صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - کانفرنس ’ہندوتوا‘ پالیسیاں اور بھارت میں اقلیتوں کی صورتِ حال English
’ہندوتوا‘ پالیسیاں اور بھارت میں اقلیتوں کی صورتِ حال چھاپیے ای میل

 hindutva-policies-1

بھارت کی قیادت اور ریاستی اداروں نے سیکولرزم کو چھوڑ کر ”ہندوتوا“ کو بطور ریاستی نظریہ اپنا لیا ہے۔ چنانچہ بھارت میں کم تر ذات کے ہندوؤں اور سکھوں، مسلمانوں اور عیسائیوں جیسی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے اور انہیں ریاست کا کم ترین شہری سمجھا جاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا موضوع تھا ”ہندوتوا پالیسیاں اور بھارت میں اقلیتوں کی صورتِ حال“۔ 19فروری 2019ء کو منعقد ہونے والے اس ایک روزہ سیمینار کا انعقاد انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS) نے کیا تھا۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر شیریں مزاری کے علاوہ سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں پاکستانی دلت رہنما سینیٹر انجنیئر گیان چند، امریکہ سے آئے ہوئے پروفیسر ایکیس کلیٹزیڈس، برطانیہ سے پروفیسر نتاشہ کول، مقبوضہ کشمیر سے صحافی اور دانشور مرتضیٰ شبلی کے علاوہ ایمبیسیڈر (ریٹائرڈ) ضمیر اکرم، قائداعظم یونیورسٹی کے ڈاکٹر مجیب افضل، ایمبیسیڈر (ریٹائرڈ) جلیل عباس جیلانی، سابق وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر وقار مسعود، ایئرکموڈور (ریٹائرڈ) خالد اقبال اور ڈاکٹر عاصمہ خواجہ شامل تھیں۔ پاکستانی دلت دانشور ڈاکٹر سونوکھنگرانی کا مقالہ ان کے نمائندے صوفی حسین نے پیش کیا۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت میں اقلیتیں دہشت گردی کا شکار ہیں۔ ہندوتوا کی تحریک شدت پسند برہمنوں کی کھڑی کی ہوئی ہے جس کی بنیاد ذات پات پر ہے۔ مودی نے ہندوتوا قوتوں کو تحفظ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی ابتر صورتِ حال پاکستان کے لیے خصوصی طور پر تشویشناک ہے جہاں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو ایک مذہبی انتہا پسندی کا رنگ دے کر ہر اوچھے ہتھکنڈے سے دبایا جارہا ہے جبکہ یہ درحقیقت ان کی حق خود اختیاری کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر ایک مقبوضہ ریاست ہے چنانچہ خطے کے جغرافیے کو تبدیل کرنے کی کوششوں اور مقبوضہ کشمیر  میں اس وقت جاری جبرواستبداد جیسے تمام اقدامات کو جنگی جرائم کے زمرے میں دیکھا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے کردار پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی تیمور پر اقوام متحدہ کی قراردادیں اسی نوعیت کی تھیں جیسا کہ کشمیر پر ہیں تاہم کشمیر پر ان کے عمل درآمد کو محض اس لیے نظرانداز کیا گیا ہے کہ وہاں مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔

آئی پی ایس کے ایگزیکٹو پریزیڈنٹ خالد رحمٰن نے اس سے قبل اپنے افتتاحی خطاب میں سیمینار کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ بھارت کی موجودہ حکومت کے دور میں ’ہندوتوا‘ کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اس موضوع پر مطالعے کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ بھارتی حکومت کی طرف انتہا پسند قوتوں کی مدد کے لیے فراہم کی گئی ریاستی سرپرستی سارے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

ڈاکٹر مجیب افضل نے ہندوتوا کا پس منظر بیان کیا اور اس دباؤ اور عدم تحفظ پر روشنی ڈالی جو یہ نظریہ بھارت کے اندر پیدا کر رہا ہے جہاں مسلمانوں اور عیسائیوں جیسی اقلیتوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں کہ وہ ملک میں ہندوؤں کی بالادستی کو قبول کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال کو پیدا کرنے کا مقصد ملکی سرحدوں سے باہر بھی انتہاپسندی کے ان اثرات کو مرتب کرنا تھا۔

ایمبیسیڈر (ریٹائرڈ) ضمیر اکرم نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ ہندوستانی پالیسیوں کے پیچھے مقصد ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں دوسروں کے حقوق کو محروم کرتے ہوئے انتہاپسند ’ہندوتوا‘ نظریات کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا نظریات پر مبنی ریاست کو ایک ایسے مشترکہ دشمن کی ضرورت تھی جس کے خلاف ہندوؤں کی مختلف ذاتوں اور طبقات کی نفرت کو یکجا کیا جاسکے۔ اگرچہ تمام اقلیتیں اس بیمار ذہنیت کا شکار ہیں تاہم مسلمانوں کو مرکزی دشمن وضع کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ہندوستان کے اندر ان کے خلاف نفرت اور انتہا پسندی کا نمایاں فروغ دیکھنے کو آیا ہے۔

مرتضیٰ شبلی کی تقریر کا موضوع تھا ”ہندوتوا اور بھارت میں اقلیتوں کی صورتِ حال: درونِ خانہ ردعمل“۔ انہوں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ کسی ریاست کے اپنے مذہب یا نظریے کے اتباع میں مذہبی ہونے میں کوئی خرابی نہیں ہے لیکن مسئلہ اس وقت کھڑا ہوتا ہے جب یہ نظریہ ایسی پالیسیوں کو فروغ دینے لگ جائے جو اقلیتوں کے حقوق کی نگہبانی نہ کریں بلکہ حکومتی مفادات کا تحفظ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی راز کی بات نہیں رہی کہ ہندوتوا کا مقصد 2023ء تک بھارت کو ایک ہندو ملک بنانا ہے اور اس کے لیے جو حکمت عملی انہوں نے استعمال کر رکھی ہے وہ ہے رجوع، جہاد سے محبت اور گھر واپسی۔

