صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - اِن ہاؤس مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے انتخابات ۲۰۱۴ء اور اس سے آگے English
مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے انتخابات ۲۰۱۴ء اور اس سے آگے چھاپیے ای میل

 ۲۲ جنوری ۲۰۱۵ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد میں بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) سید نذیر کی صدارت میں منعقدہ ایک اجلاس سے تحقیق کار اویس بن وصی اور ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالد رحمن نے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں حال ہی میں ہونے والے انتخابات کو ان کی علامتی اہمیت کے ساتھ ساتھ خطے کی انتخابی تاریخ کے پس منظر اور ریاست کے موجودہ سیاسی منظر نامے کے تحت سمجھنے کی ضرورت بیان کی۔

اویس بن وصی نے بہت سے اعداد و شمار کے ذریعے اس بات کی وضاحت کی کہ کس طرح علاحدگی کے حامی عناصر اور ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی پالیسی بیان کرنے والوں کے نقطۂ نظر نے وادی میں شرمناک پسپائی اور بی جے پی کی تعداد بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مقرر نے بی جے پی کی الیکشن سے متعلق بہتر منصوبہ بندی اور پیش بینی کو جموں کے علاقے میں بڑی کامیابی کا بنیادی سبب قرار دیا۔ اس کامیابی کے لیے پارٹی ریاست میں غیرمعمولی زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے تھی۔ جموں اور لداخ میں میگا پراجیکٹس کے افتتاح، کشمیری پنڈتوں کے مسئلے کو ایک حکومتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے ان کی کشمیر کی وادی میں واپسی کے لیے پانچ سو کروڑ روپے کا مالیاتی پیکج مختص کرنے، انتخابات سے قبل  بھارتی وزیر اعظم کے اوپر تلے پانچ دوروں اور جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے لیے پارٹی کی یقین دہانی جیسے عناصر کے ذریعے انہوں نے اس کامیابی کی تمہید پہلے سے باندھ رکھی تھی۔

اویس نے ریاست کے انتخابات کا مشاہدہ ’’تنازع‘‘ اور ’’طرزِ حکمرانی‘‘ کے پس منظر میں کرتے ہوئے کہا کہ تنازع کا حل ابھی ہونا باقی ہے اور انتخابات میں ووٹوں کی بڑی تعداد کو تنازع کا حل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے انتخابات کو مجموعی طور پر ایک تقسیم شدہ انتخابی نتیجہ اور بڑھتا ہوا سیاسی تعطل قرار دیا جس میں گورنر راج کے نفاذ کے سبب غیریقینی صورت حال میں مزید اضافہ ہو گا۔

بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) سید نذیر نے کشمیر کے انتخابات کو بی جے پی کی ریاست جموں و کشمیر اور پاکستان کے ساتھ وسیع تر حکمت عملی کے تناظر میں پرکھا اور اجیت ڈووِل کی دفاعی جارحانہ ڈاکٹرائن کی وضاحت مسئلہ کشمیر اور بی جے پی کے جارحانہ انداز کے پس منظر میں کی۔
ماہرین کی رائے تھی کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد سے جو سیاسی خلا پیدا ہو گیا ہے اسے پر کرنے کے لیے آزادی پسند کشمیری قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی میدان کو وسیع کریں۔ اپنے اختلافات کو کم کریں اور وادی اور دیگر مسلمان علاقوں میں اپنی مسلم شناخت کو استحکام دینے پر بھرپور توجہ دیں۔ انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر ایک مشترکہ قومی بیانیہ تشکیل دینا چاہیے۔