چینی صدر کا دورہ ہندوستان چھاپیے ای میل

تحریر: خالد رحمٰن

جنوبی  ایشیا کے تین ملکی دورے میں سے چینی صدرشی کاپاکستان کا دورہ ملتوی ہوگیا ہے بلاشبہ یہ پاکستان کے داخلی حالات کی بناء پر ہے تاہم اطمینان کی بات یہ ہے کہ التواء کے اعلامیہ میں دونوں ملکوں کی جانب سے ہی یہ واضح کردیا گیا ہے کہ دورہ کی نئی تاریخوں کے بارے میں بات چیت ہورہی ہے اور جلد ہی اعلان کردیاجائے گا۔ پاکستان کے دورہ کے التواء کے باوجود ہندوستان کا دورہ اپنے شیڈول کے مطابق منعقد ہورہا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آج سے چند سال قبل پاکستان کوچھوڑ کر چینی صدر کے ہندوستان کے دورہ کو ایک غیرمعمولی خبر قرار دیاجاتااور شاید کچھ لوگوں کے لیے اب بھی ایساہی ہو لیکن باخبرحلقوں کے لیے اب ایسا نہیں ہے۔ ایک سال قبل ہی چینی وزیراعظم نے اپنے پہلے بیرونی دورہ کے لیے ہندوستان کا انتخاب کیاتھا اور وہ اس کے بعد پاکستان آئے تھے۔ درحقیقت گزشتہ دودہائیوں کے دوران خطہ کے حالات، عالمی منظرنامہ اور چین میں اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت بین الاقوامی تعلقات میں جس نوعیت کی تبدیلیاں آتی رہی ہیں اس میں اب اس بات کی کوئی غیرمعمولی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔

ایسا نہیں کہ ملکوں کے درمیان تنازعات کاخاتمہ ہوگیا ہویاتنازعات کے حوالہ سے باہم قربت اور فیصلوں میں کوئی بڑی تبدیلی واقع ہوگئی ہو لیکن ایساضرور ہے کہ ماضی کے مقابلہ میں اب ملکوں کے درمیان ’دوست‘ اور ’دشمن‘ کی تفریق کی بجائے مشترکہ مفاد اور دلچسپی کی بنیاد پر ہرایک سے رابطہ اور تعلق کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ بلاشبہ اس رجحان کو آگے بڑھانے میں سرد جنگ کے خاتمہ اور گلوبلائزیشن کے بڑھتے ہوئے اثرات کے ساتھ ساتھ خودچینی قیادت نے ایک اہم کردار ادا کیاہے جو باہم ہم آہنگی اور  مشترکہ مفاد اورمنزل جیسے تصورات پرمسلسل زوردے رہی ہے۔


اس مجموعی تناظرمیں سائوتھ ایشیا کے ملکوں، بالخصوص ہندوستان، کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات جہاں اقتصادی دائرے میں دوطرفہ بہتری کے امکانات کے عکاس ہیں وہیں یہ موقع بھی فراہم کرتے ہیں کہ خطہ میں مجموعی طور پر -- تنازعات کے باوجود-- دوطرفہ اہداف کے حصول کے لیے اقدامات کی راہ ہموار ہوسکے۔ درحقیقت جنوبی ایشیا میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمی ایک نوعیت کا توازن فراہم کرتی ہے جہاں ہندوستان کا’غیرمعمولی سائز‘ ایک مستقل عدم توازن کا باعث ہے اورجو سارک کے تعطل میں بھی ایک وجہ بنا رہا ہے۔ سارک میں اگرچہ چین کی حیثیت ایک مبصر کی ہے لیکن ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی صورت میں مستقبل میں یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ علاقائی تعاون کی یہ تنظیم اپنے حقیقی امکانات کے مطابق آگے بڑھ سکے۔

صدرشی کے ہندوستان کے دورے کی اہمیت اس تناظرمیں بہت زیادہ ہے کہ آئندہ چند سالوں کے دوران چین کی قیادت ان ہی کے پاس رہنی ہے۔جبکہ دوسری جانب ہندوستان میں مودی کو اقتدار سنبھالے بھی ابھی چند مہینے ہی ہوئے ہیں اور مودی نے بھی کم ازکم پانچ سال تو اقتدار میں رہناہی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ چین کی دلچسپی کامرکز ’اکنامی‘ ہے اور دوسری جانب ’مودی‘ کی انتخابی مہم کابھی یہی مرکزی عنوان رہاہے۔ ایسے میں دونوں اطراف سے اقتصادی دائرے میں دی جانے والی توجہ کے اثرات کوسمجھنا مشکل نہیں ہے۔


