صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - میڈیا کنٹریبیوشن اسلامی بنکار سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط English
اسلامی بنکار سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط چھاپیے ای میل
ibanker1   ipslead

 برطانیہ میں قائم ادارے اسلامی بنکار (www.islamicbanker.com) اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد (www.ips.org.pk) کے درمیان، اس کے لرننگ، ایکسی لنس اینڈ ڈویلپمنٹ پروگرام (IPS-LEAD) ، کے تحت مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ روزگار کے مواقع کو فروغ دینے اور کاروبار اور مالیات کے اسلامی موڈ کے ذریعے اقتصادی ترقی کی حمایت کرتے ہوئے بین الاقوامی کوششوں میں تعاون اور فروغ کا ایک فریم ورک طے کیا جائے۔

دونوں ادارے مسلم ممالک میں مارکیٹ کی ترقی کو وسیع کرنے کے لیے بھی باہم تعاون کریں گے۔ اس ضمن میں کارپوریٹ گورننس میں بہترین طرز عمل، اخلاقی معیارات اور سماجی طور پر ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کو فروغ دینا شامل ہے۔

دونوں اداروں کا یہ باہمی تعاون تین کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز کرے گا یعنی: (۱)  علم و آگہی میں حصہ داری، (۲)  تربیت اور ترقی اور (۳)  بہتر طرز عمل کا فروغ۔ ان اہداف کے حصول کے لیے اسلامی مالیاتی اداروں اور مسلم ممالک (OIC) کے علمی و تحقیقی اداروں کے نیٹ ورک کا فروغ، طلبہ اور پروفیشنل افراد کی تربیت اور ترقی کے لیے نئے جدت پسند تربیتی طریقے وضع کرنا اور اسلامی مالیات میں ہونے والی ترقی کے تجربات سے سیکھنے کے عمل کا فروغ اہم سرگرمیاں ہوں گی۔

اسلامی بنکار کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر شکیب ثقلین نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں اندازہ ہے کہ او آئی سی ریجن کے نوجوانوں میں بے روزگاری سب سے زیادہ ہے۔ یہ بات ہمیں پروفیشنل تربیت اور ترقی کے امور میں کام کی فوری ضرورت کا احساس دلاتی ہے۔ مفاہمت کی یادداشت ہمیں اسلامی مالیات کی صنعت کے کھلاڑیوں سے قریبی تعاون اور تعلق پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ریجن کو درپیش چیلنج سے عہدہ برآ ہونے کی راہ دکھاتی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمن نے اس مفاہمت کو امید افزا اور اہم قدم قرار دیا جو اسلامی مالیاتی صنعت کے فروغ کا ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی بنک کاری نظام موجودہ نظام کا قابل عمل متبادل ماڈل بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور یہ موروثی اقتصادی چیلنجوں کا بہترین حل فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی پی ایس کے ۳۵ سال سے زائد عرصے پر پھیلے ہوئے علمی کام میں شراکت داری کا یہ اقدام دنیا بھر میں اسلامی بنک کاری کے پیشہ ور افراد کے لیے ایک انمول خزانے کا کام کرے گا۔