صفحہ اول ایمانیات اور معاشرہ - اسلامی افکار عالمی معاشی بحران اور اسلامی معاشیات English
عالمی معاشی بحران اور اسلامی معاشیات چھاپیے ای میل
تحریر پروفیسرخورشیداحمد   
فہرست مضامین
عالمی معاشی بحران اور اسلامی معاشیات
عالمی معاشی بحران
بگاڑ کے اسباب
اسلامی معیشت اور اس کا کردار
اسلامی نظامِ معیشت کی بنیادیں
اسلامی اپروچ: نظری پہلو
اسلامی اپروچ: عملی پہلو
علماء کی ذمہ داریاں
سوال و جواب
تمام صفحات

 

اسلامی نظامِ معیشت کی بنیادیں
    جہاں تک میں نے غور کیا ہے، اس میں نو بنیادی چیزیں ہیں، جو اسلام کے معاشی تصور (paradigm) کی صورت گری کرتی ہیں، اور یہ سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں، ان میں سے کسی کو ایک دوسرے سے کاٹا نہیں جاسکتا۔

توحید: ان میں سے پہلی چیز ہے توحید۔ یعنی اﷲ کا واحد معبود کی حیثیت سے اقرار، اﷲ سے جڑنا، اﷲ کی حاکمیت کو قبول کرنا اور عبودیت کے راستے کو اختیار کرنا۔ یہ پہلی لازمی چیز ہے۔ اگر یہ نہ ہو، اﷲ سے کوئی باغی ہو، تو باقی چاہے وہ سود کو ختم بھی کردے، چاہے وہ اجتماعی فلاح اور تکافل کا کوئی نظام قائم بھی کردے، لیکن وہ اسلام کے نظام کا حصہ نہیں ہوگا۔ تو پہلی بنیادی چیز توحید ہے۔ اور توحید ہمیں زندگی کا جو تصور دیتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر چیز کا مالک اﷲ سبحانہٗ و تعالیٰ ہے۔ وہی خالق ہے، وہی حاکم ہے، اُسی کی طرف ہم نے پلٹنا ہے اور اُسی کی دی ہوئی رہنمائی دنیوی اور اُخروی فلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، نہ نفسِ انسانی، نہ کوئی ادارہ اور نہ کوئی اورمخلوق۔

ربوبیت: دوسری چیز ربّ کا صحیح تصور ہے ، توحید کے بعد جسے میں root causeکہتا ہوں۔ اس کی خاص اہمیت معاشی پہلو سے یہ ہے کہ اﷲ رب العالمین ہے، اور رب کے معنیٰ ہیں پالنہار کے۔ اُسی نے انسان اور کائنات کو پیدا کیا ہے، اور پیدا کرنے کے بعد وہ کہیں ریٹائر ہو کر بیٹھ نہیں گیا ہے بلکہ وہ اسے پروان چڑھا رہا ہے، وہ اس کی دیکھ بھال کررہا ہے،کائنات کے وجود میں اُس کا ارادہ شامل ہے، اور اُس نے ربوبیت کا ایک ایسا نظام قائم کیا ہے جس میں انسانوں کی تمام ضروریات ابد تک پوری کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اﷲ کے ودیعت کردہ ان وسائل کو ہم دریافت کریں، انہیں استعمال کریں۔ اگر یہ کام ہم نہیں کریں گے تو اﷲ کی ربوبیت کے نظام کے تقاضے پورے نہیں کرسکیں گے۔ لیکن ربوبیت اﷲ کی ہے۔ اس تصور کا نتیجہ یہ ہے کہ جس چیز کو مغربی معاشیات میں قلت (scarcity)کہاجاتا ہے، ہمارا وہ نقطۂ آغاز نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ربوبیت کی بناء پر انسانوں کی ہمیشہ کی ضروریات کے لیے تمام امکانات موجود ہیں۔ قلت اگر ہے تو ہماری کوتاہی کی بناء پر ہے۔ اُن وسائل کو دریافت کرنے، استعمال کرنے یا اُن کی تقسیم کے غلط نظام کی بناء پر ہے۔ اگر اُن کو دریافت کیا جائے، developکیا جائے اور صحیح تقسیم ہو تو انسانوں کی تمام ضروریات پوری ہوسکتی ہیں۔ ہوس کی کوئی انتہاء نہیں ہے لیکن حقیقی ضروریات خوشحالی کے ساتھ، عزت کے ساتھ سب کو بہم پہنچ سکتی ہیں۔

ہدایت: تیسرا اصول ہدایت ہے۔دیکھیے ربوبیت کے بھی دو پہلو ہیں: ایک ہے مادی اور جسمانی ، کہ انسان کی مادی اور جسمانی ضروریات کے لیے جو کچھ بھی وسائل درکار ہیں، خواہ وہ اس کی شخصیت اور اُس کے بدن میں ہوں یا خدا کی زمین پر، وہ تمام وسائل موجود ہیں۔ اسی طرح انسان کی مادی اور جسمانی ضروریات کے ساتھ ساتھ اُس کی کچھ تہذیبی اور اخلاقی ضروریات بھی ہیں۔ اور یہ ضروریات پوری ہوتی ہیں اﷲ کی ہدایت سے۔ اور اس ہدایت کی دو صورتیں ہیں: ایک اﷲ کے نبی اور دوسرے اﷲ کی کتاب۔ اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔

رسالت: شاید ہدایت کے لیے کتاب بھی کافی ہوتی، لیکن اﷲ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ لوگوں کو دکھایا جاسکے کہ اس کتاب میں جو ہدایت ہے اُس کا جسمانی نمونہ اور مرقع انسان بن سکتا ہے۔ اور اس طرح تمام انسانوں کے لیے اُس ہدایت پر عمل آسان بنادیا گیا اور یہ بتادیا گیا کہ انسانی استعداد کے اندر یہ چیز موجود ہے۔تصور رسالت کو اسلام میں مرکزی مقام حاصل ہے۔ اس تصور کو اس کی صحیح روح کے ساتھ نہ اپنایا جائے تو ایسا معاشرہ بہرحال اسلامی معاشرہ نہیں ہو سکتا۔

استخلاف: اس کے بعد پانچویں چیز جو مرکزی حیثیت رکھتی ہے، وہ ہے استخلاف، یعنی انسان کو جو مقام دیا گیا ہے وہ اﷲ کے خلیفہ اور نائب کاہے۔ یہ ہے انسان کی اس دنیا میں مرکزیت۔ یعنی تصور یہ ہے کہ انسان نے زمین کا نظام سنبھالنا ہے، اﷲ کے نمائندے کی حیثیت سے اُن مقاصد کو پورا کرنے کے لیے جو اﷲ نے اُس کو بتائے ہیں،یعنی اسے دی گئی ہدایت کی روشنی میں۔اس طرح اُسے زندگی کی تعمیر وتشکیل، وسائل کی دریافت اور ترقی، قوت کے حصول اور زندگی کو تعمیر کرنے کے تمام اُمورانجام دینے ہیں۔ استخلاف کا تصور passive نہیں ہے، نہ یہ محض چند معاملات تک محدود ہے، بلکہ اس تصور کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہم متحرک ہوں، جو کچھ اﷲ نے اس کائنات میں ودیعت کیا ہے اور جو کچھ صلاحیتیں ہم میں پوشیدہ ہیں اُن کو developکریں، استعمال کریں، اُس مشن اور اُس کام کے لیے جو ہمیں سونپا گیا ہے۔

تزکیہ: چھٹی چیز ہے تزکیہ۔ استخلاف کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے انسان کو جہاں عقل دی گئی ہے وہاں ارادہ اور عمل کی آزادی بھی دی گئی ہے۔ یہ آزادی خود انسان کی شخصیت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے اسے اپنے اخلاق، کردار اور بحیثیت مجموعی اپنی پوری شخصیت کو تعمیری رخ دینا ہے اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے، یہی تزکیہ کی روح ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تزکیہ کے دو پہلو ہیں: ایک زندگی کا نکھار، برائیوں سے بچنا اور بھلائیوں کو پروان چڑھانا، خوبیوں کو پیدا کرنا اور خرابیوں سے بچنا (روحانی، جسمانی ہر اعتبار سے) لیکن دوسرے پہلو سے دیکھیے تو عربی زبان کے اس لفظ کے دوسرے معنیٰ ترقی اور افزائش کے بھی ہیں۔ آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں کہ عربی زبان میں ایک پودے کی تراش خراش کے عمل کو بھی تزکیہ کہا جاتا ہے، اور اس عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پودا معمول سے زیادہ بڑھتا اور ترقی کرتا ہے۔ زکواۃ کو بھی اسی لیے زکواۃ کہا جاتا ہے کہ زکواۃ کے لیے مال خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا بلکہ دراصل یہ مال کی ترقی کا راستہ ہے۔ قرآنِ پاک میں دوسرے مقامات پر اس کو اس طریقے سے بیان کیا گیا ہے کہ
یَمْحَقُ اللَّـہُ الرِّبَا وَیُرْبِي الصَّدَقَاتِ
’’اﷲ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو نشونما دیتا ہے ۔‘‘(۲:۲۷۶)
تو جسے تم بہتری سمجھتے ہو (ربا)، اُس کو اﷲ نے منع کیا ہے، اور صدقات جس کے بارے میں تمہیں گمان ہے کہ خرچ کرنے سے غریب ہوجاؤگے، دراصل یہی وہ چیز ہے جو بڑھوتری کا ذریعہ ہے۔ تو تزکیہ کا مفہوم ان تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔

عدل و احسان: تزکیہ کے بعد اگلی چیز عدل ہے۔ اور یہ عدل اپنے ساتھ احسان کو بھی رکھتا ہے، یعنی عدل تو ہے ہر ایک کو اُس کا حق دینا، اور احسان یہ ہے کہ حق سے بھی زیادہ دینا۔اسلام میں عدل کو جو مرکزی مقام حاصل ہے ، وہ یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے اس دنیا میں بھیجے جانے کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہی ہے۔ انبیاء کے جو وظائف قرآنِ پاک میں بیان کیے گئے ہیں اُن میں تلاوتِ آیات، تزکیہء نفوس،تعلیمِ کتاب، تعلیمِ حکمت نیز دعوتِ حق، شہادتِ حق، اقامتِ دین اور ان سب کا عملی مطلوب انصاف کا قیام ہے۔ تاکہ انسانوں کے معاملات عدل کی بنیادپر مرتب ہوسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقاصدِ شریعہ میں آپ دیکھتے ہیں کہ سب سے اہم مقام عدل کو حاصل ہے۔

فلاح : پھر عدل کے بعد ہے فلاح، یعنی ان تمام امورکا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آپ کو فلاح حاصل ہوگی۔ روحانی بھی، مادی بھی، انفرادی بھی، اجتماعی بھی۔ تمام انسانوں کی فلاح، محض دولت مند اور وسائل والوں کی نہیں۔ اور وہ فلاح جو ذریعہ بنے آخرت میں فلاح کا۔
جواب دہی: آخری نکتہ ہے جواب دہی۔ آخرت اور زندگی کا تسلسل جو دنیا سے ہمیں آخرت میں لے جاتا ہے۔یعنی اس دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی جواب دہی کا احساس تازہ رہے تاکہ گناہوں سے بچا رہے۔