افغانستان میں اعلیٰ تعلیم چھاپیے ای میل
تحریر ڈاکٹر مصباح اللہ عبد الباقی   

توضیحی نوٹ

مصنف ڈاکٹر مصباح اللہ عبد الباقی کا تعلق افغانستان کے صوبہ ننگر ہار سے ہے انہوں نے اصول الدین میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں اصول الدین فیکلٹی میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ مقالہ افغانستان کے حکومتی اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داران، اساتذہ، طلبہ اور تعلیمی شعبہ سے وابستہ متعدد اہلِ دانش کے ساتھ ہونے والی رسمی اور غیر رسمی نشستوں، مکالموں اور گفتگوؤں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر تحریر کیا گیا ہے۔ یہ مقالہ 2007ء میں لکھا گیا تھا اور 2009ء میں نظر ثانی کر کے اس میں دی گئی معلومات کو مزید بہتر اور تازہ بنا دیا گیا ہے۔

مصنف نے مقالہ کو آخر شکل دینے میں آئی پی ایس کے ایسوسی ایٹ جناب نصیر احمد نویدی اور ریسرچ کوآرڈی نیٹر سردار علی یوسف زئی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انگریزی میں یہ مقالہ انسٹی ٹیوٹ آپ پالیسی اسٹڈیز کے ریسرچ جرنل پالیسی پرسپیکٹوز کے شمارہ جولائی- دسمبر 2009ء میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

ابتدائیہ

[اعلی تعلیم کسی بھی معاشرے میں بنیادی اہمیت ہی نہیں رکھتی بلکہ یہ اس اعتبار سے بھی ایک حساس موضوع ہے، کہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر قومیں ترقی اور عروج کی منازل طے کرتی ہیں، چنانچہ کسی معاشرے کی ترقی اور پیش رفت کا اندازہ لگانے کے لیے یہ معلومات اہم ہوتی ہیں کہ اعلی تعلیم کے ادارے کتنے ہیں ، ان میں کس معیار کی تعلیم مہیا کی جاتی ہے، کتنے لوگوں کو اعلی تعلیم کے مواقع میسر ہیں؟ ان اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ کی علمی سطح کیا ہے؟ سالانہ کتنے تحقیقی مقالے لکھے جاتے ہیں؟ اور اعلی تعلیم کے اداروں سے کتنے تحقیقی مجلات شائع ہوتے ہیں؟ اعلی تعلیم کو اس لیے بھی ترقی اور پیشرفت کا معیار سمجھا جاتاہے کہ ان مدارج سے گذر کرلوگ زندگی کے مختلف میدانوں میں معاشرے کی قیادت سنبھالتے ہیں، انہی اداروں سے معاشرے کے لیے فکری ، علمی، اجتماعی اور سیاسی میدانوں میں قیادت مہیا ہوتی ہے، یہی لوگ کسی بھی معاشرے کے آئندہ  خد وخال کا تعین کرتے ہیں اور معاشرے کو غلط یا صحیح سمت میں چلانے اور ترقی یا تنزلی کی طرف لے جانے میں بنیادی کردار  ادا کرتے ہیں۔ اس وقت جبکہ افغان معاشرہ اپنی تاریخ کے حساس دور سے گذر رہاہے اس کی سمت کا تعین ضروری ہے۔ اعلی تعلیم کے سلسلے میں وہ کیا اقدامات ہیں جو افغان معاشرے کو صحیح سمت میں لے جاسکتے ہیں؟ اور وہ کیا خامیاں ہیں جو اس معاشرے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں؟ یہی وہ امور ہیں جنہیں ذیل کی سطور میں زیربحث لایا گیا ہے۔]

 

افغانستان میں اعلی تعلیم: تاریخی پس منظر

۱۷۴۷ء کو احمدشاہ ابدالی کی کوششوں سے جدید افغانستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے ۱۸۶۸ء میں امیر شیر علی خان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے وقت تک کا زمانہ باہمی لڑائیوں اور انگریزوں  کی طرف سے افغانستان پر قبضے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت میں گذرا ۔ اس دوران مختلف حکومتوں کی طرف سے عصری نظام تعلیم قائم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، لوگ حسب سابق دینی مدارس اور علماء کے حلقات درس میں تعلیم حاصل کرتے رہے،  امیر شیرعلی خان (۱۸۶۳-۱۸۷۸ء) کے زمانے میں سید جمال الدین افغانی کی کوششوں سے جدید تعلیم کی ابتداء ہوئی لیکن اعلی تعلیم کے لیے پھر بھی کوئی ادارہ قائم نہ کیا جاسکا، یہی صورتحال امیر عبد الرحمان خان (۱۸۸۰-۱۹۰۱ء) ، اس کے بیٹے امیر حبیب اللہ خان (۱۹۰۱-۱۹۱۹ء) ، اور امیر حبیب اللہ خان کے بیٹے امیر امان اللہ خان (۱۹۱۹-۱۹۲۹ء)  کے عہد حکومت میں بھی قائم رہی، اس سارے عرصے میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت معمولی رہی، اس عرصے میں اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کے جو نام افغانستان میں ملتے ہیں ان میں سے اکثر ترکی، ہندوستان اور برطانیہ سے پڑھ کر آنے والوں کے ہیں۔ درحقیقت ان میں سے کچھ تو افغان بھی نہیں تھے، بلکہ ترکی اور ہندوستان کے رہنے والے تھے جنہوں نے اعلی تعلیم کے حصول کے بعد افغانستان میں سکونت اختیار کی تھی، البتہ امیر امان اللہ خان کے عہد حکومت میں کچھ افغان طلبہ کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے فرانس، جرمنی، ترکی، روس اور دوسرے ممالک بھیجا گیا۔

 


افغانستان میں اعلیٰ تعلیم کی ابتداء ۱۹۳۲ء (۱۳۱۱ھ ش) میں ہوئی جب کابل شہر میں ظاہر شاہ کے والد محمد نادرشاہ (۱۹۲۹-۱۹۳۳ء) کی طرف سے طبی علوم کی فیکلٹی قائم ہوئی جس کو ایک ترکی پروفیسر (ڈاکٹر فقی کامل بیگ) کی سرپرستی حاصل تھی۔ بعدازاں ۱۹۴۶ء میں یہی فیکلٹی کابل یونیورسٹی کی بنیاد بنی جس میں وقتاً فوقتاً اور ضرورت کے مطابق کئی اور مختلف فیکلٹیوں کا اضافہ ہوتا رہا۔

 

طبی علوم کی فیکلٹی کے قیام کے پورے ۳۱ سال بعد ۱۹۶۳ء میں ملک میں اعلی تعلیم کا دوسرا ادارہ جلال آباد شہر میں معرض وجود میں آیا جس کا نام بعد میں’’ننگرہار یونیورسٹی‘‘ رکھاگیا۔


اعلیٰ تعلیم کا تیسرا ادارہ ۱۹۶۹ء میں قائم ہوا جب اس وقت کے سوویت یونین کے تعاون سے بنائے گئے پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کا رسماً افتتاح ہوا، یہ ادارہ انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے مخصوص تھا۔۱۹۷۷ء میں ’’وزارت برائے اعلیٰ تعلیم و نظری تربیت‘‘ کے نام سے اعلیٰ تعلیم کی وزارت قائم کی گئی۔ اور اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے ساتھ ساتھ ووکیشنل ٹریننگ کے سارے ادارے بھی اس وزارت کی سرپرستی میں دے دیے گئے۔ اس سے پہلے ان اداروں سمیت تمام تعلیمی ادارے ’’وزارت تعلیم‘‘ (Ministory of Education) کے زیراہتمام کام کرتے تھے۱۔

 

۱۹۸۷ء میں نجیب اللہ کے دور حکومت میں ’’بلخ یونیورسٹی‘‘ کا قیام مزار شریف کے شہر میں عمل میں آیا۔ ابتداء میں اس یونیورسٹی میں  bullet3 انجینئرنگ bullet3 تاریخ اور ادبیات bullet3 اقتصادیات اور زراعت اور bullet3 میڈیکل  کی فیکلٹیاں قائم کی گئیں۔

 

۱۹۸۸ء میں نجیب اللہ کی روس نواز حکومت کی طرف سے ’’اسلامی تحقیقات کی یونیورسٹی‘‘ (University of Islamic Studies)  قائم ہوئی۔ یہ یونیورسٹی  ۱۹۹۲ء میں پروفیسر برہان الدین ربانی کے عہد حکومت میں پشاور سے منتقل ہونے والی ’’دعوت و جہاد یونیورسٹی‘‘ جس کو پروفیسر عبدالرسول سیاف چلاتے تھے، میں ضم ہوئی۔ طالبان کی آمد کے ساتھ یہ دونوں ایک ساتھ ختم ہوگئیں۔ پروفیسر عبدالرسول سیاف نے نقصِ امن کے اندیشے اور بدلتے حالت کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے دوبارہ اس کی احیاء کی کوشش نہیں کی۔


۱۹۸۸ء ہی میں نجیب اللہ کی طرف سے ہرات شہر میں ایک یونیورسٹی کی بنیاد رکھ دی گئی جس میں ابتداً صرف ایک فیکلٹی (فارسی لٹریچر) فعال تھی۔ پھر ۱۹۹۰ء میں نجیب ہی کے دور حکومت میں قندھار یونیورسٹی کے نام سے ایک اور یونیورسٹی معرض وجود میں آئی۔ ابتداء میں اس نے ایک فیکلٹی (زراعت) کی حیثیت سے کام شروع کیا۲۔

 

۱۹۹۲ء میں جب مجاہدین نے زمام اقتدار سنبھالا اس وقت اگرچہ خانہ جنگی کا زمانہ تھا لیکن اس کے باوجود افغانیوں کے لیے پشاور میں قائم اعلیٰ تعلیم کے کچھ ادارے افغانستان منتقل ہوگئے۔ ان میں سے بعض ابھی تک (۲۰۰۹ء) کام کر رہے ہیں البتہ کچھ بند ہوگئے ہیں۔ یہ ادارے درج ذیل ہیں:


۱۔ دعوت وجہاد یونیورسٹی: یہ یونیورسٹی ۱۹۸۵ء میں اتحاد اسلامی مجاہدین افغانستان کی طرف سے افغان مہاجرین کے کیمپ ’’ہجرت کلے‘‘ میں استاد عبدالرب رسول سیاف کی زیرسرپرستی قائم ہوئی اور انہی کے مالی تعاون سے چلتی رہی۔ اس یونیورسٹی میں درج ذیل فیکلٹیاں کام کرتی تھیں:

bullet_picture شریعہ اور قانون  bullet_picture  اصول الدین   bullet_picture   میڈیکل    bullet_picture  انجینئرنگ bullet_picture  تعلیم       bullet_picture  عربی زبان   bullet_picture  سائنس   bullet_picture  زراعت

 

اس تعلیمی ادارے نے مہاجرین کے لیے تعلیم کے میدان میں قابل قدر خدمات انجام دیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ دیار ہجرت میں سب سے بڑا اور اپنی نوعیت کا واحد او ر قابل اعتماد ادارہ تھا تو بے جا نہ ہو گا۔ اس ادارے کے بہت سے گریجویٹ ابھی تک پراعتماد طریقے سے معاشرے کی خدمت میں مصروف ہیں۔


