صفحہ اول تحقیق - مضامین تعارف: مشرقِ وسطیٰ نمبر English
تعارف: مشرقِ وسطیٰ نمبر چھاپیے ای میل
تحریر ڈاکٹر انیس احمد   

دورِ حاضر میں مشرقِ وسطیٰ کے داخلی اورخارجی امور میں امریکہ کا اثرو رسوخ اورکردار خاص اہمیت کا حامل ہے جسے خطے میںہونے والی امن کی کوششوں اورجنگ کے محرکات میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ خطے سے متعلق امریکہ کے تزویراتی مقاصد کو یوں ترتیب دیا جاسکتاہے: خطے میں موجود توانائی کے ذخائر اورتیل اورگیس کی ترسیل کی گزرگاہوں پر حقیقی یا معنو ی دسترس ؛ اسرائیل کی ایک یہودی ریاست کی حیثیت سے حفاظت اورتوسیع؛اورامریکی مفادات اورمقاصد کے لیے خطرہ بننے والی قوتوں کی راہ میں مزاحمت اوررکاوٹ پیدا کرنا۔فلسطین کے قضیہ میں تو امریکہ براہِ راست کردار اداکرتاہے لیکن دوسرے امور میں بھی امریکی اثرورسوخ ،جابجا مداخلت،براہِ راست عسکری امداد اورعلاقائی جھگڑوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ عمل دخل ایسے عوامل ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے نہایت اہم ہیں۔

گیارہ ستمبر کے واقعہ نے بلا شک و شبہ دنیا کی ارضی اورتزویراتی سیاست کی حقیقتوںکویکسر تبدیل کردیاہے۔ جس کے نتیجے میں امریکی عسکری طاقت کا کوڑا پہلے افغانستان اوراس کے بعد عراق پر برسا اورعلاقائی تنازعات کی انفرادیت کے نظریہ کو زمین بو س کردیا۔اس نئے عالمی نظام (یابدنظمی)کا مفہوم یہ ٹھہرا کہ فلسطین میں پیدا ہونے والے حالات،صومالیہ میں اٹھنے والی اسلامی عدالتی تحریک (اسلامی کورٹس موومنٹ)، ایران میں انقلاب پسندوں کی حکومت،وسط ایشیائی ریاستوں میں نظریاتی بنیاد پراٹھنے والی تحریکات اورپاک -افغان یا سعودی -یمن بارڈر پر عسکریت پسندوں کا دوبارہ سراٹھانا نہ صرف یہ کہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں بلکہ ان سب کا تعلق کسی نہ کسی درجہ میں’عالمی دہشت گردی‘اورنہ ختم ہونے والی ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘سے بھی ٹھہرا۔عالمگیریت کے اس نئے نظریہ نے پالیسی سازوں اورتجزیہ نگاروں سے لے کر رائے عامہ تخلیق کرنے والوں اورعوام الناس تک کے لیے داخلی ،مقامی یا علاقائی سطح پر پیدا ہونے والی صورت حال کو ان کی بظاہر نظر آنے والی حدود سے باہر نکل کردیکھنے ،تجزیہ کرنے اورسمجھنے کو ناگزیر بنادیاہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا میدان اصلاً مسلم دنیا میں چنا گیااوراس میںعظیم ترمشرقِ وسطیٰ کو مرکز بناتے ہوئے وسطی ایشیا ،جنوبی ایشیا اورشمالی افریقہ کو جنگ کی بربادیوںاورہولناک تباہیوںکی لپیٹ میں لیاگیاہے،ایسے میں مشرقِ وسطیٰ کے حالات و واقعات کو گہرائی میں سمجھنا شاید کبھی اتنا ضروری محسوس نہیں ہوتا تھاجتنا کہ آج اس کی اہمیت ہے۔اس منظرنامے میں ’آزادی‘ کے نام پراقدامی حملوں(Preemptive Strike) کے حق کا دعویٰ’انصاف‘قائم کرنے کے نام پر صرف شبہ کی بنیاد پر ماورائے عدالت اغوا،قید،تشدداور قتل جیسے اقدامات؛اورجمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے* ’دہشت گرد تنظیموں‘ کے رہنمائوں اورکارکنوں کو’جمہوریت ‘پھیلانے کے لیے ’غیر جمہوری طریقوں‘ سے روکنا گویا کہ دعوت دیتاہے کہ الفاظ کی دوہری معنویت کوخالصتاً تزویراتی ،سیاسی،اقتصادی و معاشی اورسامراجی نظام کی روشنی میں سمجھا جائے۔

