صفحہ اول آئی پی ایس - تعمیر استعداد English
تعمیر استعداد

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے برسوں کے تجربات کے بعد یہ صلاحیت حاصل کرلی ہے کہ وہ ادراتی سطح پر اور شخصی سطح پر صلاحیت کار میں اضافے اور شخصی نشوونما کے لیے پیشہ ورانہ تنظیموں اور تعلیمی اداروں کے لیے ظرفیت سازی پروگرامات کا انعقاد کر سکے۔ صلاحیت کار میں اضافے اور شخصی نشوونما کا ایک مربوط تربیتی پراجیکٹ رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ وطالبات کے لیے جاری ہے۔ نئے داخل ہونے والے طلبہ کی آمد کے ساتھ ہی یہ سرگرمی شروع ہوجاتی ہے اور سروے رپورٹس کے ذریعے ان اسٹوڈنٹس کی کیفیت اور مرحلہ بہ مرحلہ ان کے احساسات و تاثرات کے جائزے پر مشتمل رپورٹس تیار کی جاتی ہیں۔

اس پروگرام کے مقاصد میں  طلبہ و طالبات میں ان صلاحیتوں کو نشوونما دینا شامل ہے: اخلاقی قوت، اپنی اصلاح آپ اور ذاتی صلاحیتوں میں خودکار اضافہ کا جذبہ، پیشہ ورانہ اور سماجی پہلو سے اپنے کردار سے آگاہی۔

آئندہ شروع ہونے والے پروگرام میں مرکزی خیال کے طور پر یہ امور پیش نظر ہوں گے: نظم و ضبط اور خود آگاہی، سوچنے اور سوالات اٹھانے والا فرد، وقت کی تنظیم، امید اور مثبت سوچ، اپنی سمت کا تعین، قوموں کی برادری میں پاکستان کی اہمیت۔



دینی مدارس؛ شخصی و اداراتی نشونما چھاپیے ای میل
دینی مدارس کے لیے شخصی و اداراتی نشوونما کا پراجیکٹ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے زیراہتمام جاری ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے دینی مدارس میں اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور دینی تعلیم کے لیے جدید تعلیمی طریقے اختیار کرنے کی ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ ملک بھر میں مدارس کے لیے تعمیر استعداد (capacity building) کی متعدد ورکشاپس کا اہتمام کر چکا ہے۔ اب تک ادارہ  نے ایسی ۲۶ ورکشاپس کا انعقاد کیا ہے جن میں زیادہ تر ایک روزہ ورکشاپس تھیں۔ کچھ ورکشاپس دو روزہ اور دس روزہ بھی تھیں۔ اب تک مجموعی طور پر ۲۸۸ مدارس کے ۸۵۲ اساتذہ یا سینئر طلبہ نے شرکت کی۔  ان میں دینی مدارس کے پانچوں تعلیمی بورڈز سے وابستہ مدارس شامل ہیں۔ اکثر پروگرام دینی مدارس کے اندر منعقد ہوئے۔ یہ پروگرام تمام صوبوں میں کیے گئے۔
 
دینی مدارس: انسانی حقوق کی تعلیم چھاپیے ای میل
نوعیت: پانچ روزہ ورکشاپ

مقررین: مولانا زاہد الراشدی، چیئرمین الشریعہ اکیڈمی، گوجرانوالہ

ظفرالحسن جوئیہ ایڈووکیٹ، محبوب صدا، ڈائریکٹر جنرل کرسچن اسٹڈی سنٹر، راولپنڈی ،

پروفیسر امجد احمد، استاد کلیۃ الشریعۃ ، بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد

پروفیسر مشتاق احمد، ایسوسی ایٹ پروفیسر، کلیۃ الشریعۃ ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد

راجہ محمد اشتیاق ایڈووکیٹ ، ممبر لاہور ہائی کورٹ بار کونسل اسلام آباد

مہمانان خصوصی: ڈاکٹر انیس احمد، وائس چانسلر رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، اسلام آباد

ڈاکٹر خالدعلوی، ڈین فیکلٹی آف آرٹس، وش یونیورسٹی، اسلام آباد

ڈاکٹر سفیراختر،سینئر ریسرچ فیلو، آئی پی ایس، اسلام آباد

پروفیسر عبدالجبارشاکر، ڈائریکٹرجنرل، دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد

 

"دینی مدارس میں انسانی حقوق کی تعلیم" پراجیکٹ کے تسلسل میں دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے ۱۷ تا ۲۰ مارچ ۲۰۰۸ء انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں  پانچ روزہ تربیتی ورک شاپ منعقد کی گئی تاکہ دینی مدارس کے اساتذہ کو بھی بین الاقوامی سطح پر معاصر دنیا میں جاری حقوق انسانی کی بحث میں شریک کیا جاسکے۔ تعلیم وتدریس، اور  قانون کے شعبوں سے وابستہ اہل علم ودانش نے اس پروگرام میں اظہارخیال کیا۔