انہی خصوصیات کی بدولت ۱۹۸۷ء میں یہ یونیورسٹی رابطۃ الجامعات الاسلامیۃ کی رکن بنی، اور دنیا کی اکثریونیورسٹیوں میں اس کی سند معتبر سمجھی جانے لگی اور اس کے گریجویٹس کوداخلہ دیا جانے لگا۔ اس یونیورسٹی نے ۱۹۹۵ء تک ہجرت کلے پشاور میں اپنا کام جاری رکھا تاہم اسی سال عالمی دبائو کی وجہ سے ننگرہار کے ’’فارم غازی آباد‘‘ منتقل ہوئی اور پھر ۱۹۹۲ء میں کابل منتقل ہوئی جہاں اسے ’’تحقیقات اسلامی یونیورسٹی‘‘ میں ضم کر دیا گیا تھا۔ طالبان کی آمد کے ساتھ یہ بند ہوگئی۳۔

 

۲۔ اسلامی یونیورسٹی: یہ یونیورسٹی ۱۹۸۹ء میں حزب اسلامی افغانستان (حکمتیار) کی طرف سے پشاور میں قائم ہوئی،  اس یونیورسٹی  کی ابتداء میڈیکل اور تعلیم وتربیت کی فیکلٹیوں سے ہوئی، اور بعد میں اس کے اندر دوسری فیکلٹیوں کا اضافہ ہوا، جن میں انجنیرنگ، زراعت، شریعہ اور اصول الدین وغیرہ کی فیکلٹیاں شامل تھیں،یہ یونیورسٹی بعد میں افغان یونیورسٹی میں ضم ہونے کے بعد کرزئی کے دور حکومت میں افغانستان کے صوبے  خوست  منتقل ہوئی اور خوست یونیورسٹی کی شکل اختیار کی۔ اس وقت بھی اسی نام سے کام کر رہی ہے۔


۳۔ عبداللہ بن مسعود یونیورسٹی: یہ یونیورسٹی افغانستان سے سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد  ۱۹۹۱ء میں جمعیت اسلامی افغانستان (ربانی) کی طرف سے قائم ہوئی۔ اس کا کیمپس پشاور(چمکنی کے علاقے) میں تھا اور اس میں صرف دو فیکلٹیاں-- فیکلٹی آف شریعہ اور فیکلٹی آف اصول الدین تھیں۔ یہ یونیورسٹی پروفیسر برہان الدین ربانی کے عہد حکومت میں افغانستان کے صوبے تخار میں منتقل ہوئی جہاں یہ ابھی تک قائم ہے اور تخار یونیورسٹی کے نام سے یا دکی جاتی ہے۔


 ۴۔ اکیڈیمی اسلامی علوم اور ٹیکنالوجی: یہ تعلیمی ادارہ ۱۹۸۸ء میں (ہیئۃ الاغاثۃ الاسلامیہ) (IIRO) سعودی عرب کی طرف سے پشاور (حیات آباد) میں قائم ہوا۔ ابتداء میں رابطہ عالم اسلامی بھی اس کے قائم کرنے میں شریک تھا۔ بعد میں یہ مکمل طو رپر (ہیئۃ الاغاثہ) کے سپرد ہوئی۔ بعدازاں اسے ڈاکٹر اسحاق ظفر (ایک سعودی پروفیسر) کے زیرانتظام دے دیا گیا جو ایک اچھے منتظم کی صلاحیت سے محروم تھے۔ پروفیسر برہان الدین ربانی کے دورحکومت میں یہ ادارہ بھی افغانستان منتقل ہوا۔ بعد میں دو حصوں میں تقسیم ہوکراس کا ایک حصہ جلا ل آباد شہر میں باقی رہا جبکہ دوسراحصہ ہرات منتقل ہوا۔ طالبان کے دورحکومت میں یہ ادارہ بھی بحران کا شکار رہا،جس کو کرزئی دور میں دوسرے اداروں میں ضم کر دیا گیا ہے۔

 

اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں دیار ہجرت میں ان کے علاوہ او ربھی چھوٹے بڑے ادارے قائم تھے جو مجاہدین کے دور حکومت میں افغانستان کے اندر منتقل ہوئے اور بعد میں یا تو خود بخود ختم ہوگئے یا دوسرے اداروں میں ضم ہوگئے۔ ان ہی میں خواتین کی ’’امہات المومنین یونیورسٹی‘‘، تھی جو ۱۹۸۹ء میں پشاور میں قائم ہوئی۔ یہ خواتین کی ’’تنظیم خواھران مسلمان‘‘ کی زیرسرپرستی کام کرتی تھی۴۔  اس میں میڈیکل، شریعہ فیکلٹی، لٹریچر، سائنس اور ایجوکیشن کی فیکلٹیاں کام کرتی تھیں۔  ۱۹۹۲ء میں کابل میں مجاہدین کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس نے پرائیویٹ یونیورسٹی کی حیثیت اختیار کی اور بعد میں بند ہوگئی۔ اسی طرح ایک افغان این جی او Coordinating Humanitarian Assistance کی طرف سے قائم کی گئی انجینئرنگ فیکلٹی کچھ عرصے تک خدمت سرانجام دینے کے بعد کرزئی دور میں ہرات یونیورسٹی میں ضم ہوگئی۔

 

طالبان دورِ حکومت میں اعلی تعلیم

طالبان دورِ حکومت میں ان کے مخصوص مزاج کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے ادارے جو پہلے ہی ناگفتہ بہ حالت میں تھے مزید ابتری کا شکار رہے۔ طالبان سے پہلے افغانستان میں اعلیٰ تعلیم کے کل ۱۴ ادارے قائم تھے۔ تاہم طالبان کے دور حکومت میں ان میں سے محض نصف یعنی درج ذیل سات تعلیمی ادارے کام کرتے رہے:
کابل یونیورسٹی، پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ، میڈیکل یونیورسٹی کابل، ہرات یونیورسٹی، ننگر ہار یونیورسٹی، قندھار یونیورسٹی اور اکیڈیمی اسلامی علوم وٹیکنالوجی (اس کے دوکیمپس جلال آباد اور ہرات میں قائم تھے)۔


ان اداروں کو درج ذیل مشکلات درپیش تھیں:
۱۔ اساتذہ کی قلت: قابل اور ماہر اساتذہ کی شدید قلت ، کیونکہ ایک تو پہلے سے اساتذہ کم تھے اور کچھ طالبان کی آمد کی وجہ سے ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ کیونکہ اساتذہ کی معاشی حالت بہت خراب تھی پھر طالبان کا مخصوص مزاج بھی اس کاسبب بنا۔ طالبان کی نظر میں دنیوی تعلیم کی وقعت اور حیثیت نہ ہونے کے برابر تھی۔


طالبان کے اس مخصوص مزاج کی وجہ سے متعدد طلبہ نے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو خیرباد کہا اور جو طلبہ ان اداروں میں رہے وہ تہدید، توہین اور استبداد کا شکار بنتے رہے۔ یوں اعلیٰ تعلیم کے تمام اداروں میں طلبہ کی تعداد بمشکل چار اور پانچ ہزار کے درمیان تھی۔


۲۔ مالی وسائل کی کمی:  طالبان کے زمانے میں خانہ جنگی کی بناء پر تعلیم کے لیے عموماً اوراعلیٰ تعلیم کے لیے خصوصاً بجٹ بہت مختصر ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے تعلیمی سہولتوں، کتابخانے ، لیبارٹریاں اور درس و تدریس کے دیگر وسائل نہ ہونے کے برابر تھے۔ کمپیوٹر اور دوسرے جدید وسائل کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ جو طلبہ ہاسٹل میں رہتے تھے ان کے لیے کھانے پینے کے مصارف بہت کم دیے جاتے تھے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں ہاسٹل کے طلبہ کے لیے رہائش ، طعام اور دیگر مصارف روایتی طور پر حکومت  کی طرف سے مہیا کیے جاتے ہیں۔ جلال آباد شہر کے میڈیکل کالج کے طلبہ نے یکم دسمبر ۱۹۹۸ء کو اس پر احتجاج کیا اور جلوس نکالنے کی کوشش کی تو ان پر گولیاں چلائی گئیں۵۔


 اس کے علاوہ تعلیمی نصاب کا پرانا ہونا، کتابوں کی عدم دستیابی، دوسرے ملکوں کے تعلیمی اداروںکے ساتھ مکمل طور پر قطع تعلق، علمی اور تحقیقی ماحول کا فقدان، تنخواہوں کابہت معمولی ہونا اور بروقت نہ ملنا، طالبان اور ان سے پہلے مجاہدین کے عہد حکومت کی وہ مشکلات ہیں جن کی وجہ سے یہ تعلیمی ادارے پڑوسی ممالک کے تعلیمی اداروں کے معیار کو بھی نہیں پہنچتے تھے چہ جائیکہ وہ عالمی معیار کے مطابق ہوں۔

 

 کرزئی دورِ حکومت میں اعلی تعلیم

۲۰۰۱ء میں جب امریکہ نے طالبان حکومت کو گراکر کرزئی کو مسند اقتدار پر بٹھایا تو دوسرے شعبوں کی طرح اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بھی کچھ نہ کچھ اقدامات کیے گئے۔ یہاں اعلی تعلیم کے بارے میں بنیادی معلومات اور اقدامات کا ذکر کرنے کے بعد ان مشکلات کا ذکر ہے جوآج کے افغانستان میں اعلیٰ تعلیم کو درپیش ہیں جبکہ آخر میں تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

 

اعلی تعلیم کے بارے میں بنیادی معلومات
آج (۲۰۰۹ء) کے افغانستان میں اعلیٰ تعلیم کے ۱۹ ادارے موجود ہیں*جن میں مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہے۔۲۰۰۷ء تک کسی بھی شعبے میں ایم اے کی کلاسیں موجود نہیں تھیں۶، ان تعلیمی اداروں اور ان میں موجود شعبہ جات اور تعلیمی سال ۰۶-۲۰۰۵ء میں ان میں زیرتعلیم طلبہ وطالبات اور اساتذہ کی تعداد درج ذیل تھی۷:   

