صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - نئی مطبوعات آج نہیں، تو کبھی نہیں Now or Never سستی، کاہلی اور تن آسانی تعارف، وجوہات اور علاج English
آج نہیں، تو کبھی نہیں Now or Never سستی، کاہلی اور تن آسانی تعارف، وجوہات اور علاج چھاپیے ای میل
aaj nahi to kabhi nahi
محمد بشیر جمعہ
ایڈیشن: 2015
آئی ایس بی این: 978-969-448-141-8
صفحات: 78
جلد: غیر مجلد
 قیمت:

 پاکستان میں 125 روپے

تعارف

کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ نے ایک کام کرنے کا مستحکم ارادہ کیا ہو اور مکمل منصوبہ بندی بھی کر لی ہو مگر عمل درآمد میں تھوڑی سی تاخیر کی وجہ سے کسی اور فرد نے یہ کام آپ سے پہلے کر لیا ہو؟

ہم اپنی کاہلی اور سستی یا ٹالنے کی عادت کی وجہ سے زندگی میں مالی نقصان اٹھاتے ہیں، دوستوں اور خیر خواہوں سے تعلقات خراب کر لیتے ہیں، افسران کی ناراضی مول لیتے ہیں، اعتماد اور عزت کھو دیتے ہیں، رشتے داروں کے ساتھ تنازعات پیدا ہو جاتے ہیں، حادثات اور تکالیف کا شکار ہو جاتے ہیں، اہل خانہ کو ناراض کر دیتے ہیں، اور خود ان تمام حالات کے باعث ایک شکست خوردہ شخصیت بن جاتے ہیں۔
 اپنی مدد آپ یا ’سیلف ہیلپ‘ کی کتابوں کی طرز پر لکھی گئی یہ کتاب مختصر تجاویز، حکایات، عملی منصوبہ جات سے مزین ایک ورک بک ہے جو کہ تساہل کی کئی بنیادی وجوہات پر نہ صرف روشنی ڈالتی ہے بلکہ اس سے نبرد آزما ہونے کے طریقے بھی بتاتی ہے ۔

مصنف کا تعارف

اس کتاب کے مصنف محمد بشیر جمعہ پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہیں۔ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹنٹس پاکستان سے ۱۹۸۰ء میں سی اے کیا۔ وہ ایک فرم فورڈ رہوڈز سیدات حیدر اینڈ کمپنی (ارنسٹ اینڈ ینگ کی ممبر فرم) میں پارٹنر ہیں۔ یہاں ان کی وابستگی ۱۹۸۶ء سے ہے۔ آڈیٹر کی حیثیت سے اکائونٹنگ فرمز میں کام کرتے ہوئے محمد بشیر جمعہ کو متعدد اور متنوع، چھوٹی اور بڑی؛ پرائیویٹ اور پبلک نیز ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام اور افراد کار کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

انہوں نے روزنامہ جنگ کے جمعہ ایڈیشن میں ۱۹۸۹ء سے لکھنے کا آغاز کیا۔ بعد میں ان مضامین پر مبنی مختصر گفتگو کا پروگرام ریڈیو پاکستان کے قومی پروگرام ’’صبح پاکستان‘‘ میں تقریباً ایک سال تک جاری رہا۔ ۲۰۰۵ء میں اے آر وائی نیوزچینل کے لیے انہوں نے ۱۵ لیکچرز دیے، جو اس چینل نے تین بار نشر کیے۔ وہ بہت سے اداروں اور تنظیموں میں پیشہ ورانہ تربیت کے موضوعات پر لیکچر دیتے رہے ہیں۔ ان کی دیگر کتابوں میں  ’شاہراہِ زندگی پر کامیابی کا سفر‘،  ’شاہراہِ روزگار پر کامیابی کا سفر‘،  ’شاہراہِ عافیت‘،  ’مؤثر شخصیت‘،  ’منظم، مؤثر اور مستعد مسلمان‘،  ’ترقی اور کامیابی بذریعہ تنظیم وقت‘،  ’وقت اور زندگی کی تنظیم‘،  ’وقت کا بہتر استعمال‘،  ’مطالعہ اور امتحان کی تیاری‘  شامل ہیں۔