انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز: آئی پی ایس ایک آزاد علمی و تحقیقی ادارہ ہے جو مالی منفعت سے ماوراء قومی حکمتِ عملی کے امور پرتحقیق کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ یہ قومی اور بین الاقوامی موضوعات پر تبادلہ خیال اور تجزئیے کے لیے فورم مہیا کرتا ہے۔ ادارہ کی تحقیقی خدمات کا عرصہ تیس سال سے زائد ہے جس میں اہم پالیسی معاملات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ ادارہ جدید جمہوری معاشرے میں تھنک ٹینک کا کردار اجاگر کرتا ہے۔ آئی پی ایس اپنے مقاصد کے حصول کے لیے، سیمینارز، کانفرنسیں، ورکشاپس اور مکالمے کے ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اس کی دلچسپی کے کثیر جہتی موضوعات پر رپورٹس، جرائد، کتب ، موضوعاتی تحقیق اور شخصی و اداراتی نشوونما پر مبنی سر گرمیاں ادارے کے مقاصد کو آگے بڑھانے کا اہم ذریعہ بنتی ہیں۔ آئی پی ایس جہاں پالیسی سازی سے متعلقہ امور پر قابلِ عمل اور ٹھوس لائحہ عمل تیار کرتا ہے وہیں پالیسی سازوں ، تجزیہ نگاروں ، سیاسی قائدین، قانون ساز افراد اور اداروں اور دیگر متعلقہ شعبہ جات کے لیے راہِ عمل متعین کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ ادارہ انتظامی معاملات میں فعالیت، شفافیت، پیشہ ورانہ مہارت، اور اپنی کارکردگی کی افادیت کو یقینی بناتا ہے۔ خود مختاری ، ثقاہت اور وقار ادارے کا اصل اثاثہ ہے جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ یہ تھنک ٹینک اپنے تمام مالی امور میں خود کفیل ہے۔ وقف شدہ املاک سے حاصل آمدن ، مالی تعاون اور مختلف افراد کی رضا کارانہ خدمات اسے کسی بیرونی امداد سے بے نیا ز کرتی ہیں ، اسی طرح رسائل ، کتب اور ممبرشپ فیس سے حاصل شدہ آمدن کے علاوہ ادارہ مشاورتی خدمات کے ذریعے بھی وسائل حاصل کرتا ہے۔ آئی پی ایس نے اپنے لئے(ا) ملکی معاملات، (ب) بین الاقوامی تعلقات اور (ج) ایمانیات اور سماج کو تحقیقاتی عنوانات کے طور پر منتخب کیا ہے اور اس مقصد کے لیے اندرون اور بیرونِ ملک موجود دانشوروں سے موثر رابطے کی غرض سے ادارے کے مقاصد سے ہم آہنگ افراد کی ایک ٹیم ہمہ تن مصروفِ عمل ہے۔ اس انداز کو اپنانے سے آئی پی ایس نہ صرف اس قابل ہے کہ خود ادارے کے اندر فعال تحقیقی سر گرمیاں جاری رہیں بلکہ ادارے سے وابستہ مختلف افراد اپنے اپنے مقامات پر رہ کر بھی اپنے علم و دانش اور فکر کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔ ادارے کی تحقیقی سر گرمیاں نیشنل اکیڈمک کونسل تیار کرتی ہے اور یہ پروگرام اسی کے زیرِ نگرانی تشکیل پاتے ہیں۔ نیشنل اکیڈمک کونسل بنیادی اور اہم کردار کی حامل ہے کیو نکہ یہ نہ صرف رہنمائی اور نگرانی کا فریضہ انجام دیتی ہے بلکہ ادارے کی تر جیحات بھی متعین کرتی ہے۔ آئی پی ایس ہم خیال اداروں اور تنظیمات کے ساتھ مل کر بھی مختلف سر گرمیاں سر انجام دیتا ہے اور اسی طرح دیگر اداروں کے ایسے پروگرام جو انسٹی ٹیوٹ کے مقاصد سے ہم آہنگ ہوں ان میں اپنا سرگرم تعاون بھی پیش کرتا ہے۔ متعین موضوعات پر مختصر دورانیے کا یہ تعاون مشترکہ تحقیق ، سیمینارز کے انعقاد یا لائبریری اور دیگر خدمات کے تبادلے پر مبنی ہو سکتا ہے۔ اس وقت ادارے کا اس نوعیت کا تعلق متعدد ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ قائم ہے ۔ اندرون اور بیرون ملک مختلف تحقیقی اداروں اور آئی پی ایس کے محققین طے شدہ منصوبہ کے تحت باہمی دورے کرتے ہیں۔ http://www.ipsurdu.com/index.php 2012-05-21T06:29:41Z Joomla! 1.5 - Open Source Content Management تحقیق - تصورات اورتجربات 2012-04-02T00:00:00Z 2012-04-02T00:00:00Z http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=591:tehkeeq-tajarbat&catid=28:kutab&Itemid=268 <p><img src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/book_images/research-concepts-and-experiences.jpg" mce_src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/book_images/research-concepts-and-experiences.jpg" alt="تحقیق - تصورات اورتجربات" style="float: right; margin-top: 2px; margin-bottom: 2px; border: 0;" mce_style="float: right; margin-top: 2px; margin-bottom: 2px; border: 0;" border="0" height="192" width="120" /></p> <p>  تحقیق - تصورات اورتجربات چند نشستوں کی رودادوں پر مبنی ہے جسے وسیع تر استفادہ کے لیے قلم بند کرلیا گیا ہے۔ امید ہے نئے تحقیق کاروں کی رہنمائی کے لیے ان تحریروں کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا۔<br /><br /></p> <p><br /></p> <p><br /></p> <p><br /></p> <p><br /></p> <p><br /></p> <p><br /></p> <p><img src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/book_images/research-concepts-and-experiences.jpg" mce_src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/book_images/research-concepts-and-experiences.jpg" alt="تحقیق - تصورات اورتجربات" style="float: right; margin-top: 2px; margin-bottom: 2px; border: 0;" mce_style="float: right; margin-top: 2px; margin-bottom: 2px; border: 0;" border="0" height="192" width="120" /></p> <p>  تحقیق - تصورات اورتجربات چند نشستوں کی رودادوں پر مبنی ہے جسے وسیع تر استفادہ کے لیے قلم بند کرلیا گیا ہے۔ امید ہے نئے تحقیق کاروں کی رہنمائی کے لیے ان تحریروں کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا۔<br /><br /></p> <p><br /></p> <p><br /></p> <p><br /></p> <p><br /></p> <p><br /></p> <p><br /></p> مباحث،مارچ ۲۰۱۲ ء 2012-05-06T00:00:00Z 2012-05-06T00:00:00Z http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=576:mubhahis-mar-2012&catid=54:naimatbooat&Itemid=291 <p><img class="caption" src="http://www.ipsurdu.com/images/banners/mubahis_19.jpg" mce_src="http://www.ipsurdu.com/images/banners/mubahis_19.jpg" alt="Mubahis 15" style="float: right;" mce_style="float: right;" border="0" height="184" width="133" /></p> <p style="text-align: justify;" mce_style="text-align: justify;">انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے دو ماہی جریدہ "مباحث" کا تازہ شمارہ  انٹرنیٹ پر شائع ہوگیا ہے۔</p> <p style="text-align: justify;" mce_style="text-align: justify;" lang="ER">اس میں دو ماہ کے عرصہ میں شائع ہونے والے معروف دینی اداروں اور تمام مسالک کے نمائندہ دینی جرائد (ہفت روزہ،  پندرہ روزہ ،  ماہانہ اور سہ ماہی)  میں قومی اور بین الاقوامی مسائل پر پیش کی گئی آراء کا تجزیہ اور خلاصہ پیش کیا جاتا ہے ۔</p> <p style="text-align: justify;" mce_style="text-align: justify;" lang="ER"><br /></p> <p style="text-align: justify;" mce_style="text-align: justify;" lang="ER"><br /></p> <p style="text-align: justify;" mce_style="text-align: justify;" lang="ER"><br /></p> <p><img class="caption" src="http://www.ipsurdu.com/images/banners/mubahis_19.jpg" mce_src="http://www.ipsurdu.com/images/banners/mubahis_19.jpg" alt="Mubahis 15" style="float: right;" mce_style="float: right;" border="0" height="184" width="133" /></p> <p style="text-align: justify;" mce_style="text-align: justify;">انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے دو ماہی جریدہ "مباحث" کا تازہ شمارہ  انٹرنیٹ پر شائع ہوگیا ہے۔</p> <p style="text-align: justify;" mce_style="text-align: justify;" lang="ER">اس میں دو ماہ کے عرصہ میں شائع ہونے والے معروف دینی اداروں اور تمام مسالک کے نمائندہ دینی جرائد (ہفت روزہ،  پندرہ روزہ ،  ماہانہ اور سہ ماہی)  میں قومی اور بین الاقوامی مسائل پر پیش کی گئی آراء کا تجزیہ اور خلاصہ پیش کیا جاتا ہے ۔