نمبر شمار یونیورسٹی کا نام اور مقام سال تأسیس شعبے اور فیکلٹیاں
۱ کابل یونیورسٹی ۱۹۴۶ء ۱۔ فارسی ۲۔زراعت ۳۔لٹریچر والسنۃ ۴۔علوم سیاسی ۵۔سائنس ۶۔شریعہ ۷۔انجینئرنگ ۸۔اقتصاد ۹۔وٹرنری ۱۰۔صحافت اور جرنلزم ۱۱۔علوم اجتماعی ۱۲۔ایجوکیشن ۱۳۔فائن آرٹس ۱۴۔ زمین شناسی
۲ میڈیکل یونیورسٹی کابل ۱۹۳۲ء 1.Medicine 2.Children 3.Stomatology
۳ پولی ٹیکنیک یونیورسٹی (کابل) ۱۹۶۰ء 1.Civil Engineering 2.Geology and Mines 3.Electromechanic
۴ یونیورسٹی آف ایجوکیشن (کابل) ۲۰۰۴ء ۱۔In Service Teachers ۲۔اجتماعی علوم ۳۔زبان اور لٹریچر ۴۔طبیعی علوم ۵۔تربیت بدنی (Physical Education)
۵ ننگرہار یونیورسٹی (جلا ل آباد) ۱۹۶۳ء ۱۔ میڈیکل ۲۔زراعت ۳۔زبان اور لٹریچر۴۔انجینئرنگ ۵۔علوم سیاسی وقانون ۶۔شرعیات ۷۔ایجوکیشن ۸۔اقتصاد ۹۔طب حیوانات یا وٹرنری
۶ بلخ یونیورسٹی (مزارشریف) ۱۹۸۷ء ۱۔ میڈیکل ۲۔زراعت ۳۔زبان اور لٹریچر ۴۔انجینئرنگ ۵۔قانون و علوم سیاسی ۶۔شرعیات ۷۔ایجوکیشن ۸۔اقتصاد
۷ ہرات یونیورسٹی (ہرات شہر) ۱۹۸۸ء ۱۔ میڈیکل ۲۔زراعت ۳۔زبان اور لٹریچر ۴۔انجینئرنگ ۵۔علوم سیاسی وقانون ۶۔شرعیات ۷۔ایجوکیشن ۸۔اقتصاد ۹۔سائنس ۱۰۔فائن آرٹس
۸ قندھاریونیورسٹی(قندھارشہر) ۱۹۹۰ء ۱۔میڈیکل ۲۔انجینئرنگ ۳۔زرارعت ۴۔ایجوکیشن
۹ خوست یونیورسٹی (خوست شہر) ۲۰۰۳ء ۱۔ میڈیکل ۲۔شرعیات ۳۔قانون و علوم سیاسی ۴۔ایجوکیشن ۵۔کمپیوٹر سائنس
۱۰ تخار یونیورسٹی (تالقان شہر)
سابقہ ’’عبداللہ بن مسعود یونیورسٹی‘‘
۱۹۹۵ء ۱۔ایجوکیشن ۲۔زراعت ۳۔زبان اور لٹریچر ۴۔شرعیات ۵۔انجینئرنگ
۱۱ البیرونی یونیورسٹی(گلبہار کاپیسا) ۱۹۹۸ء ۱۔ میڈیکل ۲۔زراعت ۳۔شرعیات ۴۔انجینئرنگ ۵۔قانون و علوم سیاسی ۶۔ایجوکیشن
۱۲

بامیان یونیورسٹی (بامیان شہر)

(یہ یونیورسٹی افغانستان کی شیعہ تنظیم حزب وحدت کی طرف سے بامیان شہر میں ۱۹۹۷ء میں معرض وجود میں آئی تھی ۔ ۲۰۰۳ء میں حزب وحدت کے اصرار پر کرزئی نے اس کو اعلیٰ تعلیم کی وزارت کے سپرد کیا۔)

۱۹۹۷ء ۱۔زراعت ۲۔ایجوکیشن
۱۳ پکتیایونیورسٹی (گردیزشہر) ۲۰۰۴ء ۱۔ زراعت ۲۔ ایجوکیشن
۱۴

بغلان یونیورسٹی (پل خمری شہر)

(یہ یونیورسٹی مجاہدین کے برسراقتدار آنے کے بعد بنی۔ طالبان کے عہد حکومت میں معطل رہی۔ ۲۰۰۳ء میں ازسرنو کام کا آغاز کیا۔)

۱۹۹۳ء ۱۔زراعت ۲۔ایجوکیشن
۱۵ انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن- جوزجان ۲۰۰۳ء ۱۔کیمیائی ٹیکنالوجی ۲۔علوم اجتماعی ۳۔علوم طبعی ۴۔جیالوجی اور معاون
۱۶ انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن- قندھار (یہ ادارہ پہلے وزارت تعلیم کے زیرپرسرستی کام کرتا تھا۔ ۲۰۰۵ء میں اس کوupgrade کرکے اعلیٰ تعلیم کی وزارت کی سرپرستی میں دے دیا گیا۔ ) ۲۰۰۵ء ۱۔ ایجوکیشن
۱۷ انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن- فیض آباد ۱۔میڈیکل ۲۔ایجوکیشن
۱۸

انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن- فاریاب

(یہ ادارہ ۱۹۷۷ء میں قائم ہوا اور ۱۹۸۷؁ء میں upgrade ہوا۔ یہ بنیادی طور پر ٹیچر ٹریننگ کا ادارہ ہے )

۱۹۸۷ء ۱۔ایجوکیشن
۱۹ انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن- پروان یہ بھی ٹیچرٹریننگ کاادارہ ہے اور صرف ایک ہی شعبہ یعنی ایجوکیشن فعال ہے۔

 

واضح رہے کہ ۲۰۰۲ء میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں داخلے کے لیے چار ہزار (۴۰۰۰ہزار)طلبہ اور طالبات نے فارم جمع کرائے تھے۔ سال ۲۰۰۵ء میں یہ تعداد دس گنا بڑھ کر چالیس ہزار ہوگئی، اور ۲۰۰۶ء میں اعلی تعلیم کے اداروں میں خواہشمند طلبہ اور طالبات کی تعداد (۵۲) ہزار ہوگئی، اور سال ۲۰۰۷ء میں یہ تعداد ۵۷۶۰۶ہوگئی(اس کے لیے دیکھیے: وزارت اعلیٰ تعلیم کی ویب سائٹ)۔ یہ تعداد سال بہ سال اسی تناسب سے بڑھتی جارہی ہے جس تناسب سے سیکنڈری مرحلے سے فارغ ہونے والے طلبہ اور طالبات کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے۔

 

ادارے کا نام طلبہ کی تعداد طالبات کی تعداد طلبہ اور طالبات کی مجموعی تعداد مرد اساتذہ خواتین اساتذہ اساتذہ کی کل تعداد
۱۔ کابل یونیورسٹی ۷۰۸۴ ۱۷۴۶ ۸۸۳۰ ۳۹۵ ۹۵ ۴۹۰
۲۔ میڈیکل یونیورسٹی کابل ۲۰۵۶ ۴۸۰ ۲۷۳۶ ۱۸۷ ۲۲ ۲۰۰
۳۔ پولی ٹیکنیک یونیورسٹی (کابل) ۲۱۳۲ ۴۷ ۲۱۷۹ ۱۱۷ ۱۸ ۱۳۵
۴۔ یونیورسٹی آف ایجوکیشن (کابل) ۱۸۰۵ ۱۶۸۹ ۳۴۹۴ ۱۱۲ ۳۹ ۱۵۱
۵۔ پکتیا یونیورسٹی ۱۶۹ - ۱۶۹ ۹ - ۹
۶۔ بامیان یونیورسٹی ۲۷۷ ۱۵ ۲۹۲ ۳۱ ۵ ۳۶
۷۔ تخار یونیورسٹی ۶۲۰ ۹۱ ۷۱۱ ۲۴ - ۲۴
۸۔ انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن - جوزجان ۶۱۴ ۴۰۵ ۱۰۱۹ ۳۶ ۱۳ ۴۹
۹۔ بلخ یونیورسٹی ۳۵۷۹ ۱۷۴۸ ۵۳۲۷ ۱۷۴ ۴۷ ۲۲۱
۱۰۔انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن - فاریاب ۲۳۶ ۲۶۶ ۵۰۲ ۲۰ ۱۰ ۳۰
۱۱۔ انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن - بدخشان ۱۱۳ ۱۲۱ ۲۳۴ ۵ ۷ ۱۳
۱۲۔ البیرونی یونیورسٹی ۱۱۳۰ ۱۶ ۱۱۴۶ ۴۴ ۱ ۴۵
۱۳۔ ننگرہار یونیورسٹی ۳۲۹۶ ۹۴ ۳۳۹۰ ۲۵۵ ۸ ۲۶۳
۱۴۔بغلان یونیورسٹی ۱۰۷۸ ۲۲۸ ۱۳۰۶ ۲۰ ۲ ۲۲
۱۵۔انسٹی ٹیوٹ آف ہائیر ایجوکیشن - قندز ۱۹۰ ۳۰ ۲۲۰ ۱۳ ۵ ۱۸
۱۶۔ہرات یونیورسٹی ۲۷۳۴ ۱۲۷۰ ۴۰۰۴ ۱۳۴ ۲۳ ۱۵۷
۱۷۔قندھار یوینورسٹی ۹۲۰ ۳۸ ۹۵۸ ۵۴ ۴ ۵۸
۱۸۔خوست یونیورسٹی ۱۱۹۸ ۲ ۱۲۰۰ ۳۷ - ۳۷
۱۹۔ انسٹی ٹیوٹ آف ہائیر ایجوکیشن - پروان ۶۷۲ ۱۷۴ ۸۴۶ ۹ ۴ ۱۳
کل تعداد ۲۹۷۸۷ ۸۷۷۶ ۳۸۵۶۳ ۱۶۷۶ ۳۰۳ ۱۹۷۹

 

اس طرح ۳۱ملین کی آبادی والے اس ملک میں اعلیٰ تعلیم کے ۱۹ ادارے ہیں جن میں صرف ۳۸۵۶۳ افراد کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی ہے۔ طالبات کی تعداد ۸۷۷۶ (۲۳فیصد) ہے اور خواتین اساتذہ بمشکل ۱۵ فیصد ہیں۔

 

 کرزئی حکومت کے اقدامات

افغانستان کی اعلیٰ تعلیم کی وزارت نے اپنی کارکردگی کے سلسلے میں ایک مفصل رپورٹ شائع کی ہے جسے ’’اعلیٰ تعلیم کی وزارت کی کارکردگی پر مبنی رپورٹ: حکومت کی ابتداء سے پارلیمنٹ کے انتخابات تک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ رپورٹ سے کرزئی حکومت کے درج ذیل اہم اقدامات سامنے آتے ہیں:

۱۔  وزارت کا نام اور دائرہ کار(Ministry of higher Education and Vocational

Training) سے تبدیل کر کے ’’وزارت برائے اعلیٰ تعلیم‘‘ (Ministry of Higher Education) رکھ دیا گیا۔ یعنی ووکیشنل ٹریننگ کے (۴۲) ادارے جوپہلے اعلیٰ تعلیم کی وزارت کی سرپرستی میں کام کرتے تھے  اس کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے اور اعلیٰ تعلیم کے سارے ادارے اس وزارت کی سرپرستی میں دے دیے گئے۔ اس کے ساتھ ٹیچر ٹریننگ کے کچھ ادارے جو بی اے تک تعلیم مہیا کرتے تھے اور وزارت تعلیم کی زیرسرپرستی کام کرتے تھے انہیں اعلیٰ تعلیم کی وزارت میں دے دیا گیا۔ اس طرح دونوں وزارتوں کے دائرہ اختیار کا مکمل طور پرتعین ہو گیا اور کنفیوژن کا خاتمہ ہوا۔
۲۔ بنیادی ڈھانچہ (Infrastructure)

افغانستان میں تعلیم کے لیے موجود بنیادی ڈھانچہ تین دہائیوں کی مسلسل جنگ کی وجہ سے مکمل طورپر ناکارہ ہو چکا تھا۔  ۲۰۰۱ء سے  ۲۰۰۵ء کے عرصے میں ان تعلیمی اداروں میں بجلی، پانی اور دیگر سہولیات کے نظام کو بہتر کیا گیا جبکہ بعض کی نئی عمارات بنائی گئیں تاکہ ان میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جاسکے۔

۳۔ سٹریٹجک پلان (Strategic Development plan)

