صفحہ اول آئی پی ایس - بنیادی معلومات English
بنیادی معلومات


آئی پی ایس ایک نظر میں چھاپیے ای میل

قیام: ۱۹۷۹ء
چیئرمین : پروفیسر خورشیداحمد
ڈائریکٹر جنرل: خالدرحمٰن

وژن

مسلم دنیا کے مسائل پر بالخصوص اور عالمی مسائل پر بالعموم تحقیق کی صلاحیت کا اس طرح حصول کہ پالیسی سازی میں مصروف افراد اور اداروں سے تعامل کے ذریعے پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔

مشن

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز ___خطہ اور عالمی برادری سے متعلق امور پر تحقیق، مکالمہ اور مطبوعات کے ذریعے پالیسی کی تشکیل میں حصہ ادا کرتا ہے۔

مخاطبین

• پالیسی ساز : سیاست دان، قانون ساز، سرکاری حکام
• رائے عامہ ساز : تجزیہ کار، اہل علم، محققین، ذرائع ابلاغ، متعلقہ شہری
• پیشہ ورانہ ماہرین: سفارت کار، سول سوسائٹی، تنظیمات، کاروباری حلقے

لائحہ عمل

• تحقیق: داخلی پروگرام، معاونت اور اشتراک عمل
• مکالمہ: سیمینار، کانفرنس، لیکچر، اظہار خیال
• تربیت اور نشوونما: پیشہ ورانہ اور انتظامی امور پر ورک شاپس
• میڈیا : مضامین، تجزیاتی معلومات، سمعی و بصری ذرائع ابلاغ کے پروگراموں میں شرکت اور اظہارخیال

جرائد

• پالیسی پرسپیکٹو، ششماہی انگریزی مجلہ
• مغرب اور اسلام، سہ ماہی اردو مجلہ
• نقطہ نظر، کتابوں پر تبصرہ کا ششماہی اردو مجلہ

سیمینارز

• سیمینار، کانفرنس، ورکشاپ اور گول میزمذاکرہ: اب تک ایسے ایک ہزار سے زائد پروگرام ہوچکے ہیں۔
• مطبوعات: دو سو سے زائد

تعاون و اشتراک

آغاز ہی سے بین الاقوامی سطح کے معیاری علمی و تحقیقی اداروں سے گہرے ربط وتعاون کا سلسلہ جاری ہے۔ ان اداروں میں پاکستان، چین، امریکہ، برطانیہ، ناروے، جرمنی اور ایران کے علاوہ بین الاقوامی و علاقائی تنظیمات اور ادارے بھی شامل ہیں۔

تحقیق کے شعبے

• پاکستانی امور
معاشرہ، سیاست، دفاع ، خارجہ پالیسی، تعلیم، معیشت، میڈیا، ثقافت، خاندانی اور صنفی امتیاز کے مسائل، علاقائی اور قومیتی امور
• بین الاقوامی تعلقات
عالمی اور علاقائی حرکیات
• مذہب اور عقیدہ
افکار، تحریک اور مسائل