درحقیقت دنیا میں پیش آنے والے مختلف واقعات کو ایک دوسرے سے جوڑ کر عالمی سیاست کا خاکہ بنانا اس لیے بھی ضروری ہوگیا ہے کہ عالمی طاقتوں کی طرف سے اپنائے جانے والے اصول مختلف علاقائی طاقتیں بھی اپنے اپنے دشمنوں کے خلاف خطے میں برجستہ استعمال کررہی ہیں۔ ۱۱ستمبر کے بعد خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں کئی مواقع پر اسرائیلی فوج نے فلسطین اورلبنان کے شہریوں کے خلاف طاقت کا اندھا استعمال اسی انداز اورشدت کے ساتھ کیا جیسے امریکہ نے اپنے تین ہزارکے لگ بھگ شہریوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے افغانستان اورعراق میںکیا۔دہشت گردی کے سدِّ باب کے نام پر کی جانے والی ان کارروائیوں میں ۱۰لاکھ سے زائد معصوم اور بے گناہ بچے،عورتیں اورمرد افغانستان اورعراق میں لقمۂ اجل بن چکے ہیں جبکہ اول الذکر میں ابھی تک خونریز جنگ جاری ہے۔

صدر اوباما کے انتخاب کے بعد کسی حد تک یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والے بارک حسین اوباما امریکہ کی طرف سے اپنائی جانے والی تشدد اورجنگ و جدل کی حکمت ِ عملی کو روکنے اورامن کے قیام میں موثر کردار ادا کریں گے۔بعض عالمی تجزیہ نگاروں کاخیال تھا کہ امریکہ اورمسلم دنیاکے تعلقات صدر اوباما کے فلسفۂ عملیت و معقولیت کے باعث نہ صرف بہترہوں گے بلکہ مشرق ِ وسطیٰ کے معاملے میں اعتماد اورتعاون کارشتہ قائم ہوگا جو قضیۂ فلسطین کے حل ، عراق میں قیامِ امن ،ایران کے ساتھ صلح جوئیانہ مذاکرات کے آغاز اورملکوں کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت کے خاتمے کا باعث بنے گا۔تاہم اوباما کے صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد العربیہ ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو اورقاہرہ میں مسلم دنیا سے خطاب سے اب تک دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجودنہ صرف بہت سے مسائل جوں کے توں رہے بلکہ بعض تومزید گھمبیر نوعیت اختیار کرچکے ہیں۔

