وفاقی بجٹ 2015-16 ء: حکومت مالیاتی پالیسیوں کا از سرِنو جائزہ لے چھاپیے

 انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز(آئی پی ایس) کے سینئر ماہرین اقتصادیات اور تجزیہ کاروں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آنے
والے سال کے لیے مالیاتی پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لے تاکہ انہیں متوازن، عملی اور ترقی کے لیے سودمند بنایا جا سکے۔آئی پی ایس کی شائع کردہ بعد از بجٹ جائزہ رپورٹ میں حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی ہے۔

اس رپورٹ کوآئی پی ایس کی خصوصی ٹاسک فورس کی زیرنگرانی تیار کیا گیا ہے جو نامور ماہر اقتصادیات اور آئی پی ایس کے چیئرمین پروفیسر خورشید احمد، پاکستان کے سابق چیف اکانومسٹ فصیح الدین، سابق سیکرٹری وزارت پانی و بجلی مرزا حامد حسن، ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالد رحمن، ماہرامورِ محصولات ملک محمد عرفان اور آئی پی ایس کے لیڈ کوآرڈی نیٹر عرفان شہزاد پر مشتمل ہے۔

ماہرین کی رائے میں حکومت کے اس وعدے کے باوجود کہ بجٹ کی تشکیل میں دوسروں کی آراء کو بھی شامل کیا گیا ہے، عملی صورت یہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹیوں اور کاروباری حلقوں کی طرف سے دی گئی بیشتر تجاویز کو آنے والے مالی سال کی منصوبہ بندی میں درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا جس کے نتیجے میں اہداف کا حصول دشوار ہو جائے گا۔

ماہرین کی رائے ہے کہ ٹیکسوں میں اضافہ کے لیے حکومتی پالیسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس نظام کا انحصار بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں ہی رہے گا۔ گویا لاکھوں نئے افراد کو ٹیکسوں کے نظام میں لانے سے اعتنا ہی برتا گیا ہے۔

حکومت کا قرضوں پر انحصار تجزیہ کاروں کے لیے کھلی کتاب کی مانند ہے۔ انہیں یقین ہے کہ 2015-16 ء کے دوران قرضوں کا یہ بوجھ مزید ایک کھرب روپے سے زائد بڑھ جائے گا۔

بجٹ میں توانائی کے شعبے بالخصوص پن بجلی کے منصوبوں پر توجہ ان پہلوؤں میں سے ایک ہے جن کی رپورٹ میں تعریف کی گئی ہے۔ تاہم گردشی قرضے کے معاملے میں کسی واضح حکمت عملی کی کمی کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح اس دستاویز میں تیل اور گیس کے شعبے پر غفلت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔رپورٹ میں شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے لیے سود سے مبرا قرضوں کی فراہمی اور ایگری کریڈٹ کے اہداف کے لیے پالیسی کو اچھے اقدامات کے طور پر گردانا گیا ہے تاہم اس بات پر پشیمانی کا اظہار کیا گیا ہے کہ زرعی شعبے میں پیداواری لاگت میں کمی اور اضافی قدر کی جانب پیش قدمی کے پہلوؤں کو متعارف کرواتے ہوئے

دستاویز کے مطابق برآمدات کے لیے زیادہ توجہ ٹیکسٹائل کے شعبے کو دی گئی ہے جس کے نتیجے میں دیگر برآمدات بالخصوص غیرروایتی اشیا نظرانداز ہو گئی ہیں۔

رپورٹ میں SROs میں کمی کے ثانوی مرحلے کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے تاہم یہ تجویز دی گئی ہے کہ تمام امتیازی SROs اور استثنا جلد سے جلد ختم ہونے چاہییں۔ اس پر تجویز دی گئی ہے کہ اضافی گرانٹس فراہم کرنے کی مشق فوری طور پر بند کی جائے اور اسے پارلیمنٹ سے منظوری کے ساتھ مشروط کیا جائے کیونکہ یہ پہلے ہی گذشتہ سال کی نسبت تقریباً دوگنا ہو کر 200 بلین روپے پر پہنچ چکی ہے۔بجٹ کے اس تجزیے میں وفاقی ترقیاتی اخراجات میں اضافے کو وقت کی ضرورت قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے تعین کا طریقۂ کار کو سوالیہ نشان قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق PSDP منصوبوں کی کل تعداد ایک ہزار پانچ سو کے قریب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر منصوبے کے لیے مختص رقم کی تعداد بہت کم ہو گی۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ PSDP کا ایک جامع تجزیہ کیا جائے تاکہ اس بات کا تعین ہو سکے کہ کون سے منصوبے فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہے اور اس کے بعد ترجیحات کو اس کے مطابق طے کیا جائے۔دستاویز کے مطابق تعلیم، صحت اور پانی کے امور سے متعلق وفاقی ترقیاتی اخراجات میں کمی ملک کی سماجی اور اقتصادی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتی۔

رپورٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر بھی تنقید کی گئی ہے جس کے ذریعے ماہانہ انتہائی کم ادائیگیوں کے ذریعے قوم کو معاشی طور پر فعال کرنے اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی بجائے دست نگر ہونے کے مرض میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ یہ تجویز کیا گیا ہے کہ اس نکتۂ نظر کو از سر نو پرکھنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے کے غریب طبقے کو تعمیراتی عمل میں شریک کیا جا سکے۔

مکمل رپورٹ ڈاؤن لوڈ کیجیے