عالمی مسابقت: مروجہ عالمی نظام کو للکارنے کی ضرورت چھاپیے
کانفرنس

01’’چین کی نئی اصلاحات اور چینی کمیونسٹ پارٹی کا کردار‘‘ کے موضوع پر بیجنگ چین میں منعقدہ کانفرنس میں آئی پی ایس اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل جناب خالد رحمن نے اپنا مقالہ پیش کیا۔

 ’’چین کی نئی اصلاحات اور چینی کمیونسٹ پارٹی کا کردار‘‘ کے موضوع پر بیجنگ چین میں منعقدہ کانفرنس میں آئی پی ایس اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل جناب خالد رحمن نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ مقالہ کا عنوان تھا:
صفر نتیجہ کی حامل مسابقت اور بدلتی دنیا میں چین کا کردار
’’آج کل کاروباری، سیاسی اور جنگی میدانوں کے شہسوار زمینی احوال اور انسانی دماغوں کو دور ہی سے متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس غرض سے وہ لوگوں کے شعور و ادراک اور تصورات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں خواہ یہ مقاصد اخلاقی و قانونی اعتبار سے جائز ہوں یا ناجائز۔ چنانچہ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ باہمی تصادم اور رسہ کشی کے واقعات کی تعداد اور شدت میں بالعموم اضافہ ہو رہا ہے، پھر بھی ان اختلافات کو دلکش استعاروں اور دلفریب نعروں سے جواز فراہم کیا جاتا ہے اور یوں دور بیٹھے ہوئے طاقتور کھلاڑیوں کے مفادات کی مکمل حفاظت کی جاتی ہے۔ اس حقیقت کا اظہار اس توجہ اور اہمیت سے بھی ہوتا ہے جو سرکاری سفارت کاری اور لابنگ کرنے والی تنظیموں کو حاصل ہے۔‘‘
یہ اُس مقالہ کا بنیادی خیال ہے جو آئی پی ایس اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل جناب خالد رحمن نے چین کے شہر بیجنگ میں مورخہ ۳ تا ۵ ستمبر ۲۰۱۴ء منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں پڑھا۔ یہ کانفرنس ’’چین کے مرکز برائے مطالعہ عصری دنیا‘‘ (CCCWS) اور ’’چائنا فائونڈیشن برائے امن و ترقی‘‘ (CEPD) کے باہمی تعاون سے منعقد کی گئی۔ کانفرنس کا عنوان تھا:
’’چینی کمیونسٹ پارٹی اور عالمی مکالمہ - ۲۰۱۴ء‘‘
اور کانفرنس کا بنیادی خیال ’چین کی نئی اصلاحات اور چینی کمیونسٹ پارٹی کا کردار‘ تھا۔ مکالمہ کا ارتکاز چینی اصلاحات کے نئے دور پر رہا۔ اس موقع پر چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بزرگ مرکزی اور مقامی عہدیداران، چین اور باقی دنیا کے اہل فکر و دانش، کمیونسٹ پارٹی اور ملک چین کے موضوعات پر گہرا مطالعہ رکھنے والے لوگوں کو جمع کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس کا مقصد خود چین اور دنیا بھر کے اہلِ فکرو دانش کے مابین بے لاگ، گہرا اور تعمیری تبادلۂ خیالات تھا۔ اس مکالمہ اور تبادلۂ خیالات میں کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی قیادت، مختلف سطحوں پر فیصلہ سازی کے عمل میں شریک قائدین اور اصلاحات کے نفاذ میں معاونت کرنے والے کارکنان کو بھی شرکت کا موقع فراہم کیا گیا۔


انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل جناب خالد رحمن نے اپنے مقالہ میں کہا کہ ہم ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں غلبہ و استیلا کے حصول اور دوام کی کاوش محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ یہاں حرف و حکایت (بیانیوں) پر بھی گرفت رکھی جاتی ہے تاکہ اپنی عالمگیر حیثیت و برتری کو قائم بھی رکھا جائے اور مزید مستحکم بھی کیا جائے۔ اس کے لیے اپنے اپنے ملکوں کے اندر اور باہر رائے عامہ کی تشکیل اور اطمینان کا سامان فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کام کے پیش نظر اپنے موقف اور حکمت عملی کی صحت کے دلائل اور جواز فراہم کیے جاتے ہیں اور اپنے مطلوبہ عملی مقاصد کا حصول ممکن بنایا جاتا ہے۔