</p> <p style="text-align: justify;" mce_style="text-align: justify;" lang="ER"><br /></p> <p style="text-align: justify;" mce_style="text-align: justify;" lang="ER"><br /></p> <p style="text-align: justify;" mce_style="text-align: justify;" lang="ER"><br /></p> نیشنل آرکا ئیوز کا دورہ 2012-03-12T08:20:56Z 2012-03-12T08:20:56Z http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=589:visit-to-national-archive&catid=46:daora&Itemid=285 <p style="text-align: right;" mce_style="text-align: right;"><img src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/2012/march/krvisitnr/title.jpg" mce_src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/2012/march/krvisitnr/title.jpg" border="0" height="159" width="118" /></p><p style="text-align: right;" mce_style="text-align: right;">انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کےایک وفد نے ڈائریکٹر جنرل جناب <a href="http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=49%3Akhalidrahman&catid=30&Itemid=361" mce_href="http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=49%3Akhalidrahman&catid=30&Itemid=361">خالد رحمن</a> کی قیادت میں نیشنل آرکائیوزآف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل جناب حبیب احمد خان سے اُن کے دفتر میں ملاقات کی۔</p><p style="text-align: right;" mce_style="text-align: right;"><br /></p> <p style="text-align: right;" mce_style="text-align: right;"><img src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/2012/march/krvisitnr/title.jpg" mce_src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/2012/march/krvisitnr/title.jpg" border="0" height="159" width="118" /></p><p style="text-align: right;" mce_style="text-align: right;">انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کےایک وفد نے ڈائریکٹر جنرل جناب <a href="http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=49%3Akhalidrahman&catid=30&Itemid=361" mce_href="http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=49%3Akhalidrahman&catid=30&Itemid=361">خالد رحمن</a> کی قیادت میں نیشنل آرکائیوزآف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل جناب حبیب احمد خان سے اُن کے دفتر میں ملاقات کی۔</p><p style="text-align: right;" mce_style="text-align: right;"><br /></p> قومی معیشت کی صورت حال اور وفاقی بجٹ ۲۰۱۱۔ ۲۰۱۲ء 2011-06-30T09:41:12Z 2011-06-30T09:41:12Z http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=540:wifaqi-budget-2011-2012&catid=41:maeeshat&Itemid=280 آئی پی ایس ٹاسک فورس ipstask@ips.com.pk <p><img src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/research/2011/budget_11t.jpg" border="0" alt="budget_11t" width="97" height="135" style="margin: 3px; float: right;" />بجٹ محض آمدنی اور اخراجات کےگوشوارےکا نام نہیں ہے، بلکہ بجٹ پیش کرنےکےساتھ حکومت کو ایک اہم موقع ملتا ہےکہ وہ قومی سطح کےمعاشی مسائل سےنمٹنےکےلیےاپنی سوچ اور عزائم کو سامنےلائےاور فوری اور دُور رس دونوںقسم کےچیلنجوںسےنمٹنےکےلیےاپنی حکمتِ عملی قوم کےسامنےپیش کرے۔ بجٹ 2011-12ء موجودہ ’’منتخب‘‘ حکومت کا چوتھا بجٹ ہے۔</p> <p><img src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/research/2011/budget_11t.jpg" border="0" alt="budget_11t" width="97" height="135" style="margin: 3px; float: right;" />بجٹ محض آمدنی اور اخراجات کےگوشوارےکا نام نہیں ہے، بلکہ بجٹ پیش کرنےکےساتھ حکومت کو ایک اہم موقع ملتا ہےکہ وہ قومی سطح کےمعاشی مسائل سےنمٹنےکےلیےاپنی سوچ اور عزائم کو سامنےلائےاور فوری اور دُور رس دونوںقسم کےچیلنجوںسےنمٹنےکےلیےاپنی حکمتِ عملی قوم کےسامنےپیش کرے۔ بجٹ 2011-12ء موجودہ ’’منتخب‘‘ حکومت کا چوتھا بجٹ ہے۔</p> جنگ- سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ: اسرائیل کی عسکری نفسیات 2010-04-27T12:43:11Z 2010-04-27T12:43:11Z http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=289:jang-seyasi-maqasad-kay-hosul-ka-aik-hathyar&catid=39:aalimgeermuamlat&Itemid=278 Administrator sammar@ips.net.pk <p><img style="margin: 3px; float: right;" alt="israel_army" src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/graphic/bullet/israel_army.jpg" height="143" width="200" />اسرائیل میں عسکری معاشرےکےارتقاء اورسیاسی مقاصد کےحصول کےلیےطاقت کےاستعمال کےرجحان کو سمجھنےکےلیےاسرائیل کےقیام سے پہلےرونما ہونےوالےان واقعات کا تجزیہ مفید ہو گاجو موجودہ اسرائیل کی عسکری و معاشرتی نفسیات کی تخلیق کا باعث بنے۔