ہے۔ ملا خطہ کیجیے:

http://www.islamonline.net/servlet/Satellite?c=Article_C&cid=1258880473369&pagename=Zone-English-Muslim_Affairs%2FMAELayout

 

 
اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
کانفرنس
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اور اسلام آباد میں خواتین کےچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کےدرمیان 19 دسمبر 2009ء کو مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کےبعد دونوں اداروں میںتعاون و اشتراک کا نیا قریبی تعلق قائم ہو گیا ہے۔ مفاہمت کی اس یاد داشت میں قرار دیا گیا ہےکہ دونوں تنظیمیں ماحول کی بہتری اور سماج اور خصوصیت سےخواتین کی ترقی کےامکانات اور اقدامات پر تبادلۂ خیال اور اشتراک عمل کےلیےآگےبڑھیں گی۔ ایسےطریقےوضع کرنےاور انہیں عملی شکل دینےکی کوشش کی جائےگی جس سےایک طرف خواتین کی حیثیت و وقعت میںاضافہ ہو اور دوسری طرف اعلیٰ سماجی اقدار و روایات کا تحفظ بھی ہو۔

wcc اس موقع پر خواتین چیمبر کی صدر محترمہ ثمینہ فاضل نےاپنےتاثرات بیان کرتےہوئےکہا کہ وہ یہ محسوس کرتی ہیں کہ ہماری تنظیم نےجو اقدامات کیےہیں وہ سماج کی بہتری کےلیےبہت اہمیت رکھتےہیں۔ ویمن چیمبر آف کامرس خواتین کی کاروباری سرگرمیوںکےفروغ کےلیےجو اقدامات کر رہا ہےوہ نہ صرف انفرادی سطح پر خواتین کی تجارت پر مثبت اثرات ڈالتےہیںبلکہ بحیثیت مجموعی ملک کی معیشت کےلیےبھی اہم ہیں۔ انہوںنےبتایا کہ وہ 1989ء سےبزنس سےوابستہ ہیںاور خواتین چیمبر جو کام کر رہا ہےوہ اسےبہت پہلےسےکرنےچاہئیں تھے۔ انہوںنےچیمبر کےلیےفنڈز کی کمی کو خواتین کےایک اہم مسئلہ کےطور پر بیان کیا نیز اپنےمعاشرےمیں عورت کی حیثیت اور انہیں پیش آمدہ مسائل پر روشنی ڈالی۔ انہوںنےانسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کا شکریہ ادا کیا اور یہاںکےاسٹاف کےدوستانہ رویہ کو سراہتےہوئےامید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ان کےساتھ مل کر کام کرنا خوشگوار تجربہ ہو گا۔
wcc1 انسٹی ٹیوٹ کےڈائر یکٹر جنرل جناب خالد رحمٰن نےاس موقع پر دلی مُسرت کا اظہار کرتےہوئےکہا کہ وہ اسلام آباد خواتین چیمبر کی کوشش کو قدر کی نگاہ سےدیکھتےہیں۔ انہوں نےکہا کہ خواتین کا اپنےکاروبار کو اپنی مدد آپ کےتحت منظم کرنا اور خواتین چیمبر کا اس کام میں اُن سےتعاون کرنا ایک اہم پیش رفت ہےجس کی اہمیت سےانکار ممکن نہیں۔ انہوںنےاُمید ظاہر کی کہ اسلام آباد کا خواتین چیمبر آف کامرس دیگر چیمبرز کےلیےرول ماڈل کا کردار ادا کرے گا۔ انہوںنےوضاحت کی کہ انسٹی ٹیوٹ "نفع کےحصول سےماوراء" تنظیم ہے، اس کا تجارت سے وابستہ ایک تنظیم کےساتھ اشتراک دراصل اعلیٰ مقصد کی حمایت کےلیےہے۔ انہوںنے"تحقیق و ترقی" کےکام پر زور دیا اور کہا کہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک نےتحقیق و ترقی کےکام کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ انہوںنےکہا کہ خواتین چیمبر کےلیےتحقیق اور تربیت کی سہولیات فراہم کرنےمیںہمارا ادارہ خوشی محسوس کرےگا۔ انہوںنےبتایا کہ پہلےقدم کےطور پر دونوںاداروں سےدو دو افراد نامزد کیےجائیں گےجو آئندہ کےاقدامات تجویز کریں گے۔ جناب خالد رحمٰن نےمحترمہ ثمینہ فاضل کو دونوں اداروں کےدرمیان نئےتعلق کےقیام پر مبارک باد پیش کی۔

 
پاکستان میں دہشت گردی کا نیا سلسلہ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
کانفرنس
خالد رحمٰندسمبر 2009ء کا پہلا ہفتہ پاکستانی عوام کےلیےایک بدقسمت وقت تھا کہ بڑےشہروںمیں دہشت گردی کےسلسلہ واقعات نےان کی تکالیف اور دکھوں میںمزید اضافہ کر دیا۔ بےگناہ عوام کی بڑی تعداد اُن خودکش حملوں کا نشانہ بن گئی جو اب سرکاری اداروں کےساتھ ساتھ مساجد اور بازاروں کو بھی اپنا ہدف بنا چکےہیں۔ ایک جانب یہ واقعات لوگوں کےدرمیان عدمِ تحفظ کےاحساسات میں اضافہ کرتے اور دوسری جانب اُن نادیدہ قوتوں اور اُن کےمقاصد کےبارےمیں ذہنوں میں سوالات ابھارتےہیں جو ملک میںعدمِ استحکام پیدا کرنےکی ذمہ دار ہیں۔ ساتھ ہی لوگ اس صورتِ حال سےباہر نکلنا چاہتےہیں۔
ان حالات پر انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کےڈائریکٹر جنرل جناب خالد رحمٰن کا تبصرہ اور تجزیہ جو انہوں نے8دسمبر2009ء کو دبئی ٹی وی اور ریڈیو اسلام جنوبی افریقہ پر پیش کیا،صورتِ حال کو سمجھنےمیںمدد دیتا ہے۔ سماعت کیجیے:
 
پاکستانی جامعات میں عورت اور صنف کا مطالعہ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
کانفرنس

 

معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر ایس ایم زمان کی زیر صدارت سپیشل گروپ آن جینڈر سٹڈیز کےزیر اہتمام گول میز کانفرنس میں انسٹی آف پالیسی اسٹڈیز کےڈائریکٹر جنرل جناب خالد رحمان نےبحث کا آ غاز کرتےہوئےکہا کہ سپیشل گروپ آن جینڈر اسٹڈیز  کےتحت ہو نےوالی اس تما م بحث کا مدعا صنف سےمتعلق بحث کو ملکی اقدار کےتناظر میںمعاشرتی رویوں اور ضروریات کو مد نظر رکھتےہوئےسمجھنا اور انہیں آگےبڑھانا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
«شروعپیچھے123456789آگےآخر»