 وزارت نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک دس سالہ (۲۰۰۵ء تا  ۲۰۱۵ء) منصوبہ بنایا۔ منصوبے کا پہلا مرحلہ دوسال، دوسرا مرحلہ تین سال اور تیسرا مرحلہ پانچ سال پر محیط ہے۔ ہر مرحلے کے لیے تفصیلی اہداف متعین کیے گئے ہیں بعض اہم اہداف درج ذیل ہیں:

bullet3    کیفیت اور تعلیمی معیار: تعلیم کی کیفیت کو بہتر بنانا، تعلیمی اداروں میں سہولتوں کی فراہمی، استعدادکار میں اضافہ (capacity building) ، اعلیٰ تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے اقدامات اور نصاب تعلیم کی اصلاح کی کاوشیں اس میں شامل ہیں۔ 
bullet3    نظا م کی اصلاح اور ادارہ جاتی نظام کی بہتری: مالی امور اور پلاننگ کے شعبوں میں بہتری کے ذریعے ادارہ جاتی نظام کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنا اور نئے ترتیب دیے گئے اعلیٰ تعلیم کے قانون کے اجراء کے ذریعے تعلیمی اداروں کو ادارہ جاتی، مالی اورتعلیمی معاملات میں  خودمختار بنانا۔
bullet3     اعلیٰ تعلیم کی سہولت زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے مہیاکرنا:  اس کام کے لیے پرائیویٹ سیکٹر میں تعلیمی اداروں کا قیام، حکومتی اداروں میں کام کی دوشفٹوں کا انعقاد اور نئے حکومتی ادارے بنانا ایک اہم ضرورت قرار دی گئی۔
bullet3    مالی وسائل مہیا کرنا: مختلف وسائل اورطریقوں کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے لیے مالی وسائل مہیا کرنا آئندہ منصوبے کا ایک اہم ہدف ہے۔
 دس سالہ منصوبے میں ان اہداف کے حصول کے لیے اعلی تعلیم کی وزارت کی طرف سے جو تفصیلی پروگرام پیش کیا گیا ہے اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
bullet3 (۳۴) صوبوں کے مرکزی شہروں میں (۳۴) دوسالہ ٹیکنیکل اور پروفیشنل تعلیمی کالجز کا قیام۔
bullet3 بدخشان، قندز، بغلان، جوزجان، فاریاب کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو یونیورسٹیوں کی سطح پر ترقی دینا۔
bullet3غزنی میں اعلیٰ تعلیم کا ایک ادارہ قائم کرنا۔
bullet3 کابل یونیورسٹی میں پشتو اور فارسی لٹریچر میں ایم اے کی کلاسوں کا اجرائ۔
bullet3کابل یونیورسٹی کو عالمی معیار کا ادارہ بنانا۔
bullet3 ننگرہار یونیورسٹی میں ہندی زبان کے ڈیپارٹمنٹ کھولنے کے لیے سروے کرنا۔
bullet3کابل یونیورسٹی کی شریعہ فیکلٹی کو اسلامک اسٹڈیز یونیورسٹی کی سطح پر ترقی دینا۔
bullet3  ۲۰۱۶ء تک اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں ایک لاکھ افراد کے داخلے کی گنجائش پیدا کرنا۔
bullet3  ۲۰۱۵ء تک ملک کی سب یونیورسٹیوں میںتدریس کی زبان کو انگریزی بنانا۔
bullet3  ۲۰۱۶ء تک یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد کو ۲۰ فیصد اور ماسٹرز ڈگری کے حامل اساتذہ کی تعداد کو ۵۰ فیصد تک لے جانے کا عزم۔
bullet3 افغانستان کی یونیورسٹیوں میں تحقیقات کے مراکز کا قیام۔
bullet3 تمام یونیورسٹیوں میں آئی ٹی سنٹرز کا قیام۔
bullet3  ایوننگ فیکلٹیز کی تعداد میں اضافہ کرنا۹۔

۴۔علمی امور میں وزارت کے اقدامات

 bullet3    اعلیٰ تعلیم کے لیے قانون: اعلیٰ تعلیم کے نظام کو منظم بنانے اور اس کو ترقی یافتہ ممالک کے معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے وزارت نے ایک نیا قانون ترتیب دیا ہے جس کو مسودہ قانون میں ڈھالنے کے لیے وزارت عدل کے پاس (۲۰۰۵ء) بھیج دیا گیا ہے، یہ قانون ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا ہے۔
bullet3کریڈٹ سسٹم کا اجراء :  تعلیمی حالت کو سدھارنے اور تعلیمی نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کریڈٹ سسٹم اعلی تعلیم کے اداروںاور یونیورسٹیوں میں عملاً نافذ کر دیا گیا ہے۔
bullet3     تعلیمی نصاب: افغانستان کے تعلیمی اداروں میں رائج تعلیمی نصاب کئی دہائیاں پرانا ہے۔ یہاں تک کہ انجینئرنگ اور میڈیکل کے شعبوں میں بھی بیس تیس سال پرانی معلومات پڑھائی جاتی ہیں۔ اس لیے نیا نصاب تعلیم ترتیب دینے کے لیے سمینارز منعقد ہوئے ہیں جن میں بیرونی(foreigners) سکالرز کے علاوہ افغانی سکالرز بھی شرکت کرتے رہے ہیں۔ ان اجتماعات اور سمینارز کے نتیجے میں کچھ بنیادی باتیں اور اصول مرتب کرلیے گئے ہیں جن کی روشنی میں مختلف شعبے اور فیکلٹیاں اپنے لیے نصاب تعلیم وضع کریں گی۔ اس نئے بننے والے نصاب تعلیم میں یہ خیال رکھا جائے گا کہ ایک طرف تو یہ قوم کی دینی، ثقافتی اور اجتماعی اقدار سے ہم آہنگ ہو اور دوسری طرف یہ بین الاقوامی اور نجی معیار اور مارکیٹ کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا جائے۔
bullet3    لیبارٹریاں: مختلف یونیورسٹیوں کے انجینئرنگ، زراعت، وٹرنری، سائنس اور بعض دیگر فیکلٹیوں میں ۶ لیبارٹریاں امریکہ، جاپان، فرانس اور جرمنی سے مکمل طور پر یا ابتدائی طورپر قابل عمل بنائی گئی ہیں۔
bullet3      لائبریریاں اور کمپیوٹر سہولیات:  اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں لائبریریاں جنگ کی وجہ سے تباہ ہو چکی تھیں، اور جو بچی تھیں وہ بہت خستہ اور ناگفتہ بہ حالت میں تھیں۔ گو اب بھی بہت سی لائبریریوں میں کتب کی تعداد بہت زیادہ نہیں تاہم اکثر تعلیمی اداروں میں ابتدائی طور پر لائبریریوں کی بنیاد ڈال دی گئی ہے۔ دوسری جانب  ادارہ جاتی نظام کی اصلاح، طلبہ کے استعمال اور صحافتی سہولتوں کے لیے انہیں کمپیوٹر اور دوسرے وسائل مہیا کر دیے گئے ہیں۔جبکہ کابل یونیورسٹی، پولی ٹیکنیک یونیورسٹی، ہرات یونیورسٹی، بلخ اور ننگرہار یونیورسٹیوں میں انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کردی گئی ہے۔ اس ضمن میں کابل کے پولی ٹیکنیک یونیورسٹی میں جنوبی کوریا کے مالی اور فنی تعاون سے ایک جدید ترین آئی ٹی سنٹر بنایا گیا ہے۔
 bullet3     دوسرے ملکوں کی یونیورسٹیوں کے ساتھ علمی روابط (Twinship): امریکہ اور دنیا کے دوسرے ملکوں کی توجہ اور سرپرستی سے یہ ممکن ہوا ہے کہ افغانستان کی یونیورسٹیاں دنیا کی اہم یونیورسٹیوں کے ساتھ علمی روابط قائم کرسکیں۔ ان میں امریکہ، جرمنی، ہندوستان اور دوسرے یورپین ممالک کی یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ لائبریریوں اور دیگر ممالک کی یونیورسٹیوں کے ساتھ روابط کی تفصیل کے لیے درج ذیل جدول  ملاحظہ کیجیے۱۰۔

 

نمبرشمار تعلیمی ادارے کا نام لائبریریوں میں کتابوں کی تعداد کمپیوٹروں کی تعداد جن ممالک کی یونیورسٹیوں کے ساتھ Twinship ہے
۱ کابل یونیورسٹی ۷۰۰۰ ۵۰۰ جرمنی، امریکہ
۲ میڈیکل یونیورسٹی کابل ۲۵۰۰ ۳۰ جاپان، فرانس، امریکہ
۳ پولی ٹیکنیک یونیورسٹی (کابل) ۷۲۰۰۰ ۱۶۵ Nil
۴ یونیورسٹی آف ایجوکیشن (کابل) ۱۵۰۰۰ ۶۰ جاپان، امریکہ
۵ ننگرہار یونیورسٹی (جلا ل آباد) ۴۰۰۰ ۷۰ Nil
۶ بلخ یونیورسٹی (مزارشریف) ۲۵۰۰۰ ۲۰۰ پاکستان، جرمنی، امریکہ
۷ ہرات یونیورسٹی (ہرات شہر) ۴۰۰۰۰ ۱۰۰ جرمنی
۸ قندھاریونیورسٹی(قندھارشہر) ۱۸۰۰۰ ۱۰ Nil
۹ خوست یونیورسٹی (خوست شہر) ۳۰۰۰ ۵۰ جرمنی
۱۰ تخار یونیورسٹی (تالقان شہر) ۵۰۰۰ ۲۴ Nil
۱۱ البیرونی یونیورسٹی(کاپیسا) ۲۰۰۰ ۱۵ Nil
۱۲

بامیان یونیورسٹی (بامیان شہر)

۶۰۰۰ ۳۰ سویٹرزلینڈ
۱۳ پکتیایونیورسٹی ۳۰۰۰ ۵ Nil
۱۴

انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن - بغلان

۷۰۰ کوئی نہیں Nil
۱۵ انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن- جوزجان ۳۰۰۰ ۱۷ Nil
۱۶ انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن - قندز ۴۰۰۰ ۱۲ Nil
۱۷ انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن - بدخشان ۲۵۰۰ ۲ Nil
۱۸

انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن- فاریاب

۳۰۰۰ ۸ Nil
۱۹ انسٹی ٹیوٹ آف ہائیرایجوکیشن- پروان ۴۰۰۰ ۲۷ فرانس

 

bullet3    شعبہ تدریس پر توجہ:  اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں اساتذہ کی استعداد کار بڑھانے کے سلسلے میں درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:
bullet3افغانستان کی یو نیورسٹیوں کے ۱۵ سابقہ پروفیسرز کو چھ ماہ اور ایک سال کے لیے مختلف شعبوں میں تدریس کے لیے بیرون ملک سے بلانا۔
bullet3اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ، اب پروفیسر کو (۱۵۰۰۰) پندرہ ہزار افغانی تقریباً (۳۱۲)ڈالر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کو (۱۳۵۰۰) افغانی (تقریباً ۲۸۱ ڈالر)، اور لیکچرر کے تین درجوں کے لیے بالترتیب (۱۰۵۰۰) افغانی (تقریباً ۲۱۸ ڈالر) اور(۹۰۰۰) افغانی (تقریباً ۱۸۸ ڈالر) اور ۷۰۰۰ افغانی (تقریباً (۱۴۸ ڈالر) دیے جاتے ہیں جوکہ پہلے کی تنخواہوں کی بہ نسبت تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ورلڈ بینک کے تعاون سے( ایک سال کے لیے) پی ایچ ڈی اساتذہ کے لیے ۳۰۰ ڈالر، ایم اے، ایم ایس سی اساتذہ کے لیے ۲۰۰ ڈالر اور بی اے، بی ایس سی اساتذہ کے لیے ۱۰۰ ڈالر ماہانہ مالی تعاون کے طورپر دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
bullet3  اساتذہ اورطلبہ کے لیے بیرون ملک اسکالرشپ: وزارت نے ۶۲۷ اساتذہ اور طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور مختصر مدت کے تربیتی کورسز کے لیے ملک سے باہر بھیجا ہے، ان میں سے ڈاکٹریٹ کے لیے ۲، ماسٹر ڈگری کے حصول کے لیے ۱۵ اور گریجویشن کے لیے ۷۳ تعلیمی سکالرشپ دیے گئے ہیں۔ باقی سب مختصر مدت کے تربیتی کورسز، کانفرنسوں کے انعقاد اور پوزیشن ہولڈرز طلبہ کے لیے ترتیب دیے گئے دوروں جیسی سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا۔ ان مطالعاتی دوروں میں شریک طلبہ اور طالبات  امریکہ ، جرمنی، ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں گئے۱۱۔

مشکلات اور توقعات

اعلیٰتعلیم کے حوالہ سے یہ وہ صورت حال ہے جو کرزئی حکومت کی اعلیٰ تعلیم کی وزارت نے اپنی کارکردگی کے طورپر پیش کی ہے، اب ہم اعلیٰ تعلیم کے ضمن میں درپیش مشکلات اور مسائل کے جائزے کے ساتھ ساتھ ان توقعات کا تذکرہ کریں گے جو افغانی عوام نے اعلیٰ تعلیم کی وزارت سے وابستہ کر رکھی ہیں۔

نظریا تی پہلو

۱۔ اہداف کا تعین

ایک مسلمان اور ایک سیکولر معاشرے میں تعلیم کا بنیادی تصور مختلف ہوتا ہے۔ سیکولر معاشرے میں سارا زور محض فنی قابلیت کے حصول پر دیا جاتا ہے جبکہ مسلمان معاشرے میں دین کی حیثیت اور رول ثانوی نہیں ہوتا۔ چنانچہ فنی قابلیت کے ساتھ ساتھ دین کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اسلامی اقدار، عقائد، احکام اور افکار کی تعلیم ایک بنیادی ہدف قرار پاتا ہے۔ دوسری جانب چونکہ افغانستان تین دہائیوں سے لڑائیوں، خانہ جنگیوں اور مشکلات میں گھرا رہا ہے، اس لیے افغان قوم کے اندر آپس کے روابط کمزور پڑ چکے ہیں، نیز لاکھوں لوگو ں کے سالہاسال ملک سے دُور رہنے کی وجہ سے تو جوان نسل اپنے ملک کی تاریخ، قومی شناخت اور اس کے اپنے مثبت اور منفی پہلوئوں سے پوری طرح پر واقف نہیں ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر افغانستان میں تعلیم اور خصوصاً اعلیٰ تعلیم کے بیک وقت درج ذیل تین اہداف ہونے چاہییں:
bullet3فنون میں اعلیٰ معیار کی قابلیت۔
bullet3دین اور عقیدے کے بارے میں مربوط اور مکمل آگاہی۔
bullet3ملک و ملت کی تاریخ، جغرافیہ اور حالات سے مکمل آگاہی
اگر تعلیمی نظام کے ذریعے ایسے افراد تیار ہوں جو فنی لحاظ سے تو قابل ہوں لیکن اپنے دین، ملک اور ملت کیساتھ ان کا کوئی اخلاص، تعلق اور وابستگی (commitment) نہ ہو توایسے تعلیمی نظام کا فروغ ظاہرشاہ دور کے ناکام تجربے کا اعادہ اور تکرار ہو گا، جو اس معاشرے کے لیے مطلوب ہے نہ مفید۔بدقسمتی سے اس وقت فیصلوں کا رُخ یہی ہے۔ چونکہ سب پالیسیاں امریکہ اور مغرب کے نقطۂ نظر کو سامنے رکھ کر ترتیب دی جا رہی ہیں، اس لیے فنی اور علمی لحاظ سے قابلیت کی بات تو کی جاتی ہے مگر دین اور ملک و ملت کی تاریخ سے آگاہی اور اس کے لیے قربانی کے جذبات کی بات قطعی طورپر بھلادی گئی ہے، بلکہ گذشتہ عرصے میں ایسے اقدامات بھی سامنے آئے ہیں جن سے پسِ پردہ اہداف بالکل الٹ محسوس ہوتے ہیں۔ ان اقدامات میں اسلامیات کی تعلیم کے لیے درسی گھنٹوں میں کمی کرنا ایک اہم قدم ہے۔


۲۔ناپسندیدہ روایات کا فروغ

افغانستان میں ان دنوں اعلیٰ تعلیم کے تمام اداروں میں تعلیم مکمل طورپر مخلوط ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں میں کنسرٹس اور موسیقی اور گانے بجانے کے پروگرام وقتاً فوقتاً منعقد کیے جاتے ہیں اور اس پر اعتراض کی آواز سختی سے دبائی جاتی ہے۔بہت سی طالبات لباس کے معاملہ میں غیر محتاط رویہ اختیار کرتی ہیں، جن کو قطعاً ٹوکا نہیں جاتا کیونکہ یہ آزادی اور جمہوریت کی مخالفت سمجھتی جاتی  ہے۔
بلاشبہ یہ طرزعمل اور اقدامات افغان معاشرہ اور ثقافت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ افغان معاشرہ ایک دین دار معاشرہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی مثبت روایات اور اقدار (customs) کا پابند معاشرہ ہے، اس تناظر میں اگر تعلیمی اداروں کو معاشرے کی دینی اور اجتماعی قدروں اور روایات کے خلاف نہج پر چلانے کی کوشش کی گئی تو اس صورت میں معاشرے میں تقسیم بڑھے گی، اعلیٰ تعلیم کے ادارے اچھوت کی شکل اختیار کر لیں گے اور ایسے اجنبی جزیرے بن جائیں گے جن کی طرف جانے والوں کو پسندیدہ نظر سے نہیں دیکھا جائے گا۔
کچھ بیرونی اور داخلی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ تعلیمی اداروں میں مخلوط نظام تعلیم رائج کرنے، رقص و سرود کی محفلیں منعقد کرنے اور لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان آزاد فضا پروان چڑھانے سے اس معاشرے کو مغرب کے رنگ میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ یاد رہنا چاہیے کہ افغان معاشرہ صرف کابل اور اس طرح ایک دو اور بڑے شہروں کا نام نہیں ہے، اور نہ اب وہ زمانہ ہے کہ جو کچھ کابل میں ہورہا ہے ارزگان، ہلمند، بدخشان، فاریاب اور بادغیس میں کسی کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔ دوسری جانب یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خود کابل شہر میں بھی اس غیر اسلامی کلچر کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے۱۲

 

ایک دوبڑے شہروں میں اگر بالفرض مغربی ترغیب کے زیراثر غیر اسلامی کلچر رواج پاجائے تب بھی عام معاشرہ اس کو قبول کرنے کے لیے قطعاً تیار نہ ہوگا۔ لوگ اس پورے نظام تعلیم کو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے، اس کا بائیکاٹ کریں گے اور اپنی اولاد کو ان اداروں سے دُور رکھنے میں عافیت سمجھیں گے، درحقیقت یہ قوم دشمنی ہے، اور اس قوم کے بچوں کو اور خصوصا لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کے جرم کے مترادف ہے۔ کیونکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسے اداروں میں اپنے بچیوں کو بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہوگی جن اداروں میں ان کی عزت پر حرف آنے کا اندیشہ ہے۱۳۔ 
 bullet3     لباس کا مسئلہ: افغان معاشرے میں عام لوگ شلوار اور قمیض پہنتے ہیں لیکن معاشرے کی روایت کے برعکس اساتذہ او رطلبہ پر یہ دبائو ہوتا ہے کہ وہ کوٹ پتلون پہن کر یونیورسٹی آئیں۔ اسی طرح اساتذہ اور طلبہ کی ظاہری صورت کا مسئلہ بھی ہے۔ ڈاڑھی رکھنے والے اساتذہ اپنے اوپر ایک نادیدہ پریشر محسوس کرتے ہیں۔

 
 ۳۔ خارجی معاونت اور افرادی قوت پراعتماد

 افغانستان میں اعلیٰ تعلیم مکمل طور پر بیرونی معاونت سے چل رہی ہے، اس کے لیے ملک کے اپنے وسائل بروئے کار نہیں لائے گئے۔ بیرونی معاونت پر مکمل اعتماد کے متعدد نقصانات ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو لوگ پیسے دیتے ہیں وہ انہی کی مرضی سے خرچ ہوتے ہیں اور بنیادی ضرورتوں کو بھی نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔  پالیسی بھی  وہی لوگ بناتے ہیںاور اہداف وترجیحات بھی وہی متعین کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں سرزمین افغانستان پر افغانوں کی ضرورتوں اور حالات کو مدنظر نہ رکھا جاے تو یہ ملک و ملت کے لیے مفید اور کارآمد ہونے کے بجائے نقصان دہ ہوگا۔ مثال کے طور پر کابل یونیورسٹی میں تقریباً ساری فیکلٹیوں میں کچھ نہ کچھ تعمیر کا کام ہو چکا ہے لیکن واحد فیکلٹی جہاں قطعاً کوئی کام نہیں ہوا وہ شریعہ فیکلٹی ہے۔ اس عدم توجہ کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے پاس اپنا فنڈ نہیں ہے اور بیرونی ممالک شریعہ فیکلٹی پر خرچ نہیں کرناچاہتے۔
یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جو نظام دوسروں کے تعاون سے چلایا جا رہا ہو، وہ پائیدار نہیں ہوتا۔ بیرونی معاونت اور امداد ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی، اور جونہی وہ ختم ہوتی ہے فوری طور پر یہ نظام بھی درہم برہم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس بات کی ضرورت ہے کہ تعلیمی نظام کے چلانے کے لیے اپنے اہداف اور ترجیحات کے مطابق وسائل پراعتماد اور انحصار کریں۔ دوسروں کی امداو صرف اس میں معاونت کے لیے ہو، اور منصوبہ بندی ایسی ہو کہ بیرونی امداد پر بتدریج انحصار کم ہوتا چلا جائے۔
فیصلہ سازی میں بیرونی اثرات کی بناء پر جو الجھنیں پیدا ہوئی ہیں ان میں سے کریڈٹ سسٹم اور ذریعۂ تعلیم کا مسئلہ خاص طور پر اہم ہے۔
  کریڈٹ سسٹم سے واقف لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ایک مشکل اور مہنگا نظام ہے اور بہت زیادہ وسائل کا متقاضی بھی ہے۔ کریڈٹ سسٹم کے حوالہ سے انہی اسباب کی بناء پر افغانستان کی یونیورسٹیوں  میں نہ تو ایسے اساتذہ موجود ہیں جو اس نظام کو سمجھتے ہوں اور نہ ہی وہ اداراتی سٹاف اور سہولیات موجود ہیں جو انتظامی لحاظ سے اس نظام کو سنبھال سکے۔ نظام کے متعلق طلبہ و طالبات کے اندر مطلوبہ آگاہی بھی نہیں ہے۔ ایسی حالت میں اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ بعض امیر ممالک بھی اس کے لیے وسائل مہیا کرنے سے قاصررہے اور انہوں نے اس میں ردوبدل کرکے اسے اپنے حالات کے مطابق ڈھال لیا۔ افغانستان کے لیے بھی موزوں یہی ہے کہ زمینی صورتحال کی روشنی میں ضروری ردّوبدل سے کام لے کر ایک مؤثر اور قابل عمل نظام ترتیب دیا جائے۔
 انگریزی کو تدریس کی زبان بنانا  بھی انہی فیصلوں میں سے ایک ہے جو افغان معاشرے کے زمینی حالات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ وزارت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ  ۲۰۱۵ء تک انگریزی زبان کو ساری یونیورسٹیوں میں تدریس کی زبان بنادیا جائے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے، اس کے مثبت پہلو بھی ہیں اور منفی پہلو بھی۔ دنیا میں ایسی مثالیں عام ہیں کہ جن قوموں نے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا وہ بہت پیچھے رہ گئے اور جنہوں نے اپنی رسمی اور مادری زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنایا وہ بہت آگے نکل گئے۔ ان ممالک کے تجربات کی روشنی میں لائحہ عمل طے کرنا چاہیے، اور نت نئے تجربات میں طلبہ کے وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہیے، اس بارے میں دوسری بات یہ ہے کہ کیا افغانستان میں ابتدائی اور ثانوی نظام تعلیم اس قابل ہے کہ وہ ایسے طلبہ اور طالبات تیار کرے جو ایسے یونیورسٹیوں میں تعلیم جاری رکھ سکیں جہاں زبان تدریس انگریزی ہو؟ اور کیا رائج نظام ایسے اساتذہ مہیا کرنے پر قادر ہے جو انگریزی زبان میں پڑھانے کے واقعی قابل ہوں؟ اگر ان سوالوں کا جواب اثبات میں نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے تو پھر اس طرح کے فیصلے نظرثانی کے محتاج ہیں۔

