صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - دورہ پاک چین اقتصادی راہ داری پر چینی ماہرین سے تبادلۂ خیال English
پاک چین اقتصادی راہ داری پر چینی ماہرین سے تبادلۂ خیال چھاپیے ای میل

 چین کے ایک مؤقر علمی ادارے ”چینی ادارہ برائے عصری بین الاقوامی تعلقات“ (CICIR) کے چار رکنی وفد نے ۲۰ مارچ ۲۰۱۵ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس چینی ادارے کے صدر جناب جی ژیو  وفد کے سربراہ تھے۔ وفد نے آئی پی ایس کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمٰن اور ریسرچ ٹیم کے سینئر افراد کے ساتھ بات چیت کی۔

اس گفتگو کا مرکزی نکتہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ تھا جس کا رسمی افتتاح آئندہ ماہ چین کے صدر جناب  ژی جِن پنگ کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ہو گا۔

خالد رحمٰن اور جی ژیو نے اس بات پر اتفاق کیا کہ راہداری منصوبہ کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیاں اور چہ مگوئیاں ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ معاہدہ کی تفصیلات، سرمایہ کاری اور زمینی صورتِ حال کے بارے میں ہر سطح پر شفافیت کا اہتمام ہو اور معلومات تک آسان اور مکمل رسائی ہو۔

جی ژیو کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ میڈیا میں جن امور کا زیادہ چرچا ہے ان میں اقتصادی راہداری منصوبے کے ساتھ ساتھ توانائی، ٹیلی کام اور ریلوے کے شعبوں میں مستقبل میں ہونے والے امور تو شامل ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان منصوبوں کے حوالے سے اب تک جو اصل کام انجام دیے جا چکے ہیں، ان کے بارے میں عوامی آگاہی بہت ہی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہداری کے منصوبے کو صرف معاشی نقطۂ نظر سے دیکھنا مناسب نہیں ہے، بلکہ اسے چین اور پاکستان کے درمیان موجود جغرافیائی، سیاسی اور تذویراتی ہم آہنگی پر مبنی تعلقات کے نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ یہ عظیم منصوبہ آنے والے برسوں میں ان تعلقات میں مزید مضبوطی کا باعث بنے گا۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ مستقبل کے لمبے عرصے میں یہ منصوبہ نہ صرف چین، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو گا بلکہ پورے وسطی ایشیا، مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے علاقے بھی اس منصوبے کے فوائد سے متمتع ہوں گے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ لابیاں راہداری کے منصوبے کے خلاف کام کر رہی ہیں اور خود چین میں یہ بات اس انداز میں کی جاتی ہے کہ چین کو پاکستان میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اپنے ملک کی معاشی مشکلات اور ترقیاتی عدم یکسانیت کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا دائرۂ کار علاقائی سے بڑھ کر عالمی سطح تک پھیل چکا ہے تاہم پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کے لیے یہ ایک ثانوی نوعیت کا خطرہ ہے۔ اصل خطرہ وہ غلط فہمیاں ہیں جو اس منصوبے کے بارے میں مفاد پرستوں کی جانب سے پھیلائی جارہی ہیں۔

آئی پی ایس کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمٰن نے چینی مہمان کے خیالات کو سراہا اور کہا کہ چینی حکومت کو ان مخصوص عناصر سے محتاط رہنا ہو گا جو پاکستان میں چین کے بارے میں اس کے مثبت تاثر کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا میں سنکیانگ کے بارے میں حالات کے خراب ہونے اور چینی حکام کی جانب سے مبینہ طور ”ظالمانہ“ اقدامات کی رپورٹوں کے باوجود پاکستان میں چین کے بارے میں ہمہ گیر سطح پر محبت کے جو جذبات پائے جاتے ہیں ان میں اب تک کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ تاہم اگر اس مسئلہ کو احتیاط کے ساتھ اور فوری طور پر بہتر انداز سے حل کرنے کی کوششیں نہ ہوئیں تو وہ عناصر جو پاکستان اور چین کے باہمی مضبوط اور پائیدار تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اس مسئلہ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کریں گے۔