صفحہ اول مطبوعات - کتب پاکستان میں خواتین اور خاندان پر قانون سازی: رجحانات اور طرزِفکر English
پاکستان میں خواتین اور خاندان پر قانون سازی: رجحانات اور طرزِفکر چھاپیے ای میل

پاکستان میں خواتین اور خاندان پر قانون سازی: رجحانات اور طرزِفکرتالیف: خالد رحمان، ندیم فرحت
جلد بندی: غیر مجلد
صفحات:  ۲۰۵
ایڈیشن:  فروری ۲۰۱۴
قیمت: ۵۰۰ روپے (پاکستان میں)
  طابع: آئی پی ایس پریس

 

تعارف

’’پاکستان میں خواتین اور خاندان پر قانون سازی: رجحانات اور طرزِفکر‘‘  (Legislation on Women and Family in Pakistan: Trends and Approaches)  انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی ایک خصوصی ٹاسک فورس کی تحقیق پر مبنی انگریزی کتاب ہے۔

 یہ تحقیقی کام پاکستان میں خواتین اور خاندان سے متعلقہ شعبوں پر ہونے والی قانون سازی پر مبنی ہے۔ اس میں تفصیل سے ان بلوں، قوانین کے مسودوں اور آرڈی نینسوں پر بحث کی گئی ہے جو گذشتہ دورِ حکومت (۲۰۰۸۔۲۰۱۳) کے دوران پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے یا اسمبلی نے انہیں پاس کیا۔

  آئی پی ایس کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمن اور سینئر تحقیق کار ندیم فرحت کی ادارت میں تیار ہونے والی اس کتاب میں یہ تجاویز بھی دی گئی ہیں کہ خواتین اور خاندان سے متعلق مسائل کو کس نہج سے سمجھنے، ان کا احاطہ کرنے، انہیں جانچنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تفہیم و تشریح سے خواتین کے مرتبے، کردار اور حقوق جیسے حساس موضوعات سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بنیادی سماجی ادارے کا مقام و مرتبہ رکھنے والے ادارے یعنی خاندان کو مضبوط کرنے سے معاشرے کے ہر فرد کے باوقار مقام کو کس طرح یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

 اس کتاب میں پالیسی سازوں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی ہے کہ سماجی ڈھانچے کو کس طرح بہتر انداز سے سمجھنے کی ضرورت ہے اور کس طرح مقامی اقدار کے نظام کی اداراتی تشکیل ہی ایک پائیدار تبدیلی کا سبب بنے گی؟ یہ نتائج حاصل کرنے کے لیے اس پہلو پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کہ قانون سازی سے مسائل کے وہ حل تلاش کیے جائیں جنہیں معاشرے میں احترام اور وقار کا رتبہ ملے۔
اس تحقیقی کام میں جاگیردارانہ نظام کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے بنیادی سطح پر منصوبہ بندی مرتب کرنے کی تجویزبھی دی گئی ہے تاکہ ایک اچھے نظامِ حکومت اور تکثیری بین الاقوامی ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