جنگ اور اسلام کا تصّورِجہاد چھاپیے ای میل
تحریر ڈاکٹر محمود احمد غازی   
فہرست مضامین
جنگ اور اسلام کا تصّورِجہاد
جنگ سے کیسے بچا جائے
طاقت کے استعمال کا جواز
مسلم اور غیر مسلم ریاستوں کے مابین تعلقات کی نوعیت
جہاد کا تصور
تبصرہ اور سوال جواب
تمام صفحات


[ڈاکٹر محمود احمد غازی(۱۹۵۰ء -۲۰۱۰ء) ایک معروف ماہرِ قانون اوربلند پایہ عالم تھے جنہوں نے جدید دور میں اسلامی شریعت کے حوالے سے جاری علمی مباحث میں اعلیٰ سطح پر اپنا حصہ ادا کیا۔ انگریزی، اردو اورعربی میں بین الاقوامی قانون، عدالتی امور اورعالمگیریت کے موضوعات پر ان کی تیس سے زائد تصانیف ہیں۔
زیر نظر مضمون اُن کی کتاب’’اسلام، بین الاقوامی قانون اورآج کی دنیا‘‘ سے لیا گیا ہے۔ یہ ان خطبات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں دیے۔ ان خطبات کا مقصد اُن سوالات کا جواب دینا تھا جو نائن الیون کے تناظر میں اسلام اورمسلمانوں کے بین الاقوامی کردار کے متعلق پیدا ہوگئے تھے اوراس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے سامنے خیالات کے نئے زاویے پیش کرنا بھی تھا جو کہ انسانیت کے مستقبل کے متعلق فکر مند ہیں۔ان کے یہ خطبات انگریزی زبان میں تھے اورسامعین میں اسلام آباد میں موجود مختلف ملکوں کے سفارت کار، اسکالرز اوربین الاقوامی قانون کے ماہرین شریک تھے۔ یہ کتاب آئی پی ایس کے اُردومجلّہ ’’ مغرب اوراسلام‘‘ کی خصوصی اشاعت کی حیثیت سے ۲۰۱۱ء میں شائع ہوئی۔]

’’کسی بین الاقوامی جنگی قانون کی کامیابی کو ماپنے کا صحیح ترین پیمانہ یہی ہوسکتاہے کہ دیکھا جائے کہ اس قانون نے طاقت کے استعمال کو کس حد تک روکا، منع کیا یا کم کیا ہےمحض نیک خواہشات کے اظہار، متاثر کن مثالی نمونے اورفصیح و بلیغ بیانات اوراعلانات کو کسی قانون کی کامیابی کو ماپنے کے لیے بہت زیادہ وزن نہیں دیا جاسکتا۔ ‘‘