اس ورک شاپ کا اہم ترین پہلو اس کی متنوع جہتیں تھیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیزنے دینی مدارس کے اساتذہ کو اسلام آباد میں واقع عورت فاونڈیشن، ضلع کچہری اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کے دفاتر کا دورہ کروایا تاکہ وہ مختلف تنظیموں اور انتظامی اداروں کا خود مشاہدہ کریں اور ان کے ذمہ داران سے براہ راست ملیں۔ شرکاء نے گروپ کی شکل میں انٹرنیٹ کے ذریعے امریکہ اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور ذیلی  تنظیموں کے جانب سے تیارکردہ انسانی حقوق کی صورت حال پر تازہ رپورٹس تلاش کرنے اور حاصل کرنے کا تجربہ حاصل کیا۔ نیز ورکشاپ کے شرکاء نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اداروں کی تیار کردہ دستاویزات کا مطالعہ کیا اور اپنی آراء پر مبنی جائزہ رپورٹس پیش کیں۔

شرکاء نے ان دستاویزات کا تنقیدی جائزہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بعض ان انسانی حقوق کا بھی  جائزہ لیا جواسلامی شریعت میں موجود ہیں اور مدرسہ کی تعلیم میں پڑھائے جاتے ہیں۔ اس ورکشاپ کے اختتامی اجلاس میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیزکے چیئرمین پروفیسر خورشید احمد نے بھی شرکت کی۔

اس پانچ روزہ ورکشاپ سے پہلے ادارہ نے ایک ایک دن کی دو مشاورتی مجلسوں کا بھی اہتمام کیا تھا جس میں دینی مدارس کے تمام پانچوں بورڈوں سے وابستہ دینی اسکالرز، ماہرین تعلیم اور مختلف وزارتوں کے ذمہ دار  حکام نے بھی شرکت کی۔ یہ مشاورتی اجلاس ۹جنوری اور ۱۴ فروری ۲۰۰۸ء کو منعقد ہوئے۔

ورکشاپ کے شرکاء نے انسانی حقوق کی تعلیم کے حوالہ سے عمومی گفتگو کی اور دینی مدارس میں انسانی حقوق کی تعلیم کے حوالہ سے تعلیمی نصاب کا ایک خاکہ بھی تیار کیا۔ شرکاء نے اپنے تبصروں، تجاویز اور سفارشات کے ذریعے اس خاکہ کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت کا اظہار کیا۔ جناب اکرام الحق اور جناب عبداللہ خان سیفی نے پروگرام کی ادارت کی۔
 
چین کے تحقیقی اداروں سے روابط میں اضافہ چھاپیے ای میل
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیزپاک چین تعلقات کے فروغ اور اس کے مطالہ کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اس کا "مطالعہ چین پراجیکٹ" متعلقہ امور پر تحقیق، چینی اداروں سے روابط، ان سے تحقیقی نتائج کا تبادلہ اور چینی حکومت سے رابطہ کے امور سرانجام دیتا ہے۔گزشتہ برسوں میں آئی پی ایس نے چین کے اداروں کے ساتھ گہرے رابطے مستحکم کیے ہیں۔ چین کے مطالعہ کا یہ پروگرام ڈائریکٹرجنرل خالدرحمٰن کی براہ راست سربراہی میں کام کر رہا ہے۔

اس حوالہ سے چائنا سنٹر فار کنٹیمپریری ورلڈ اسٹڈیز نے خالدرحمٰن کو اپنی ایک کانفرنس میں مشرق وسطیٰ کی اندرونی سیاسی صورت حال پر خیالات پیش کرنے کی دعوت دی۔ ۲۶اپریل ۲۰۰۷ء کو بیجنگ میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کا عنوان تھا "مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو متاثر کرنے والےاندرونی عوامل اور ان کی ترقی کے رجحانات"۔ خالدرحمٰن نے اس کانفرنس میں مقالہ پیش کیا۔

اگلے ماہ چائنا کونسل فار پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ نے ڈائریکٹر جنرل خالدرحمٰن کو پاک چین معاشی وتجارتی فورم میں شرکت کی دعوت دی جو چیندو، صوبہ سی چوان میں ۲۲ تا ۲۷مئی ۲۰۰۷ء منعقد ہوا۔ ڈائریکٹر جنرل نے اس فورم میں آئی پی ایس کی نمائندگی کی اور یہاں ایک سیمینار "پاک چین معاشی و تجارتی تعاون: حقیقت اور مستقبل" میں "پاکستان کی دفاعی صورت حال اور پاک چین تعلقات" کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔

جناب خالدرحمٰن کو "چین اور پاکستان میں تجارت بذریعہ سڑک – سہولت اور ترقی فورم" نے بھی مدعو کیا تھا جو "تیسرا کاشغر مرکزی و جنوبی ایشیا کی اشیاء کا میلہ" کے موقع پر سنکیانگ ، چین میں ۳۰ جون ۲۰۰۷ء کو منعقد ہوا۔ یہاں بھی انہوں نے مقالہ پیش کیا۔

۲۳ تا ۲۷ جولائی ۲۰۰۷ء ڈائریکٹر جنرل نے اسلام آباد سے ایک وفد کے قائد کی حیثیت سے چین کا دورہ کیا ۔ یہ دورہ چائنا انسٹی ٹیوٹ آف کنٹیمپریری انٹرنیشنل ریلیشنز (CICIR) بیجنگ کی دعوت پر کیا گیا جس میں چین کے اسکالرز کے ساتھ "پاکستان میں مذہب اور مذہبی سیاست کا کردار" کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی اسکالرز نے پاکستان کی اندرونی سیاست کو مذہبی سیاسی جماعتوں کے تناظر سے سمجھنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ وفد کے شرکاء نے باہمی دلچسپی اور تعاون سے متعلقہ دیگر امور پر بھی گفتگو کی۔ اس سے قبل CICIRکا ایک وفد بھی ۳ اپریل ۲۰۰۷ء کو آئی پی ایس آیا تھا اور یہاں کی ریسرچ ٹیم کے ساتھ تبادلہ خیال کی ایک نشست ہوئی تھی۔

ایک اور موقع پر پاکستان میں چین کے نئے سفیر عزت مآب جناب لیوژو ہوئی اپنے چار ساتھیوں کے ہمراہ ۲۱ مئی ۲۰۰۷ء کو انسٹی ٹیوٹ  تشریف لائے اور ڈائریکٹر جنرل خالدرحمن سے ملاقات کی۔ اس موقع پر جنا ب ارشادمحمود اور سلیم ظفر بھی موجود تھے۔ شرکاء نے پاک چین تعلقات اور معاشی تعاون کے حوالہ سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے پاک چین تعلقات کو سراہا اور ساتھ ہی عدم توازن کے چار پہلووں پر توجہ دلائی جس سے تعلقات کے فروغ میں مزید ترقی کا عمل متاثر ہورہا ہے: (۱) دونوں ممالک کے درمیان حکومت کا حکومت سے رابطہ کا مضبوط نظام ہے لیکن عوام کا عوام سے رابطہ کا نظام بہت ہی محدود ہے۔ (۲) دونوں ممالک کے اسٹریٹجک اور سیاسی تعلقات کے ضمن میں گہری ہم آہنگی ہے لیکن تجارتی تبادلہ بہت کم ہے۔ (۳) معاشی تعلقات میں بھی قابل لحاظ تجارتی عدم توازن پایا جاتا ہے۔ (۴) متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کا نظام کمزور ہے۔

 
رفاہ انٹرنیشنل یونیورسِٹی کے طلبہ وطالبات کے لیے تعمیر استعداد چھاپیے ای میل
رفاہ انٹرنیشنل یونیورسِٹی کے طلبہ وطالبات کے لیے تعمیر استعداد (Capacity Building) کا ایک جامع منصوبہ زیرعمل ہے۔ نوجوانوں کی شخصی صلاحیتوں کا نشوونما اس جہت گیری(orientation) پروگرام کا بڑا مقصد ہے۔ ستمبر ۲۰۰۷ء سے جاری اس پروگرام میں رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کی تمام (اب کل سات) فیکلٹیز میں طلبہ وطالبات کی ذہنی صلاحیتوں کے نشوونما اور مثبت سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے ہر نئے سال /سمسٹر میں اورینٹیشن پروگرام کا انعقاد ہوتا ہے۔ ان تمام پروگرامات کی اسکیم، تنظیم اور انعقاد انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کرتا ہے۔
 
ٹیم کی تربیت کا پروگرام چھاپیے ای میل

ادارے میں تحقیقی ٹیم کی تربیت کے پروگرام کے تحت چیئرمین آئی پی ایس پروفیسرخورشیداحمد، سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر سفیراختر اور قائداعظم یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر نصراللہ مرزا کے ساتھ تربیتی نشستیں رکھی گئیں۔ ان نشستوں کا مقصد تحقیقی اور پیشہ ورانہ صلاحیت میں اضافہ نیز تحقیق کاروں کے ذہنی افق کی کشادگی تھا۔

