پاکستان میں سزائےمو ت ختم ہو یا برقرار رہے؟ چھاپیے

سزائے مو ت کےحوالےسےاگرچہ ہر تہذیب ،معاشرےاور ملک میںرائےعقیدہ اور تاثر کےحوالےسےبہت تفاوت اورتقسیم موجود ہےتاہم ا سکی تنسیخ کی تحریک کو اقوام متحدہ کی سر پرستی حاصل ہےاور دنیا کےدوتہائی سےزائد ممالک تنسیخ کےاس عمل کی توثیق کر چکےہیں۔ پاکستان میں 2008 ء میںپیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کےقیا م کےبعد سےسزائےموت کی تنسیخ یا کم ازکم اس میںترمیم کی بحث جاری ہےاور اب یہ موضوع پارلیمنٹ کےساتھ ساتھ قومی پریس کےبعض حلقوںمیںتواتر کےساتھ آ رہا ہے۔ ۔تنسیخ کی یہ تحریک مغرب کی مخصوص تاریخی اور سماجی ترقی کا نتیجہ ہے۔  سزائےموت کےبارےمیں مختلف عالمی جائزوںاور عالمی فورموں پر بحث کےنتیجے میں سامنےآنے والی رائےکےمطابق یہ بات باآ سانی کہی جا سکتی ہےکہ دنیا اس تنسیخ کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ انسانی حق کی کےطور پر دیکھنےکےلئےتیا ر نہیں ۔مسلمان ممالک اور عام مسلما ن نظریاتی بنیاد پر اس تصور کی مخالفت کرتےہیں۔پاکستان کو سزائےموت سےمتعلق اپنے قوانین اور انکےطریقہ تنفیذ کا ازسر نو جائزہ لینا چاہیےکیونکہ کسی بھی قانون کی یکدم تنسیخ یا کسی بھی مروجہ قانون کومکمل طور پر ترک کرنا غیر دستوری اور غیر مقبول طرز عمل ہو گا۔

Should Pakistan Abolish or Retain Capital Punishment?