</p> <p><img style="margin: 3px; float: right;" alt="israel_army" src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/graphic/bullet/israel_army.jpg" height="143" width="200" />اسرائیل میں عسکری معاشرےکےارتقاء اورسیاسی مقاصد کےحصول کےلیےطاقت کےاستعمال کےرجحان کو سمجھنےکےلیےاسرائیل کےقیام سے پہلےرونما ہونےوالےان واقعات کا تجزیہ مفید ہو گاجو موجودہ اسرائیل کی عسکری و معاشرتی نفسیات کی تخلیق کا باعث بنے۔</p> مغرب اور اسلام: عالمگیریت کا چیلنج اور مسلمان 2010-11-10T07:42:40Z 2010-11-10T07:42:40Z http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=531:maghrib-aur-islam-34&catid=93:shamaray&Itemid=311 Administrator sammar@ips.net.pk <p><img src="http://www.ipsurdu.com/images/banners/magrib_islam34.jpg" border="0" alt="Maghrib aur Islam 34" style="margin: 2px; float: right;" /> شمارہ (نمبر۳۴) ’’عالمگیریت کا چیلنج اور مسلمان‘‘ کے  عنوان سے شائع ہوا ہے۔ یہ اس موضوع پر پہلی خصوصی اشاعت ہے۔ اسی موضوع پر دوسری خصوصی اشاعت بھی جلد شائع ہوگی۔</p> <p><img src="http://www.ipsurdu.com/images/banners/magrib_islam34.jpg" border="0" alt="Maghrib aur Islam 34" style="margin: 2px; float: right;" /> شمارہ (نمبر۳۴) ’’عالمگیریت کا چیلنج اور مسلمان‘‘ کے  عنوان سے شائع ہوا ہے۔ یہ اس موضوع پر پہلی خصوصی اشاعت ہے۔ اسی موضوع پر دوسری خصوصی اشاعت بھی جلد شائع ہوگی۔</p> پاکستان کا توانائی کا شعبہ: چیلنجز اورامکانات 2011-01-25T00:00:00Z 2011-01-25T00:00:00Z http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=527:pakistan-tawanai-ka-shoba-chalnges-aur-imkanat&catid=51:2009-10-28-11-06-08&Itemid=290 Administrator sammar@ips.net.pk <p><img style="margin: 3px; float: left;" alt="02" src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/2011/january/pak_energy/02.jpg" height="111" width="174" />سابق وفاقی وزیر اورتوانائی کے شعبہ سے وابستہ اہم رہنما جناب عثمان امین الدین نے تجویز کیا ہے کہ وفاق میں صرف ایک وزارت توانائی ھونی چاہیے جس میں پیٹرولیم، قدرتی وسائل، پانی اور بجلی کی وزارتیں ضم کر دی جائیں۔ تاکہ بہتر ارتباط اور منصوبہ بندی سے توانائی کا بحران حل کیا جاسکے۔</p> <p><img style="margin: 3px; float: left;" alt="02" src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/2011/january/pak_energy/02.jpg" height="111" width="174" />سابق وفاقی وزیر اورتوانائی کے شعبہ سے وابستہ اہم رہنما جناب عثمان امین الدین نے تجویز کیا ہے کہ وفاق میں صرف ایک وزارت توانائی ھونی چاہیے جس میں پیٹرولیم، قدرتی وسائل، پانی اور بجلی کی وزارتیں ضم کر دی جائیں۔ تاکہ بہتر ارتباط اور منصوبہ بندی سے توانائی کا بحران حل کیا جاسکے۔</p> توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات 2011-03-02T00:00:00Z 2011-03-02T00:00:00Z http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=525:tawanai-kay-shobay-men-bunyadi-istlahat&catid=50:2009-10-28-10-41-15&Itemid=289 Administrator sammar@ips.net.pk <p><img style="margin: 3px; float: left;" alt="01thumb" src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/2011/march/st_power_sector/01thumb.jpg" height="90" width="86" /></p> <p>انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں ۲ مارچ ۲۰۱۱ء کو "توانائی کے شعبہ میں بنیادی&nbsp; اصلاحات" کے عنوان سے&nbsp; نیپرا (NEPRA) کے سابق ڈائریکٹر جنرل منیر امان شیخ کے ایک لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔ سابق چیف اکانو مسٹ، حکومت پاکستان، فصیح الدین نے اس سیشن کی صدارت کی۔ بحث کا خلاصہ درج ذیل ہے۔</p> <p><img style="margin: 3px; float: left;" alt="01thumb" src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/2011/march/st_power_sector/01thumb.jpg" height="90" width="86" /></p> <p>انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں ۲ مارچ ۲۰۱۱ء کو "توانائی کے شعبہ میں بنیادی&nbsp; اصلاحات" کے عنوان سے&nbsp; نیپرا (NEPRA) کے سابق ڈائریکٹر جنرل منیر امان شیخ کے ایک لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔ سابق چیف اکانو مسٹ، حکومت پاکستان، فصیح الدین نے اس سیشن کی صدارت کی۔ بحث کا خلاصہ درج ذیل ہے۔</p> بدلتی دنیا اور پاک چین تعلقات کا مستقبل 2011-02-23T00:00:00Z 2011-02-23T00:00:00Z http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=524:badalti-dunya-aur-pak-cheen-taluqat-ka-mustaqbal&catid=66:muzakra&Itemid=297 Administrator sammar@ips.net.pk <p><img style="margin: 2px 2px 2px 3px; float: right;" alt="thumb" src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/2011/january/change_world_pakchina/03thumb.jpg" />انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اور چائنیز ایسوسی ایشن فار انٹر نیشنل انڈر اسٹینڈنگ کے باہمی دوستانہ اور پیشہ ورانہ تعلق کے تسلسل اور دونوں اداروں کے درمیان ایک عشرے پر محیط تعاون&nbsp; کا جائزہ لینے&nbsp; کے لیے CAFIU کے ایک چھ رکنی وفد نے کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وائس منسٹر&nbsp; جناب آئی پنگ کی قیادت میں آئی پی ایس&nbsp; کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ۲۲ فروری ۲۰۱۱ء کو باہمی تبادلۂ خیالات کے لیے ایک مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی۔</p> <p><img style="margin: 2px 2px 2px 3px; float: right;" alt="thumb" src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/2011/january/change_world_pakchina/03thumb.jpg" />انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اور چائنیز ایسوسی ایشن فار انٹر نیشنل انڈر اسٹینڈنگ کے باہمی دوستانہ اور پیشہ ورانہ تعلق کے تسلسل اور دونوں اداروں کے درمیان ایک عشرے پر محیط تعاون&nbsp; کا جائزہ لینے&nbsp; کے لیے CAFIU کے ایک چھ رکنی وفد نے کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وائس منسٹر&nbsp; جناب آئی پنگ کی قیادت میں آئی پی ایس&nbsp; کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ۲۲ فروری ۲۰۱۱ء کو باہمی تبادلۂ خیالات کے لیے ایک مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی۔</p> افغانستان میں اعلیٰ تعلیم 2011-05-21T06:03:23Z 2011-05-21T06:03:23Z http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=522:afghanistanheigher-education&catid=37:pakistan-kay-parosi&Itemid=330 ڈاکٹر مصباح اللہ عبد الباقی misbahullah@yahoo.com <p><img style="margin: 3px; float: right;" alt="afhan_high_eduation" src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/research/afhan_high_eduation.jpg" height="126" width="180" />یہ مقالہ افغانستان کے حکومتی اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داران، اساتذہ، طلبہ اور تعلیمی شعبہ سے وابستہ متعدد اہلِ دانش کے ساتھ ہونے والی رسمی اور غیر رسمی نشستوں، مکالموں اور گفتگوؤں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر تحریر کیا گیا ہے۔</p> <p><img style="margin: 3px; float: right;" alt="afhan_high_eduation" src="http://www.ipsurdu.com/images/stories/research/afhan_high_eduation.jpg" height="126" width="180" />یہ مقالہ افغانستان کے حکومتی اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داران، اساتذہ، طلبہ اور تعلیمی شعبہ سے وابستہ متعدد اہلِ دانش کے ساتھ ہونے والی رسمی اور غیر رسمی نشستوں، مکالموں اور گفتگوؤں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر تحریر کیا گیا ہے۔</p>