چین میں اصلاحات کی نئی لہر: پروفیسر زیائو جیان منگ کے ساتھ ایک نشست چھاپیے

12دسمبر 2013ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں ایک علمی نشست منعقد ہوئی جس کا عنوان تھا ’’چین میں اصلاحات کی نئی لہر‘‘ ۔ چین سے آئے مہمان دانشور پروفیسر زیائو جیان منگ اس اجلاس کے مقرر تھے جبکہ دیگر مقررین میں ڈائریکٹرجنرل خالد رحمن اور لیڈ کوآرڈی نیٹر عرفان شہزاد شامل تھے۔

reformchina

پروفیسر جیان منگ نے کہا کہ چین اس وقت ایک انتہائی اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے چنانچہ چین کی برسرِ اقتدار پارٹی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے اصلاحات کا ایک نیا پیکج متعارف کروایا ہے تاکہ چینی خصوصیات کے مطابق نظام حکومت اور صلاحیتوں کو جدید بنایا جائے اور ملک میں سوشلزم کی ترقی و بہتری کی عملی تعبیر سامنے لائی جائے ۔ انہوں نے تعارفی سلائیڈز میں معیشت، سیاست، ثقافت، ماحولیات وغیرہ جیسے شعبوں میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے تجویز کردہ اقدامات پر روشنی ڈالی۔

مجوزہ اصلاحات کے جن مختلف پہلوئوں پر اپنا تجزیہ پیش کیا ان میں وسائل کی فراہمی میں مارکیٹ کا فیصلہ کن کردار، قیمت کے تعین کے طریقہ کار میں بہتری، کھلی مارکیٹ کے نظام کی آبیاری، نجی شعبے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، آزاد تجارتی زونوں کی تیز رفتار تعمیر، اشیاء کی نقل یا مشابہت کے بجائے پیداوار میں جدت، ٹیکس اصلاحات، زرعی اصلاحات، بہتر معاوضوں کے لیے HUKOI نظام پر نظرثانی، ایک جدید ثقافتی مارکیٹ کے نظام کی تعمیر، ماحولیاتی تہذیب کے نظام کی ترقی اور تعلیم ،ملازمت ،کاروبار، سماجی بہبود، صحت اور طبی نظام میں بہتری جیسے موضوعات شامل تھے۔

آئی پی ایس کے لیڈ کوآرڈی نیٹر عرفان شہزاد نے بھی چین کے موجودہ حکومتی نظام اور انہیں درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔

 

بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔پروگرام کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی۔
نوعیت:    اِن ہاؤس سیشن، مطالعۂ چین
تاریخ:     ۱۲ دسمبر ۲۰۱۳ء