بلوچستان میں تعلیم چھاپیے ای میل

 بلوچستان میں شعبہ تعلیم میں ان کامیابیوں کا تذکرہ جنہیں ان کے حق کے مطابق سراہا نہیں گیا۔

بلوچستان میں تعلیم کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں ماہرین تعلیم اور اس موضوع پر مہارت رکھنے والے افراد نے ماضی قریب میں بلوچستان حکومت کی طرف سے تعلیم کے لیے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے درپیش مسائل کے حل کے لیے صوبائی حکومت کی خلوصِ نیت پر مبنی کوششوں کا اعتراف کرنے پر زور دیا۔

یہ افراد 19مئی 2015ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں محوِ گفتگو تھے جس کا عنوان تھا ’’بلوچستان میں تعلیم‘‘-اجلاس کے مرکزی مقرر وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے تعلیم سردار محمد رضا خان باریچ تھے جبکہ دیگر مقررین میں نادرگل باریچ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر، بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام اور خالد رحمن ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس شامل تھے۔
نادر گل نے صوبے کا مخصوص تعلیمی پس منظر بیان کرتے ہوئے وہاں کے تعلیمی نظام کا خوبیوں، خامیوں، مواقع اور تحفظات کے نقطۂ نظر سے بھرپور تجزیہ پیش کیا۔ صوبے کے جغرافیے، نوجوان آبادی،معدنی وسائل اور ساحلی علاقے کو صوبے کی اہم قوت قرار دیتے ہوئے انہوں نے بلوچستان کی فی کلومیٹر آبادی (19افراد)کا تذکرہ کیا اوربتایا کہ اس کی غالب اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے کیونکہ یہاں ترقی کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کی کمی، وسائل کا غیر مستعمل ہونا یا ضرورت سے کم استعمال، علاقے کی اندرونی تنازعات میں چھپی طویل تاریخ اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ درپردہ معاملات     وہ امور ہیں جنہیں  علاقے میں پائیدار ترقی اور اس کے لیے کسی حکمت عملی کو روبہ عمل لانے اور منصوبہ بندی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی وجوہات کے پس منظر کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔

مقرر نے اس بات پر تاسف کا اظہار کیا کہ صوبے میں بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اسکول نہیں جاتی جبکہ اسکول جانے والے بچوں کوا سکول سے نکال لینے کی شرح بھی انتہائی خوفناک ہے۔ اسی طرح پرائمری اسکول کے بچوں کی مڈل اسکول تک پہنچنے کی شرح بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔ صوبے میں اسکولوں کی تعداد کا موازنہ اگر ان کی ضرورت سے کیا جائے تو وہ بھی بہت بڑی کمی کا شکار نظر آئیں گے جبکہ بڑی تعداد میںا سکول ایسے ہیں جہاں ایک گریڈ کے بچوں کے لیے صرف ایک استاد ہے۔

سردار رضا نے نادر گل کے خدشات سے اتفاق کیا تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے اقدامات پہلے ہی اٹھائے جاچکے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جو بلو چستان میں تعلیم کے شعبے کی ترقی کے لیے گہری دلچسپی لے رہی ہے۔

گزشتہ دو برس میں بلوچستان حکومت کی چند کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سردار رضا نے تعلیم کے لیے پہلے سے زیادہ بجٹ ،500نئے اسکولوں کی تعمیر، ایک لاکھ سے زائد بچوں کا اسکولوں میں داخلہ، زائد العمر بچوں کوا سکول کی طرف راغب کرنے کے لیے Accelerated Pathwayپروگرام، میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے NTSکے ذریعے اساتذہ کی بھرتی، اساتذہ کی کارکردگی جانچنے کے طریقہ کار، تکنیکی تعلیم اور ہنر مندی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے درکار سہولیات کی فراہمی، عمومی اداروں کے ساتھ ساتھ میڈیکل اور زراعت کے شعبوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کا لجوں اور یونیورسٹیوں کی تعمیر اور پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام جیسے اہم اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے ایجوکیشن انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (EIMS)کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد صوبے کے اسکولوں، اساتذہ اور طلبہ کی کارکردگی کاجائزہ، ان کی ضروریات کا تعین اور ان کے پروفائل کی تیاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پالیسی منصوبہ بندی اور عمل درآمد یونٹ (PPIU)کا قیام بھی ایک ایسے ادارے کو بنانا ہے جو میدان عمل میں ماہرین کے باہمی تعاون کو ممکن بناتا ہے اور تعلیم کی ترقی کے لیے محکمہ تعلیم کی کاوشوں کی تعریف اور سہولتوں کی فراہمی کے لیے درست سمت میں اہم اقدامات کی نشاندہی کرتا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالدرحمن نے اجلاس میں اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے ملک میں مجموعی طور پر محض منفی پہلوئوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے بجائے مثبت رویوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا طریقہ کار نہ صرف ملک کے موجودہ مایوسی کے ماحول کو بہتر بنائے گا بلکہ حکام کی حوصلہ افزائی کا سبب  بھی بنے گا تاکہ وہ اپنے اقدامات کو مزید آگے بڑھا سکیں۔