پیشہ ورانہ پہلو

۱۔ تعلیمی اداروں کی قلت

افغانستان میں اعلیٰ تعلیم کے موجودہ ۱۹ اداروں میں ۲۰۰۵؁ء میں زیرتعلیم طلبہ اور طالبات کی تعداد ۳۸۵۶۳ تھی۔ ۲۰۰۶ء میں ان اداروں میں داخلے کے خواہش مند طلبہ کی تعداد ۴۴۲۳۰ تھی جن میں سے صرف ۱۷۴۷۶ (۴۰فیصد سے بھی کم) کو داخلہ دیا گیا۔ اس وقت  (۲۰۰۷ء) افغانستان کے اندر بارہویں کلاس میں پڑھنے والوں کی تعداد ۸۱۷۵۲ ہے۔ یوں آئندہ سالوں میں ان اداروں میں داخلے کے خواہش مند ہوں گے۔ سال۲۰۰۸ء میں ان اداروں میں داخلے کے خواہش مندطلبہ اور طالبات کی تعداد ۱۱۰۸۶۴ ہوگی۔ یہ ان طلبہ اور طالبات کے علاوہ ہیں جو پاکستان اور ایران کے اندر مہاجرین کے قائم کردہ تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ اسی طرح سال بہ سال یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اندازہ یہ ہے کہ آئندہ چند ہی سالوں میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں داخلے کے خواہش مند طلبہ کی تعداد ایک ملین کے قریب ہو گی۔ جبکہ ان اداروں میں ایک لاکھ سے بھی کم طلبہ کو داخلہ دینے کی گنجائش ہوگی۔ یہ بھی اس صورت میں کہ ان اداروں کو مکمل طورپر فعال بنایا جائے۔ اس غیر متوازن صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کی وزارت نے جو دس سالہ اسٹریٹجک پلان بنایا ہے اس کی رُو سے دس سال بعد اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں ایک لاکھ طلبہ کو داخلہ دینے کی گنجائش ہوگی۱۴۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس وقت ۹۰ فیصد طلبہ اعلیٰ تعلیم کی اس سہولت سے محروم ہوں گے۔

 

۲۔کمزور بنیادی ڈھانچہ اور تعلیمی سہولتوں کا فقدان

اعلیٰ تعلیم کے متعدد ادارے اپنے کیمپس نہیں رکھتے۔ اکثر کرائے کے مکانوں یا کسی عارضی جگہ پر کام کر رہے ہیں۔ ان میں بلخ یونیورسٹی، ہرات یونیورسٹی بامیان یونیورسٹی، البیرونی یونیورسٹی، بدخشان، جوزجان اور فاریاب انسٹی ٹیوٹس شامل ہیں جن کو اپنے موجودہ تعمیرات میں کلاس رومز کی قلت کا سامنا ہے۱۵۔
اس کے ساتھ اکثر یونیورسٹیوں میں عمارتوں کے اندر پانی، واش رومز اور بجلی جیسی بنیادی سہولتیںبھی میسر نہیں ہیں۔ ہاسٹل ایک اور بہت بڑا ایشو ہے کیونکہ بیشتر یونیورسٹیوں کے اپنے ہاسٹلز نہیں ہیں۔ اگر کوئی اپنے انتظام پر رہائش اختیار کرتا ہے تو ٹرانسپورٹ کی مشکلات کی وجہ سے وہ بروقت یونیورسٹی نہیں پہنچ سکتا۔ جبکہ یونیورسٹیوں کا اپنا ٹرانسپورٹ سسٹم نہیں ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ افغانستان کی ساری یونیورسٹیوں کے ہاسٹلوںمیں اس وقت طلبہ اور طالبات کے رہائش کے لیے کل ۱۴۸۳ کمرے موجود ہیں جن میں اوسطاً ہر کمرے میں ۱۲ طلبہ رہائش پذیر ہیں ۔اس طرح کل گنجائش سترہ ہزار بنتی ہے۔ بقیہ کم وبیش تیس ہزارسے زائد طلبہ ہاسٹلوں کے منتظر اور بہت مشکل حالات میں اپنی پڑھائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ زراعت کی فیکلٹیوں کے لیے زراعتی فارموں کی عدم موجودگی، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لیے تجرباتی سکولز اور میڈیکل فیکلٹیوں کے لیے ٹیچنگ ہاسپٹلز کی عدم موجودگی بھی بنیادی ڈھانچوں کی عدم دستیابی کی مثالیں ہیں۔

۴۔ تعلیمی وسائل کی عدم فراہمی

 اعلیٰ تعلیم کی وزارت کا دعویٰ ہے کہ اس نے وسائل کے مہیا کرنے کے سلسلے میں بہت کام کیا ہے لیکن اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ بیشتر اداروں میں بنیادی تدریسی وسائل تک مہیا نہیں ہیں۔ لیبارٹریوں اور لائبریریوں کی سہولتیں قطعاً ناکافی ہیں۔ اسی طرح درسی کتابیں، اسٹیشنری، یہاں تک کہ کابل یونیورسٹی جیسے مرکزی تعلیمی ادارے کے کچھ اساتذہ نے ایک ملاقات میں وائٹ بور ڈ اور مارکر اور بلیک بورڈ اور چاک جیسی بنیادی اشیاء کی عدم دستیابی کی شکایت کی۱۶۔
بلاشبہ افغانستان کی عمومی پسماندگی بھی ان تعلیمی وسائل کے مہیا نہ ہونے کا بنیادی سبب ہے، اور جب تک افغانستان ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہوجائے وسائل کا مسئلہ مکمل طورپر حل نہیں ہو سکتا تاہم دستیاب وسائل کے بہتر استعمال سے اس صورت حال کو کچھ نہ کچھ بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

۵۔ معیار اور تعلیمی کیفیت کا مسئلہ

ِؑسب سے بنیادی مسئلہ اعلی تعلیم کے غیر معیاری ہونے کا ہے۔ اس صورت حال کے کچھ بنیادی اسباب درج ذیل ہیں:

bullet3تعلیمی نصاب اور درسی کتب: تعلیمی نصاب کے سلسلے میں عموماً انہی معلومات پر انحصار کیا جارہا ہے جو تیس پیتیس سال پہلے کسی استاد نے روسییا انگریزی زبان سے ترجمہ کرکے ترتیب دی تھیں۔خصوصاً میڈیکل، انجینئرنگ اور زراعت وغیرہ کے شعبوں میں تو یہ مسئلہ اس اعتبار سے اوربھی اہم ہے کہ ان میدانوں میں ترقی کی رفتار بہت تیز ہے۔ اس ضمن میں ایک مسئلہ افغانستان کی مادری زبانوں میں کتابوں کے مہیا نہ ہونے کا ہے۔ طلبہ اور اساتذہ دوسری زبانوں میں موجود ذخیرے سے استفادہ نہیں کرسکتے اور جو کرسکتے ہیں ان کے لیے وہ قابل دسترس نہیں ہے کیونکہ لائبریریاں بہت معمولی نوعیت کی ہیں۔ دراصل تعلیمی نصاب، اس میں رکھے جانے والے مضامین (subjects) اور ان کے لیے آئوٹ لائن بنانا زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ سائنسی اور عصری علوم ہر ملک میں پڑھائے جارہے ہیں اس سلسلے میں کسی بھی ملک کے تجربے سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اصل مسئلہ درسی کتب کا ہے جو طلبہ کے ہاتھ میں ہوں جن سے وہ اس مضمون کے بارے میں بنیادی اور قابل اعتماد معلومات حاصل کر سکیں۔ افغانستان میں پہلا مسئلہ ابھی تک حل نہیں کیا جاسکا ۔

bullet3قابل اساتذہ کا فقدان: غیر معیاری تعلیم کا سب سے بڑا اور اساسی مسئلہ قابل اور اہلیت رکھنے والے اساتذہ کی کمی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پرانے لوگ نئے اور اعلیٰ ڈگریاں رکھنے والے باصلاحیت لوگوں کے آنے میں مزاحم ہیں جس کی وجہ سے یہ مسئلہ گھمبیر صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس وقت (۲۰۰۵ء) تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے اساتذہ کی  صورتحال  کچھ اس طرح سے  ہے:

 

اساتذہ کی تعلیمی قابلیت (Qualification)

