صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - دورہ ایگزیکٹو پریذیڈنٹ آئی پی ایس کی ' بیلٹ اینڈ روڈ گلوبل تھنک ٹینک فورم' میں شرکت English
ایگزیکٹو پریذیڈنٹ آئی پی ایس کی ' بیلٹ اینڈ روڈ گلوبل تھنک ٹینک فورم' میں شرکت چھاپیے ای میل

BRF CCIEE

چائنا سنٹر فار انٹرنیشنل اکنامک ایکسچینج (CCIEE) کی دعوت پر ایگزیکٹو پریذیڈنٹ آئی پی ایس خالد رحمٰن نے ' بیلٹ اینڈ روڈ گلوبل تھنک ٹینک فورم' اور 'پانچویں گلوبل تھنک ٹینک سمٹ' میں شرکت کی۔ تھنک ٹینک سربراہان کا یہ اجلاس بالترتیب 14 اور 15 مئی 2017ء کو چین کے شہر بیجنگ میں منعقد ہوا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ BRF بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے ماتحت سب سے اعلیٰ درجے کا فورم ہے جس کا مقصد متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعاون بڑھانے، تعاون کے لیے اقدامات کے فروغ اور باہمی عملی اقدامات کے نتائج پر ایک دوسرے کے ساتھ تبادلۂ خیال کو جاری رکھنا ہے۔ فورم میں وزارت کی سطح کے وفود، بین الاقوامی اداروں کے سربراہان، سابق غیرملکی شخصیات، معروف کاروباری افراد، موضوعات کے ماہرین اور مختلف ممالک کے دانشوروں کے نمائندہ افراد نے حصہ لیا۔

ایگزیکٹو پریذیڈنٹ آئی پی ایس خالد رحمٰن کے ساتھ پاکستان کی طرف سے اس پروگرام میں شرکت کرنے والے دیگر افراد میں خارجہ امور پر وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز، Boao Forum برائے ایشیا کے موجودہ ڈائریکٹر اور سابق وزیراعظم پاکستان شوکت عزیز اور پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ سعید شامل تھے۔

“Fifth Global Think Tank Summit” BRF فورم کے تحت منعقد ہو رہی تھی جس نے “Gathering Wisdom for Promoting Global Growth” کو سمٹ کا موضوع ٹھہرا رکھا تھا۔

خالد رحمٰن نے اس موقع پر ایک پریزنٹیشن دی جس کا موضوع تھا “Connectivity and BRI: A Shifting Paradigm” ۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ اور روڈ کے چینی آغاز نے معاصر دنیا میں اس موضوع کو ابھرتا ہوا موضوع بنا کر اس سوچ کا محور تبدیل کر دیا ہے اوراب نظریات طاقت کے اظہار کی بجائے بتدریج باہمی اعتماد، احترام، انصاف اور مشترکہ مفادات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ BRI کے طریقۂ کار میں تصوراتی پہلو اور عملی شکل کو مزید نکھارنے کی ضرورت ہے تاکہ اسے ان دونوں پہلوؤں کو پائیدار نتائج کا حامل بنایا جا سکے۔ انہوں نے اپنا نقطۂ نظر دیتے ہوئے کہا تھنک ٹینکس میں باہمی مطابقت پیدا کرکے ایسے مقاصد حاصل کرنے کے لیے مسلسل باہمی رابطوں اور خیالات کے تبادلے سے مدد لی جا سکتی ہے چنانچہ یہ عمل آگے چل کر رابطوں کی بہترین شکل اور تعاون کے میدان میں اضافے کی صورت نتیجہ برآمد کرے گا۔