نتیجتاً آج کی کشمکش، ذرائع ابلاغ کی کشمکش (Media War) کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ اس کشمکش میں دانشور اور دانش کدے، خدمتِ خلق اور مصیبت زدوں کی دستگیری کرنے والے ادارے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ حرف و حکایت اور بیانیے کی جنگ (War of Narratives) ہے۔ پورا عالم میدانِ جنگ ہے۔ یہاں کسی طاقت کی کامیابی کا انحصار انسانی فکر کو متاثر کرنے اور مختلف امور پر آراء تشکیل دینے کی اس کی مخفی و امکانی قوتوں اور ان کے حکیمانہ استعمال پر ہے۔
جناب خالد رحمن کی رائے میں ماضی قریب کے تصادموں اور لڑائیوں کی بنیادی وجہ معاشی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ تصادموں کے اس غیر صحت مند ماحول کا اثر دنیا کے نظام حکمرانی اور حکومت سے متعلقہ اداروں پر بھی ہوا ہے۔ اب عالمی ادارے، خاص طور پر اقوام متحدہ، جنگ اور قوانینِ جنگ نیز انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور حکومتیں عملاً غیراہم ہوتی جارہی ہیں۔ بدقسمتی سے یہ ادارے اپنا کردار کامیابی سے ادا نہیں کر سکے۔
لڑائیوں اور اختلافات کو حل کرنا ہو یا جنگوں کو روکنا ہو، اکثر صورتوں میں طاقتور کھلاڑی ان اداروں کو اپنے حق میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی شکل میں جو کچھ صدیوں کی کاوش کے نتیجے میں حاصل کیا تھا وہ یک رُخی فکر اور ’مدافعانہ حملوں کے نظریہ‘ کے سبب ضائع ہو گیا ہے۔ قومی مفادات کے نام پر قوت اور چودھراہٹ کی سیاست جاری ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے سلامتی کونسل جیسے ادارے اپنا کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ جبکہ دوسری طرف غیر ریاستی عاملوں کے کردار میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔
جناب خالد رحمن کا خیال تھا کہ یہ منظر نامہ چین کے لیے دو مختلف و متضاد امکانات کا حامل ہے:
ایک یہ کہ چین موجودہ عالمی نظام کے محافظ کا کردار ادا کرے۔ اس لیے کہ اس نظام میں چین کے مفادات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور وہ خود اس نظام سے فائدہ اٹھا نے کی پوزیشن میں آچکا ہے۔
دوسرے یہ کہ وہ مستعد شریک کار کا کردار ادا کرے۔ اس کے لیے چین کو موجودہ نظام کی جڑوں اور بنیادوں کو نشانہ بنانا ہو گا۔ مقابلے کے اصولوں اور قوانین کو بدلنا ہو گا۔ چین کو جس چیلنج کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے تناظر اور عمل کو متوازن بنائے اور تصادم سے گریز کرے۔
جناب خالد رحمن نے تجویز کیا کہ چینی قیادت کو جارحانہ عملی منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور درج ذیل امور پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے:
l    اپنے عوام اور بقیہ انسانیت کے مفاد میں ملک کے اندر بھی اور باہر بھی ایک ایسی فضا تشکیل دی جائے اور اسے فروغ دیا جائے جس میں ہر کسی کے لیے صحت مند مقابلہ ممکن ہو جائے۔
l    عملیت کے فلسفہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو موافق و مناسب ترقی کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ عدم مساوات، بدعنوانی اور بددیانتی کے جو مسائل درپیش ہیں ان سے نمٹا جا سکے۔
معاشرے کی یہ خرابیاں اخلاقی معیارات پر برا اثر ڈال رہی ہیں اور اقدار کے ڈھانچوں کو بدل رہی ہیں۔ اس لیے کہ اخلاقی قدروں کی عدم موجودگی میں اکیلے تعزیری و تادیبی قوانین جرائم کی پیش بندی نہیں کر سکتے۔

l    ایک متبادل تناظر اور فلسفہ فراہم کیا جائے اور رائے عامہ کی تشکیل اور تبدیلی پر توجہ دی جائے تاکہ لوگوں کے شعور و آگہی میں اضافہ ہو اور مختلف قومی عنوانات پر اتفاقِ رائے پیدا ہو۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر عالمی میڈیا اور فکری مکالموں میں مضبوط شرکت اور موجودگی ضروری ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ عالمی امور میں مؤثر رائے کا اظہار ممکن ہو سکے گا۔
l    اس کے ساتھ ساتھ تصادم سے گریز بھی ضروری ہے تاکہ عالمی امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اور مقابلہ کی نوعیت تبدیل ہو جائے۔ مقابلہ انسانی بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی شکل اختیار کر جائے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر، مقاصد اور اصولوں کی علمبرداری کی جائے۔ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا لحاظ رکھا جائے۔
l    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جیسے اداروں میں بھرپور کردار ادا کیا جائے تاکہ یہ ادارے صحیح معنوں میں نمائندہ کردار ادا کر سکیں اور سلگتے مسائل کا حل ڈھونڈ سکیں۔ اپنی قومی ترقی کے تجربے کو دوسرے کے سامنے پیش کرنے میں سست روی کا مظاہرہ نہ کیا جائے تاکہ باقی ترقی پذیر اقوام بھی چین کے علم و فن، ٹیکنالوجی اور ہنر سے فائدہ اٹھا سکیں۔