نمبرشمار ادارے کا نام پی ایچ ڈی ایم اے، ایم ایس سی بی اے، بی ایس سی مجموعہ میزان
مرد خواتین مرد خواتین مرد خواتین مرد خواتین
۱ کابل یونیورسٹی ۴۷ ۱ ۱۳۴ ۱۳ ۲۱۴ ۸۱ ۳۹۵ ۹۰ ۴۸۵
۲ میڈیکل یونیورسٹی ۴ - ۱۳۱ ۱۵ ۵۲ ۷ ۱۸۷ ۲۲ ۲۰۹
۳ پولی ٹیکنیک یونیورسٹی ۳۶ - ۷۱ ۱۸ ۱۰ - ۱۱۷ ۱۸ ۱۳۵
۴ یونیورسٹی آف ایجوکیشن کابل ۶ ۱ ۴۷ ۱۱ ۵۹ ۲۷ ۱۱۲ ۳۹ ۱۵۱
۵ پکتیا یونیورسٹی ۱ - ۱ - ۸ - ۱۰ ۱۰
۶ بامیان یونیورسٹی ۲ - ۸ - ۲۱ ۵ ۳۱ ۵ ۳۶
۷ تخار یونیورسٹی ۱ - ۳ ۲۰ - ۲۴ - ۲۴
۸ جوزجان یونیورسٹی - - ۱۵ - ۲۱ ۱۳ ۳۶ ۱۳ ۴۹
۹ بلخ یونیورسٹی ۴ - ۷۰ ۱۱ ۱۰۰ ۳۶ ۱۷۴ ۴۷ ۲۲۱
۱۰ فاریاب انسٹی ٹیوٹ - - ۱ - ۱۹ ۱۰ ۲۰ ۱۰ ۳۰
۱۱ بدخشان انسٹی ٹیوٹ - - ۱ - ۴ ۷ ۵ ۷ ۱۲
۱۲ البیرونی یونیورسٹی ۱ - ۴ - ۳۸ ۱ ۴۳ ۱ ۴۴
۱۳ ننگرہار یونیورسٹی ۸ - ۱۰۰ ۶ ۱۴۷ ۲ ۲۵۵ ۸ ۲۶۳
۱۴ بغلان یونیورسٹی - - - - ۲۰ ۲ ۲۰ ۲ ۲۲
۱۵ قندز انسٹی ٹیوٹ - - ۱ ۱ ۱۲ ۴ ۱۳ ۵ ۱۸
۱۶ ہرات یونیورسٹی ۱ - ۲۶ ۴ ۱۰۷ ۱۹ ۱۳۴ ۲۳ ۱۵۷
۱۷ قندہاریونیورسٹی - - ۱۱ ۲ ۴۳ ۲ ۵۴ ۴ ۵۸
۱۸ خوست یونیورسٹی ۳ - ۱۶ - ۱۸ - ۳۷ - ۳۷
۱۹ پروان انسٹی ٹیوٹ - - - ۴ ۵ ۴ ۹ ۴ ۱۳
ٹوٹل ۱۱۴ ۲ ۶۴۴ ۸۱ ۹۱۸ ۲۲۰ ۱۶۷۶ ۳۰۳ ۱۹۷۹


اس جدول کے مطابق ۱۹۷۹ اساتذہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے اساتذہ محض ۶ فیصد بنتے ہیں۔ ماسٹر ڈگری رکھنے والے اساتذہ کی تعداد کل تعدادکا ۳۶ فیصد بنتی ہے۔ اکثریت یعنی ۱۱۳۸ گریجوئشن کی ڈگری رکھنے والوں کی ہے جو کل تعداد کی ۵۸ فیصد بنتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گریجوئشن کی ڈگری رکھنے والے اکثر اساتذہ انہی اداروں کے فارغ التحصیل ہیں جہاں تعلیمی حالت بہت ابتر تھی ۱۷۔
اگر اعلیٰ تعلیم کی کیفیت درست اور معیار بہتر کرنا مقصود ہو تو گریجوئشن کی ڈگری رکھنے والوں کو تدریس کے لیے متعین ہی نہ کیا جائے۔ اس وقت اگر ماسٹر اور (Ph.D)ڈگری  رکھنے والوں کی کمی کی وجہ سے گریجوئشن کی ڈگری رکھنے والوں کی ضرورت بھی ہو تب بھی ایسی منصوبہ بندی کی جائے جس کے نتیجے میں آئندہ چند سالوں میں گریجوئشن والوں کے لیے ماسٹر ڈگری کاحصول لازمی قرار دیا جائے اور ساتھ ہی ان کو ایسی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں تا کہ یہ کام ان کے لیے ممکن بھی ہو جائے۔

اساتذہ سے متعلق ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس وقت ان اداروں میں موجود بعض اساتذہ اخلاقی پسماندگی کا شکار ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ طالبات سے ناجائز مطالبات کرتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کی علمبردار این جی او کی مدیرہ ملالی عثمانی نے ۱۲جولائی ۲۰۰۶ ء کو بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کہا: ’’بلخ یونیورسٹی کے کچھ اساتذہ نے اچھے نمبروں کے بدلے میں کچھ طالبات سے ناجائز مطالبات کیے ہیں‘‘۔ اس یونیورسٹی کے ایک استاد ڈاکٹربرزین مہر نے ان الزامات کی تردید نہیں کی لیکن کہا کہ اخلاقی فساد کے بڑھنے کا ایک سبب کریڈٹ سسٹم بھی ہے کیونکہ اس سسٹم میں استاد کسی بھی طالبہ سے کسی بھی وقت مل سکتا ہے اور نتیجتاً ناجائز مطالبات کے مواقع بڑھتے ہیں۱۸‘‘ ۔ اسی بلخ یونیورسٹی میںان نام نہاد اساتذہ  میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو طلبہ سے رشوت لے کر ان کو پاس کرتے ہیں، یا ان کو اچھا گریڈ دیتے ہیں۔ متعدد طلبہ کہتے ہیں کہ ان سے پاس ہونے کے لیے ایک سوامریکی ڈالر طلب کیے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ ان مسائل کا انکار نہیں کرتی لیکن کہتی ہے کہ ہم حتیٰ الوسع اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۱۹‘‘۔  تعلیمی کیفیت اور ناقص معیار کا ایک بنیادی سبب ادارہ جاتی نظام کی ناکامی بھی ہے۔ عمومی طور پر اعلیٰ تعلیم کی وزارت اور تعلیمی اداروں میں فرسودہ نظام قائم ہے جو مسائل کو حل کرنے کی بجائے الجھانے میںمفید واقع ہوتا ہے، اس کے ساتھ اداروں پر قابض لوگ بھی وہ ہیں جو تعلیمی نظام اور تعلیمی عمل کو ترقی دینے کی بجائے اس کے تسلسل کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ اور جب نئے باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم رکھنے والے لوگ کسی ادارے میں آنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ لوگ رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔
غیر معیاری تعلیم کا ایک اور سبب یہ بھی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں ابھی تک علمی ماحول قائم نہیں ہوا ہے جو تحقیقی کام، علمی سیمینار اور مذاکروں سے عبارت ہے۔

۶۔  وسائل کا استعمال
 کرزئی دورِ حکومت  میں دوسرے شعبوں کی طرح اعلیٰ تعلیم کی وزارت میں بھی خرچ بہت زیادہ اور اس کے عملی نتائج بہت کم ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ترقیاتی کاموں کے لیے تعین شدہ بجٹ کا بہت بڑا حصہ بیرونی کمپنیوں اور این جی اوز کو چلا جاتا ہے۔ درحقیقت کبھی کبھی یہ مقدار ۶۰اور ۷۰ فیصد سے بھی زیادہ ہوتی ہے لیکن افغانستان میں ایسا کوئی ادارہ یا طریقہ نہیں ہے جو اس کو روک سکے۲۰۔
افغانستان کے مخصوص حالات میں متعدد بیرونی ممالک نے تعلیمی وظائف اور سکالرشپ مہیا کیے لیکن ان مواقع سے کماحقہ استفادہ نہیں کیا گیا۔ متعدد سکالرشپ وزارت خارجہ اور اعلیٰ تعلیم کی وزارت کے مابین سیاسی تنازعات کی وجہ سے ضائع  ہوئے ہیں اور ابھی تک ہورہے ہیں۔ اعلی تعلیم کی وزارت کی رپورٹ کے مطابق  ۲۰۰۶؁ء تک صرف (۶۲۷) اساتذہ اور طلبہ نے تعلیمی سکالرشپ اور مختصر مدت کے ٹریننگ پروگراموں سے استفادہ کیا ہے، جن میں ڈاکٹریٹ کیلے (۲) ماسٹر ڈگری کے لیے ۱۵ اور گریجوئشن کے لیے ۷۳ سکالرشپ ہیں جبکہ باقی مختصر مدت کے ٹریننگ پروگرام ، سٹڈی ٹورز، کانفرنسیں اور سمپوزیمز ہیں، جبکہ سکالرشپ حاصل کرنے والوں کی ممکنہ تعدادہزاروں میں ہونی چاہیے تھی ۲۱۔

۷۔ مرکزیت پسندی
افغانستان میں اعلی تعلیم کے اداروں میںعموماً مرکزیت پسندی کا رجحان ہے، بہت سے مضامین میں طلبہ کے داخلے کے لیے امتحان لیا جانا ہو تو وہ ایک مرکزی سسٹم کے تحت لیا جاتاہے جس میں فائن آرٹس اور میڈیکل کے طلبہ کا امتحان ایک جیسا ہوتاہے۔ اگر کسی فیکلٹی میں استاد کی تقرری مقصود ہو تو  وزارت کی طرف سے ہوتی ہے، ڈگری کا اجراء ہو تو وہ بھی وزارت کی طرف سے ہوتاہے، اسی طرح باقی سارے مسائل اور امور کی انجام دہی مرکزیت پسندی کی گرفت میں رہتی ہے جبکہ تعلیمی اداروں کے لیے ایک ایسے متوازن نظام کی ضرورت ہے جس میں وزارت کی طرف سے نگرانی کا عمل بھی جاری رہ سکے اور تعلیمی اداروں کواپنے تعلیمی امور چلانے میں آزادی بھی ہو۔

 

سفارشات (Recommendations)

 