 
تعارف چھاپیے ای میل

خالد رحمٰنانسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد میں خوش آمدید! آئی پی ایس ایک آزاد علمی و تحقیقی ادارہ ہے جو مالی منفعت سے ماوراء قومی حکمتِ عملی کے امور پرتحقیق کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ یہ قومی اور بین الاقوامی موضوعات پر تبادلہ خیال اور تجزئیے کے لیے فورم مہیا کرتا ہے۔ ادارہ کی تحقیقی خدمات کا عرصہ تیس سال سے زائد ہے جس میں اہم پالیسی معاملات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ ادارہ جدید جمہوری معاشرے میں تھنک ٹینک کا کردار اجاگر کرتا ہے۔
آئی پی ایس اپنے مقاصد کے حصول کے لیے، سیمینارز، کانفرنسیں، ورکشاپس اور مکالمے کے ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اس کی دلچسپی کے کثیر جہتی موضوعات پر رپورٹس، جرائد، کتب ، موضوعاتی تحقیق اور شخصی و اداراتی نشوونما پر مبنی سر گرمیاں ادارے کے مقاصد کو آگے بڑھانے کا اہم ذریعہ بنتی ہیں۔ آئی پی ایس جہاں پالیسی سازی سے متعلقہ امور پر قابلِ عمل اور ٹھوس لائحہ عمل تیار کرتا ہے وہیں پالیسی سازوں ، تجزیہ نگاروں ، سیاسی قائدین، قانون ساز افراد اور اداروں اور دیگر متعلقہ شعبہ جات کے لیے راہِ عمل متعین کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ ادارہ انتظامی معاملات میں فعالیت، شفافیت، پیشہ ورانہ مہارت، اور اپنی کارکردگی کی افادیت کو یقینی بناتا ہے۔ خود مختاری ، ثقاہت اور وقار ادارے کا اصل اثاثہ ہے جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ یہ تھنک ٹینک اپنے تمام مالی امور میں خود کفیل ہے۔ وقف شدہ املاک سے حاصل آمدن ، مالی تعاون اور مختلف افراد کی رضا کارانہ خدمات اسے کسی بیرونی امداد سے بے نیا ز کرتی ہیں ، اسی طرح رسائل ، کتب اور ممبرشپ فیس سے حاصل شدہ آمدن کے علاوہ ادارہ مشاورتی خدمات کے ذریعے بھی وسائل حاصل کرتا ہے۔

آئی پی ایس نے اپنے لئے(ا)  ملکی معاملات، (ب) بین الاقوامی تعلقات اور (ج) ایمانیات اور سماج کو تحقیقاتی عنوانات کے طور پر منتخب کیا ہے اور اس مقصد کے لیے اندرون اور بیرونِ ملک موجود دانشوروں سے موثر رابطے کی غرض سے ادارے کے مقاصد سے ہم آہنگ افراد کی ایک ٹیم ہمہ تن مصروفِ عمل ہے۔ اس انداز کو اپنانے سے آئی پی ایس نہ صرف اس قابل ہے کہ خود ادارے کے اندر فعال تحقیقی سر گرمیاں جاری رہیں بلکہ ادارے سے وابستہ مختلف افراد اپنے اپنے مقامات پر رہ کر بھی اپنے علم و دانش اور فکر کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔ ادارے کی تحقیقی سر گرمیاں نیشنل اکیڈمک کونسل تیار کرتی ہے اور یہ پروگرام اسی کے زیرِ نگرانی تشکیل پاتے ہیں۔ نیشنل اکیڈمک کونسل بنیادی اور اہم کردار کی حامل ہے کیو نکہ یہ نہ صرف رہنمائی اور نگرانی کا فریضہ انجام دیتی ہے بلکہ ادارے کی تر جیحات بھی متعین کرتی ہے۔ آئی پی ایس ہم خیال اداروں اور تنظیمات کے ساتھ مل کر بھی مختلف سر گرمیاں سر انجام دیتا ہے اور اسی طرح دیگر اداروں کے ایسے پروگرام جو انسٹی ٹیوٹ کے مقاصد سے ہم آہنگ ہوں ان میں اپنا سرگرم تعاون بھی پیش کرتا ہے۔ متعین موضوعات پر مختصر دورانیے کا یہ تعاون مشترکہ تحقیق ، سیمینارز کے انعقاد یا لائبریری اور دیگر خدمات کے تبادلے پر مبنی ہو سکتا ہے۔ اس وقت ادارے کا اس نوعیت کا تعلق متعدد ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ قائم ہے ۔ اندرون اور بیرون ملک مختلف تحقیقی اداروں اور آئی پی ایس کے محققین طے شدہ منصوبہ کے تحت باہمی دورے کرتے ہیں۔