صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار سائبر خطرات: قومی تحفظ کے لیے مضمرات English
سائبر خطرات: قومی تحفظ کے لیے مضمرات چھاپیے ای میل

 

 سکیورٹی کے ماہرین نے ایک پالیسی سیمینار میں پاکستان میں سائبر خطرات سے بچاؤ یا ایسے کسی ممکنہ حملے کا فوری جواب دینے کے لیے کسی ذمہ دار ایجنسی کے نہ ہونے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک جامع نظام کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے لیے انفارمیشن اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجیز پر مبنی خود اپنا ایسا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے جو سائبر خطرات سے تحفظ فراہم کر سکے۔

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام 18 دسمبر 2015ء کو ایک سیمینار منعقد ہوا، جس کا عنوان تھا: ”سائبر خطرات — قومی تحفظ کے لیے مضمرات“۔ اس کی صدارت سابق سفیر اور سنٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز (CISS) کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر علی سرور نقوی نے کی۔دیگر نمایاں مقررین میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کے سنٹر فار انٹرنیشنل پیس اینڈ اسٹیبیلٹی (CIPS) کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر طغرل یامین، سنٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز (CISS) کے سینئر ریسرچ فیلو سید محمد علی، بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نادیہ خادم، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل عمار جعفری اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد (IPS) کے سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ بریگیڈیر ریٹائرڈ سید نذیر شامل ہیں۔
ڈاکٹر طغرل یامین نے اپنی پریزنٹیشن میں بتایا کہ پاکستان کسی سائبر حملے کی کیفیت کا مقابلہ کرنے کے لیے وژن، قیادت، انفراسٹرکچر، ضروری قانون سازی اور واضح پالیسی کی تشکیل کے میدان میں ابھی بہت پیچھے ہے۔ ایسے کسی ناگہانی خطرے کی صورت میں جس سے خدانخواستہ ملک کی آزادی و خودمختاری خطرے میں پڑ جائے، حکومت کا فیصلہ سازی کا نظام متاثر ہو جائے، خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہو جائے یا خطرے کی آخری صورت میں جنگ ناگزیر ہو جائے، ہمیں پہلے ہی سے ان خطرات سے بچاؤ کی منصوبہ بندی کر لینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سائبر سکیورٹی کے لیے حتمی ذمہ دار کوئی ایک متعین ایجنسی اب بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنوڈین کے افشا کردہ رازوں کے مطابق سائبر خطرات کے حوالے سے پاکستان دنیا کا دوسرا بڑا شکار ملک ہے، اس لیے ضروری ہے کہ قومی سطح پر ایک سائبر کمانڈ اور متعین سائبر سکیورٹی فورس قائم کی جائے جس طرح امریکہ یا بھارت میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان دونوں ملکوں نے گزشتہ برسوں میں اس میدان میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ امریکہ میں سائبر کمانڈ کی سربراہی ایک چارستارہ جنرل کرتا ہے اور بھارت مستقبل قریب میں 5 لاکھ افراد کی آئی ٹی پیشہ ورانہ ٹیم کھڑی کرنے کا منصوبہ تیار کر رہا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2013ء میں سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے تجویز کردہ سائبر سکیور پاکستان ایکشن پلان کا نفاذ ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔ اسی طرح نیشنل سکیورٹی کونسل (NSC) کے حصے کے طور پر نیشنل سائبر سکیورٹی کونسل کے قیام کی ضرورت ہے جیساکہ سائبر سکیورٹی بل 2014ء میں تجویز کیا گیا ہے۔

سید محمد علی نے سائبر فورس کو جدید دنیا میں جنگی حکمتِ عملی کا پانچواں عضو قرار دیا، جس نے زمینی، ہوائی، بحری اور خلائی افواج کی طرح بہت اہمیت حاصل کر لی ہے۔ عالمی طاقتوں نے سائبر جنگ کے لیے اپنی جدید سائبر فورس کی تیاری کے لیے بھاری وسائل مختص کیے ہیں اور اس میدان میں بہت کام ہو رہا ہے۔ یہ صورتِ حال تقاضا کرتی ہے کہ ہم بھی اس پہلو کی طرف فوری اور بھرپور توجہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ سائبر خطرات اور اس کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس میدان میں پاکستان دوسروں پر انحصار کرنے کا دائرہ محدود کرے اور ملک کے اندر تمام متعلقہ ٹیکنالوجیز کی ترقی اور آلات کی تیاری پر توجہ دے کیونکہ برآمد کردہ کسی ٹیکنالوجی یا پراڈکٹ کو یقینی طور پر محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ڈاکٹر نادیہ خادم نے زور دیا کہ پاکستان کو عالمی برادری کے درمیان بامعنی بات چیت اور ایسی بین الاقوامی قانونی دستاویزات اور معاہدات کی تیاری میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے جن کے ذریعے سائبر سکیورٹی کو لاحق خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

عمار جعفری نے بھی اس خیال کی تائید کی کہ پاکستان کو سائبر سکیورٹی کے معاملات میں آگے بڑھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم اور سائبر سکیورٹی دو مختلف چیزیں ہیں، انہیں یکساں نوعیت کا معاملہ نہ سمجھا جائے۔ سائبر سکیورٹی ایک وسیع تر اور سنجیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ کارپوریشن فار اسائنڈ نیمز اینڈ نمبرز (ICAN) کے ایک مطالعے کے مطابق پاکستان کو سائبر تیاری کے لحاظ سے نچلے درجہ پر دکھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف حکومت نہیں بلکہ حکومت سمیت تمام متعلقہ حلقوں کو مل بیٹھ کر ایک ایسا مضبوط اور ناقابلِ تسخیر نظام وضع کرنا ہو گا جو سائبر کی دنیا میں ابھرتے خطرات کا بھرپور جواب دے سکے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نوجوان نسل میں استعداد کار بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کرے، انہیں ایسا ماحول فراہم کیا جائے جس میں وہ اپنی بہترین اور پوشیدہ ذہنی صلاحیتوں اور اپنے فنی علم کو بروئے کار لا سکیں اور قومی سطح پر درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے حل پیش کر سکیں۔