چین اور ہندوستان کے درمیان بڑھتاہوا اقتصادی تعاون پاکستان کے لیے ایک طرح سے کچھ نئے مواقع بھی پیدا کرتا ہے تاہم کامیابی کا انحصار اس امر پرہے کہ پاکستان ان مواقع کوکس طرح استعمال کرتا ہے۔ مثلاً پاک چین اکنامک کاریڈور اگرچہ بنیادی طور پر ایک دوطرفہ منصوبہ ہے لیکن اگر اسے چین کے سلک روڈ تصور کے ساتھ ملاکر دیکھا جائے تو یہ ہندوستان کی ایک وسیع مارکیٹ اور یوں تینوں ملکوں کے درمیان بہت سے مشترکہ مفادات کو باہم جوڑ دیتا ہے ۔ یہی صورت افغانستان کی بھی ہے جہاں علاقائی ممالک کی جانب سے کسی مشترکہ حکمت عملی کے فقدان نے خطہ سے باہر کی مداخلت کی راہ ہموار کی ۔ لیکن اب ۲۰۱۴کے امریکی اورناٹو افواج کی بڑی تعداد میں واپسی پر عمل درآمد کی صورت میںخطہ میں باہم تعاون کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔


 اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں عوام اور حکومت دونوں سطح پر چین کے حوالہ سے اعتماد کی جو بلند سطح پائی جاتی ہے اگر اس کے ساتھ ساتھ چین اور ہندوستان میں رابطوں میں کسی قدر بہتری آئے گی تو افغانستان میں چین کی شمولیت کے ساتھ کسی بہتر میکنزم کی جانب پیش قدمی کی جاسکتی ہے کیونکہ موجودہ صورت میں امریکہ اور اس کی پالیسیوں کے حوالہ سے جو بداعتمادی پاکستانی عوام میں پائی جاتی ہے اس میں ایسے کسی بھی امکان کو جو افغانستان میں بھارت کے کردار کوآگے بڑھاتا ہو پاکستان کی جانب سے قبول کرنے کا امکان نہیں ہے۔


 ٹیررازم اورWoT یوں تو ایک گلوبل مسئلہ کے طور پر گزشتہ دہائی کے دوران نمایاں ہوا ہے لیکن اس خطہ میں اس کی اہمیت کے نمایاں اسباب موجود ہیں۔ شنجیانگ میں گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران ہونے والے تشدد کے پے درپے واقعات نے اس حوالہ سے پاکستان اور چین کے درمیان رابطوںاور تعاون کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اور چین ایسے مشکل معاملات پربھی باہم اعتماد کے ساتھ بات چیت کرسکتے ہیں۔ یہ صورت حال پاکستان اورہندوستان کے درمیان اس طرح نہیں ہے۔ دہشت گردی کو یوں تو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں قراردیاجاسکتا تاہم اس ضمن میں سیاسی طورپرتصفیہ طلب معاملات کواگرنظرانداز کیا جاتا رہے تو اس کے مکمل خاتمہ کے امکانات موجود نہیں۔


چین اور بھارت کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات جہاں مستقبل میں کسی وقت ان کے لیے اپنے سرحدی تنازعات کوحل کرنے میں اثراندازہوسکتے ہیں وہیں کسی قدر لمبے عرصہ میں یہ گنجائش بھی موجود ہے کہ پاکستان اور ہندوسان کے درمیان اگر مسائل کوحل کرنے میں نہیں تو تنائو کو کم کرنے میں چین کوئی کردار ادا کرسکے۔ ایساماضی میں ہوبھی چکا ہے اور مستقبل میں بھی ہوگا۔


چین اور ہندوستان کے درمیان اقتصادی دائرہ میں تعلقات جس قدربھی آگے بڑھیں ، سیاسی دائرہ میں موجود الجھنیں وسیع ترتعلقات پراثرانداز ہوتی رہیں گی۔ باہم سرحدی تنازعات کے ساتھ ساتھ چین کے حوالہ سے امریکہ بھارت تعاون اوربالخصوص بحرہند اور جنوبی چین کے سمندروں میں ان کی مشترکہ حکمت عملی اور جاپان کی طرف ہندوستان کاجھکائو ، وہ عنوانات ہیں جنہیں بیجنگ کے لیے نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے۔

تاریخ: ۱۵ ستمبر ۲۰۱۴ ء