ڈاکٹر وقار مسعود نے ’ہندوتوا کی سیاسی معیشت‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے ذہنوں میں ہندوتوا کے نظریات کو اجاگر کرنے اور انہیں ذہنی طور پر ان کا اسیر بنانے کے لیے اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں بھارت کی تاریخ کو تبدیل کرکے ازسرنو لکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گھر واپسی اور جہاد سے محبت وہ اصطلاحات ہیں جو مودی کے عہد میں متعارف ہوئی ہیں اور جن کا صاف صاف مطلب دیگر اقلیتوں کے مفادات کو دباتے ہوئے ہندو انتہا پسندی کے نظریے کو فروغ دینا ہے۔

ڈاکٹر نتاشہ کول نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہندوتوا ایک ثقافتی نظریہ ہے نہ کہ سیاسی۔ تاہم جب ثقافتی اکثریت ایک سیاسی اکثریت بن جاتی ہے تو اس سے مسائل جنم لیتے ہیں کیونکہ وہ اقتدار میں رہنے کے لیے اختیارات کی طاقت کا خواہاں ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمی میدان میں لوگ معیشت اور معاشرے کو علیحدہ علیحدہ خانوں میں رکھ کر پڑھتے ہیں جبکہ انہیں ایک ہی خانے میں رکھا جانا چاہیے کیونکہ معیشت اور سماجی تبدیلی دونوں ہی لوگوں پر مساویانہ اثرانداز ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر ایکیس کلیٹزیڈس نے ہندوتوا پالیسیوں پر دنیا کے ردعمل پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ہندوکمیونٹی اپنے آپ کو تنظیموں کی شکل میں ڈھال رہی ہے اور ان میں سے بعض تنظیمیں تو سیاست کے ساتھ ساتھ مذہبی پہلوؤں سے امریکہ کی خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہندوؤں کی یہ آبادیاں مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف ٹرمپ کی پالیسیوں کی پشت پناہی کرتی ہیں چنانچہ اس طرح کے اتحاد کے نتائج انتشار و بدنظمی کی صورت میں مسائل کی آماجگاہ بن رہے ہیں۔

ڈاکٹر صوفی حسین نے ڈاکٹر سونوکھنگرانی کی نمائندگی کرتے ہوئے جس موضوع پر بات کی اس کا عنوان تھا ”ہندوتوا اور اقلیتوں کی صورتحال: دلت نقطۂ نظر“۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا کی پالیسیاں واحد ہندو نظریے کو فروغ دینے پر مبنی تھیں جنہیں دلتوں پر بزور قوت نافذ کیا گیا جو کہ ہمیشہ سے ہندوؤں کے برتر و بالادست رویے کا نشانہ بنے رہے ہیں۔ دلتوں کو عام ہندوؤں کے نام پر ابھار کے بھارت محض اپنے مفادات کی خاطر ان کی زندگیوں اور شناخت کو قربان کر رہا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ بھارت کا آئین اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرتا ہے، ہندو فاشسٹوں سے بھرا ہوا ادارہ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے خلاف کوئی بھی قدم نہ اٹھا کر قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہوتا ہے۔

پروگرام کے اعلیٰ وقار مہمان سینیٹر گیان چند نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا کوئی حال ہی میں سامنے آنے والا نظریہ نہیں ہے۔ یہ دراصل آریہ سماج کی توسیع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت آریہ سماج کے قوانین کو ہندوستان میں رائج کرنا چاہتی ہے جنہوں نے ہمیشہ دلتوں اور بھارت میں غیرہندوؤں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر 18منٹ کے بعد دلتوں کے خلاف ایک جرم سرزد ہوتا ہے۔

آخری اجلاس کے صاحبِ صدر ایمبیسیڈر (ریٹائرڈ) جلیل عباس جیلانی نے دوسرے مقررین کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ہندوستانی قیادت کی سربراہی میں ہندوتوا کی نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھائے کہ آیا ہندوتوا فلسفہ بھارت کے حق میں اچھا ثابت ہو گا یا یہ ایک سماجی تفریق قائم کر دے گا؟ ہندوستان کے لیے ہندوتوا پالیسیوں کے اثرات کیا ہوں گے؟ اور اس طرح کے انتہاپسند فلسفے کے پاکستان بھارت تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

سابق سفیر نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صورتِ حال میں آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ بھارت کے اندر مختلف طبقات اور بھارت پاکستان کے درمیان ڈائیلاگ ہے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ایسے ماحول کی تخلیق کا باعث ہو گا جو خطے میں امن اور ہم آہنگی کا سبب بن سکے۔

سیمینار کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ اس میں آئی پی ایس پریس کی تازہ ترین کتاب ”ہندوتوا“ کی رونمائی بھی ہوئی جو پچھلے سال آئی پی ایس کے منعقد کردہ اسی طرح کے بین الاقوامی سیمینار میں اسی موضوع پر کی جانے والی تقاریر اور مقالوں کی ایک دستاویز ہے جس کی ادارت آئی پی ایس کے ایگزیکٹو پریزیڈنٹ خالد رحمٰن نے کی ہے۔ دورانِ سیمینار کتاب کی ایک کاپی ایئرکموڈور (ریٹائرڈ) خالد اقبال کی طرف سے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر شیریں مزاری کو پیش کی گئی۔