۱۔     جب تک افغانستان جنگی حالات میں ہے اس و قت تک کوئی تعمیری کام پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا، اس بنیادی مسئلہ سے تعلیم بھی مستثنیٰ نہیں ہے، اس لیے تعلیم کی ترقی اور توسیع کے لیے جنگ کا خاتمہ اور امن و امان قائم کرنا ضروری ہے۔ اور یہ کام فوجی طاقت سے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس سلسلے میں یہ بھی یاد رہے کہ بیرونی فوجی قوتوں کا افغانستان میں موجودرہنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ازخود مسئلہ ہے۔ اگر افغانستان میں تعلیم وتربیت اور دوسرے شعبوں کی ترقی مقصود ہے تو افغان حکومت کو آگے بڑھ کر اس بنیادی مسئلے کے حل کی کوشش کرنی ہوگی اور بیرونی قوتوں سے جان چھڑانا ہوگی۔
۲۔     ابتدائی طور پرا فغانستان کے اہل فکر کے تعاون سے، خوب غور وخوض کے بعد ایک جامع پالیسی مرتب کرنا ضروری ہے جس میں تعلیم سے متعلق تمام امور افغانستان کے حالات اور مزاج کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیے گئے ہوں، اس پالیسی کو سامنے رکھ کر ایک طویل المدت اور جامع منصوبہ بندی ضروری ہے،تاکہ ایک طرف توتعلیم کے میدان میں کام کرنے والوں کے ذہنوں میں آئندہ کے خد وخال واضح ہوں اور دوسری طرف نوجوان ذہنوںکی کنفیوژن دور ہو اور اس اہم مسئلے میں یکسوئی پیدا ہوسکے۔
۳۔تعلیم پر خرچ اس وقت جس غیر مربوط طریقے سے کیا جارہا ہے اس سے کوئی خاطرخواہ نتائج نکلنے کی توقع نہیں ہے، جبکہ حکومت کی طرف سے اس اہم شعبے کے لیے جتنا بجٹ مقرر کیا گیا ہے وہ ناکافی بھی ہے۔ اگر تعلیم کو ترقی دینا اور افغانستان کو عالمی سطح پر ایک  باوقار مقام دلانا ہے تو اس کے لیے انقلابی اقدامات کرنا ہوںگے اور سب سے زیادہ بجٹ اسی شعبے کے لیے مقرر کرنا ہوگا، لیکن جو بات اس میں آڑے آرہی ہے وہ افغانستان میں جاری جنگ ہے جس کے باعث دوسرے شعبوں کی طرف توجہ دینا ممکن نہیں ہوتا۔
۴۔     افغانستان میں رائج تعلیمی نظام میں مقامی روایات واقدار کے مطابق اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ افغان معاشرے کی دینی اقدار اور اخلاقی روایات سے متصادم اعمال و افکار کی صورت حال لوگوں کی بڑی تعداد کے لیے عموماً اور بچیوں کے لیے خصوصاً تعلیم میں بہت بڑی رکاوٹ نہ بنے۔ان اقدامات میں مخلوط تعلیمی نظام اور اخلاقی لحاظ سے تعلیمی اداروں اور خصوصاً اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی خراب شہرت کے اسباب کو ختم کرنا شامل ہے۔ درحقیقت دینی تعلیمات کو افغانستان کے تعلیمی نظام میں بنیادی اور محوری حیثیت دینا افغان معاشرے کی ناگزیر ضرورت ہے۔ بیرونی ماہرین پر اندھے اعتماد کی بجائے، تعلیمی پالیسیاںبناتے وقت اپنے حالات ، روایات اور ضروریات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
 ۵۔     تعلیمی اداروں کا صرف افقی پھیلائو ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان اداروں میں تعلیمی معیار کی طرف بھی بھرپور توجہ کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ان سب اقدامات کی ضرورت ہے جو تعلیم کی کیفیت اور معیار کی ترقی میں مفید واقع ہو سکتے ہیں جو مذکورہ بحث میں مفصل طور پر بیان کیے گئے ہیں۔
۶۔  تعلیمی وظائف اور سکالرشپ کے پروگراموں سے بھرپور استفادہ کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگر اس وقت مختلف ممالک کی طرف سے دیے گئے سکالرشپ پروگراموں سے مناسب طور پر استفادہ کیا جائے تو کچھ عرصے بعد افغانستان تدریس کے شعبے میں خود کفیل ہوسکتا ہے۔
 ۷۔     ادارے اور مینجمنٹ میں موجود ضعف اور مشکل کو دور کرنا ہوگا ورنہ سب تجاویز بے فائدہ رہ جائیں گی۔ موجودہ مالی وسائل کو اایمان داری سے صحیح اور درست جگہوں پرکس طرح خرچ کیا جائے۔اس کے لیے بھی ہرممکن اقدامات کرنے ہوں گے۔
۸۔      اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں علمی فضاء اور ماحول بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ادارے علم کی روشنی پھیلانے اور معاشرے کی درست رہنمائی کے سلسلے میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان اداروں کی قیادت علم دوست اور باصلاحیت افراد تک منتقل ہو۔

 

hr_stars


حواشی

 

۱۔ اس کے لیے دیکھیے افغانستان کی اعلی تعلیم کی وزارت  کی طرف سے دسمبر ۲۰۰۵ء میں جاری کردہ سرکاری کارکردگی رپورٹ بعنوان  Activities of Higher Education from the begining of temporary government of Afghanistan to the Parlimentary Election  ص ۱- ۳۔

 

۲۔ دیکھیے افغانستان کی اعلی تعلیم کی وزارت کی مذکورہ رپورٹ، ص ۴۱-۴۵ اور مزید تفصیل کے لیے اعلی تعلیم کے وزارت کی ویب سائیٹ http://www.mohe.gov.af/?lang=da&p=gov

۳۔ اس یونیورسٹی کے اساتذہ اور ذمہ دار ان(جیسے ڈاکٹر محمد اسماعیل لبیب جوا س وقت یونیورسٹی کے نائب صدرتھے ، اور استاد محمد نعیم جلیلی فیکلٹی آف اصول الدین سے براہ راست  حاصل کی گئی معلومات۔

۴۔ خواھران مسلمان جمعیت اسلامی افغانستان کی ذیلی تنظیم تھی۔

۵۔The Frontiar Post, December 2,1998 اس کے علاوہ اس حادثے کی روداد میں نے خود ان طلبہ سے سنی ہے جو اس احتجاج میں شریک تھے۔

۶۔اس وقت (۲۰۰۸ء) میں کابل یونیورسٹی کے کچھ شعبوں جیسے شعبۂ فارسی اور پشتو وغیرہ میں ایم -اے کاپروگرام بھی شروع ہوگیا ہے۔

۷۔تفصیل کے لیے دیکھیے اعلی تعلیم وزارت کی افیشل ویب سائٹ http://www.mohe.gov.af/?lang=da&p=gov۔

* افغانستان میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے وہ ادارے کہلاتے ہیں جن میں بی اے یا اس سے بالاتر درجے کی تعلیم مہیا کی جاتی ہے۔

 

۸۔ دیکھیے: افغانستان کی اعلی تعلیم کی وزارت  کی طرف سے دسمبر ۲۰۰۵ء میں جاری کردہ سرکاری رپورٹ بعنوان   Activities of Higher Education from the begining of temporary government of Afghanistan to the Parlimentary Election    ص۷

۹۔سٹریٹیجک پلان کی تفصیل کے لیے دیکھیے اعلی تعلیم کی وزارت کی سرکاری ویب سائیٹ http://www.mohe.gov.af/?lang=da&p=plan

۱۰۔اس کے لیے دیکھیے افغانستان کی اعلی تعلیم کی وزارت  کی طرف سے  دسمبر ۲۰۰۵ء میں جاری کردہ  سرکاری کارکردگی رپورٹ بعنوان  Actvities of Higher Education from the begining of temporary government of Afghanistan to the Parlimentary Election    ص ۱- ۳

۱۱۔ اسن سب کے تفصیلات کے لیے دیکھیے افغانستان کی اعلی تعلیم کی وزارت کی طرف سے  دسمبر ۲۰۰۵ء میں جاری کردہ سرکاری رپورٹ بعنوان: Activities of Higher Education from the begining of temporary Government of Afghanistan to the Parlimentary Election، ص۵۵- ۱۵۹

۱۲کابل یونیورسٹی فیکلٹی آف انجینئرنگ کے ایک طالب علم عبدالمتین عزیزیار نے ’’ہفتہ نامہ بہار کابل شہر شمارہ ۹۵، مئی ۳۱؍  ۲۰۰۶ء‘‘ کو بتایا ’’کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کابل یونیورسٹی میں درس و تدریس سے زیادہ اخلاقی فساد کی ترویج پر زور دیا جارہا ہے۔ اور یہ نظر آرہا ہے کہ کابل یونیورسٹی میں اخلاقی فساد میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے، اعلیٰ تعلیم کے وزیر سے میری استدعا ہے کہ ایسے اقدامات کریں جو اخلاقی فساد کے بیخ کنی کے لیے مفید ہوں۔

۱۳  فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے طالب علم عبیداللہ نے ’’روزنامہ انیس ۲۸ /۴/۱۳۸۵ھ‘‘ سے باتیں کرتے ہوئے بتایا: ’’یہ دیکھا جاتا ہے کہ کچھ لڑکے یو نیورسٹی میں لڑکیوں کو چھیڑتے اور تنگ کرتے ہیں۔ اس مسئلے نے معاشرے میں ایک بے یقینی کی کیفیت پیدا کی ہے۔یعنی لوگ ان تعلیمی اداروں پر اعتماد کھوتے جا رہے ہیں‘‘۔ اسی فیکلٹی کی طالبہ سوسن نجوانے مذکورہ روزنامے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا  ’’لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا اور ان کو تنگ کرنا کابل یونیورسٹی کے اندر بے اندازہ بڑھ گیا ہے، حالانکہ ایسے تعلیمی ادارے میں توپسندیدہ انسانی اخلاق اور آداب حاکم ہونے چاہییں‘‘۔’’کچھ لڑکیاں لڑکوں کی چھیڑچھاڑ اور تنگ کرنے کی وجہ سے یونیورسٹی میں پڑھائی جاری نہیں رکھنا چاہتیں اور اپنی حیثیت اور عزت کو بچانے کے لیے گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ میں اعلیٰ تعلیم کی وزارت کے مسؤلین سے تقاضا کرتی ہوں کہ وہ یونیورسٹی میں ایسے اقدامات کریں جن کے ذریعے ایسے لوگوں کو روکا جاسکے جو ہماری بہنوں کو اعلیٰ تعلیم سے روکنا چاہتے ہیں‘‘ (روزنامہ انیس ۲۸/۴/۱۳۸۵)۔

 ۱۴ مجلہ بازسازی شمارہ ۱۹- ۲۰، سال ۱۳۸۴ ش  مزید تفاصیل کے لیے اعلی تعلیم کے وزیر محمد اعظم دادفر کا  ہفتہ نامہ اصلاح ملی  کابل کو  ۵؍ حوت ؍ ۱۳۸۵ھ ش  دیا جانے والا انٹرویو ملاحظہ کیجیے جو وزارت کے ویب سایٹ پر بھی نشر ہوا ہے http://www.mohe.gov.af/?lang=da &p=news&nid=120 )

 ۱۵وزارت تحصیلات عالی کی کار کردگی رپورٹ ص ۱۰۳

 ۱۶ اسی یونیورسٹی کے فیکلٹی آف شریعہ کے استاد عبدالصمد صاحب کے بقول: ’’ہم تعلیمی وسائل کی قلت کاشکار ہیں، کلاسوں کے لیے جگہ کی مشکل در پیش ہے۔ ہماری فیکلٹی میں دروازوں اور کھڑکیوں کے شیشے اسی طرح ٹوٹے ہوئے ہیں جس طرح پہلے تھے۔ شدید سردی کے باعث پڑھائی ناممکن ہو جاتی ہے۔ درسی کتابیں میسر نہیں ہیں۔ فیکلٹی کی اپنی کوئی لائبریری نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وائٹ بورڈ اور مارکر مہیا نہیں ہیں۔ دوسری فیکلٹیوں بھی میں لیبارٹریاں اور عصری وسائل کی شدید کمی ہے۔بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بعض سہولتوں سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ استاد عبدالصمد کا کہنا ہے: ’’وزارت نے تعلیم کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے بنیادی کام نہیںکیے گئے ہیں، اگر فیکلٹیوں میں پانی اور باتھ رومز سرے سے موجود ہی نہ ہوں تو وہاں کیا پڑھائی ہوسکے گی‘‘

۱۷  و زارت اعلی تعلیم کی کار کردگی رپورٹ ص ۸

۱۸  بی بی سی کا پشتو سائٹ،۱۲جولائی ۲۰۰۶ء

۱۹ بی بی سی کا پشتو سائٹ،۱۲جولائی ۲۰۰۶ء  http://www.bbc.co.uk/pashto/news/story/2006/07/060712_balkh-university.shtml

۲۰ www.oxfam.org.uk/resources/policy  /conflict_disasters/downloads/afghanistan_prioritics.pdf)

۲۱  وزارت تحصیلات عالی کی کارکردگی رپورٹ ص ۸۲۔ ۸۳

 

 

Recent Articles by ڈاکٹر مصباح اللہ عبد الباقی :