پروفیسر خورشیداحمد نے تحقیق کے دوران حالات حاضرہ پر نظر رکھنے اور قومی، علاقائی اور عالمگیر مسائل کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کی اہمیت واضح کی۔ دنیا میں تیزی سے بدلتی سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقیقتوں اور نئے ابھرتے طاقت کے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایشیائی ممالک خصوصا چین اور مسلم دنیا کا باہمی تعاون اکیسویں صدی میں دنیا کے لیے بھلائی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے تحقیق کاروں کو متوجہ کیا کہ نتیجہ خیز اور مثبت پالیسی کی تشکیل کے لیے انہیں اطلاقی تحقیق پر زیادہ ارتکاز کرنا ہو گا اور جب وہ افغانستان، ایران، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور علاقے کے مسائل کے معاملات پر تحقیق کر رہے ہوں تو نئی جغرافیائی سیاسی (geo-political)صورت حال پر نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کا کام کوئی کاغذی اور مفروضات پر مبنی کام نہیں ہے بلکہ یہ گہرائی، پختگی اور نہایت درجہ درستگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ کسی تحقیقی پراجیکٹ پر کام شروع کرنے سے پہلے اس تحقیق کے مقاصد کا واضح تعین ضروری ہے۔ انہوں نے تحقیق کے کام میں سوچ و فکر کو مہمیز دینے کے لیے مطالعہ کی غرض سے کچھ کتابیں تجویز کیں۔ کتابوں کے مطالعہ کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محقق کا مطالعہ وسیع اور متنوع ہونا چاہیے لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ اس نے اپنے شعبہ تحقیق سے متعلق کلاسیکی کتابوں کا بہت گہری نظر سے مطالعہ کیاہو اور ان کے مفاہیم کو پوری طرح ''ہضم" کرلیاہو۔

"ٹیم کی تربیت کا پروگرام" کے حوالہ سے منعقدہ دوسری نشست میں ڈاکٹر سفیراخترنے تحقیق کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر سیکھنے اور تحقیق کرنے کے اپنے تجربات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کسی شعبہ علم میں معنی خیز اضافہ کا نام ہے۔ محقق کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نئے حقائق کو دریافت کرے، انہیں اجاگر کرے اور اپنے شعبہ تحقیق میں جامع اور معروضی تجزیہ پیش کرے۔

ڈاکٹر سفیر اختر نے کہا کہ جدید دور تخصص کا دور ہے۔ ہر محقق کو اپنے بنیادی شعبہ علم کے عمومی تصورات کے ساتھ ساتھ اپنے خاص شعبہ تحقیق میں ارتکازی اور گہرا علم حاصل کرنا چاہیے۔

زبانوں کو علم کے دریچے قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضرورت کے مطابق زیادہ سے زیادہ زبانیں سیکھنا آج کے دور میں کسی بھی خاص شعبہ علم میں مثالی تحقیقی لوازمہ پیش کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ تحقیق کے اخلاقیات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تحقیق کار کو اپنے ذاتی تحقیقی کام کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔ تحقیق میں مستعار خیالات کی گنجائش نہیں ہوتی۔ تحقیقی مقالہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کتاب تحریر کرنے کے مقابلہ میں مقالہ تحریرکرنا زیادہ تکنیکی کام ہے۔ ایک مقالہ کسے نئے پہلو یا زاویہ نظر کو سامنے لاتا ہے جبکہ کتاب کے لیے ضروری نہیں کہ وہ پہلے سے موجود لٹریچر میں کسی حقیقی اضافہ کا باعث ہو۔ ہماری آج کی تیزی سے بدلتی دنیا میں کمال(perfectionism) کا حصول مثالی ہے،اگر یہ وسائل اور وقت کے اہداف کی قیمت پرنہ  ہو۔

تربیتی پروگرام کی  تیسری نشست میں ڈاکٹر نصراللہ مرزا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معلومات جمع کرنا اور انہیں دوبارہ پیش کرنا اگرچہ پہلے سے موجود علم تک رسائی کو آسان بناتا ہے تاہم تحقیق میں حقیقی اضافہ یہ ہے کہ حقائق کے معروضی اور متوازن تجزیہ کے ذریعے ناقابل رسائی علم کو قابل رسائی بنا دیاجائے۔ محقق کو ہمیشہ تنقیدی نظر کا حامل اور معروضیت کے تقاضوں کا پابند ہونا چاہیے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب وہ پہلے سے موجود کسی تناظر یا نقطہ نظر کو قبول کرے۔

ڈاکٹر نصراللہ مرزا نے قرار دیا کہ کسی ریسرچ پراجیکٹ میں مشکل ترین کام اصل مسئلہ یا سوال کا تعین اور اس کا فہم حاصل کرنا ہے۔ اس کے ساتھ تحقیق کا جواز اور عقلی دلائل بھی اہم ہوتے ہیں۔ تجربہ کار محقق اور ریسرچ میتھاڈولوجی کے استاد نے شرکاء کو تحقیق کے مختلف مراحل سے بھی آگاہ کیا جن میں سوالات اٹھانے سے لے کر مقاصد کے تعین، معلومات کے حصول اور ان کے تجزیہ تک کے امور شامل ہیں۔