ایسے میں افغانستان سے لے کر فلسطین تک،عظیم ترمشرقِ وسطیٰ کی صورت حال سے چند نہایت اہم سوال جنم لیتے ہیں مثلاًیہ کہ:امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی مفاد ات و مقاصد کیاہیں؟انہیں حاصل کرنے کے لیے امریکہ نے کیا پالیسیاں اختیار کیں اوران پالیسیوں کے خطے میں اورعالمی سطح پرکیا نتائج مرتب ہوئے؟کیا اوباما انتظامیہ کے دورِ حکومت میں امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی میں کوئی تبدیلی آنے کے امکانات ہیں؟کیا چین اوررو س مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہیں؟یورپی ممالک مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے کیا نقطۂ نظررکھتے ہیں اوران کا خطے کے مسائل میں کیا کردار ہے؟مسلم دنیا کے ساتھ معاملات کے نتیجے میں یورپی معاشروں پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟اسرائیلی رہنمائوں کی ہمہ وقت جنگ کے لیے تیاری کو سامنے رکھتے ہوئے اسرائیل کی خارجہ اوردفاعی پالیسیوں میں جنگ کی کیا اہمیت ہے؟ اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتِ حال مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر کیسے اثرانداز ہوگی؟ مغرب اوراسلام کے اس خصوصی شمارہ ’مشرقِ وسطیٰ ‘میں اسی نوعیت کے سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ شمارہ جن موضوعات کاخصوصی طورپر احاطہ کرتاہے ان میں: امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی؛مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے یورپی نقطۂ نظر ؛یورپ اورمسلمانوں کے باہمی تعلقات اوراسرائیلی پالیسیوں میںجنگ کا کردارشامل ہیں۔

اس شمارہ کا پہلا حصہ(مشرقِ وسطیٰ-چند اہم عوامل) خارجہ امور اورعالمی سیاست کے ماہرین سے کیے گئے انٹرویوز پر مبنی ہے جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے اہم اورحالیہ پیدا ہونے والے حالات کا جائزہ لینا ہے۔اس کے بعدتین مضامین میں مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں امریکی پالیسیوں کا مختلف پہلوئوں سے تاریخی جائزہ لیا گیا ہے نیز موجودہ امریکی انتظامیہ کے اعلانات اورعملی اقدامات کے تضادات کا جائزہ پیش کیا گیاہے۔ڈاکٹر ولفرائڈ ہوف مین نے تاریخی اعتبار سے مشرقِ وسطیٰ کو یورپ کے تناظر میں دکھانے کی کوشش کی ہے اورآخری مضمون میں اسرائیل کی جنگی نفسیات اورجنگی حکمتِ عملی کے ارتقاء کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے معاملات بلاشبہ پیچیدہ اورگھمبیر ہیں اوریہ شمارہ یقینا تمام مسائل کا احاطہ نہیںکرتا۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم مشرقِ وسطیٰ پر پیش کیے گئے تجزیات کی روشنی میں بحث کومستقبل میں بھی جاری رکھنے کاعزم رکھتے ہیں اورمزید کام کے لیے کمر بستہ ہیں۔

شمارہ میں شامل اکثرمضامین انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے انگریزی جریدے پالیسی پرسپیکٹیوز (جنوری -جون۲۰۱۰مئ)سے اخذ کیے گئے ہیں،چند نئی تحریریں بھی شامل ہیں۔اس موضوع پر زیادہ گہری تحقیقی نظر ڈالنے کے خواہش مند قارئین کتابیات اورمکمل حوالہ جات کے لیے اصل ماخذ سے رجوع کرسکتے ہیں۔

اس شمارہ میں شامل تمام مضامین کے مصنفین یا اظہارخیال کرنے والے کرم فرمائوں کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے۔نیز انگریزی کی تحریروں کو ترجمہ یا تلخیص کے ذریعے اُردو کے قالب میں ڈھالنے،ان کی تسوید و تدوین کرنے ،کمپوزنگ اورپروف خوانی وغیرہ کے مراحل سے گزار کر موجودہ شکل میں آپ تک پہنچانے کے لیے مختلف ساتھیوں نے اپنی بھرپور صلاحیت کااظہار کیا۔ان سب کے لیے بھی ہمارے دل میں احترام، احسان اورتشکر کے جذبات ہیں۔

ہمیں امید ہے کہ مغرب اوراسلام کا یہ خصوصی شمارہ دورِ حاضر کے مشرق وسطیٰ کو درپیش مسائل کے حل کی تلاش کے حوالے سے اہل حل و عقداوراہلِ علم کو مدد فراہم کرے گااورخطے کے معاملات پر جاری بحث میں مفید اضافہ ثابت ہوگا۔

(مدیران)