صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار سیمینار: توانائی کا منظرنامہ- مسائل اور ترجیحات English
سیمینار: توانائی کا منظرنامہ- مسائل اور ترجیحات چھاپیے ای میل

 انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں منعقدہ سیمینارمیں ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ توانائی کے شعبے میں مؤثر منصوبہ بندی کرے اور ماضی کی ان کوتاہیوں سے سبق سیکھے جس کے نتیجے میںتوانائی کا خوفناک بحران آیا ہے بالخصوص ان عوامل کو سمجھے جن کے باعث یہ شعبہ گردشی قرضوں کے  بھنور میں پھنسا ہوا ہے۔

سیمینارکے صدر مجلس سابق سیکرٹری پانی و برقیات اور آئی پی ایس کے توانائی پروگرام کے چیئرمین مرزا حامد حسن نے کہا کہ پاکستان میں کئی سال سے پلاننگ کمیشن کی حیثیت پراجیکٹ کی منظوری دینے والے ادارے کی رہ گئی ہے اور وہ گزشتہ کئی سالوں سے پورے ملک کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کے اصل کام سے پہلو تہی برت رہا ہے۔

سیمینار سے ممبر (توانائی) پلاننگ کمیشن وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات سید اختر علی اور انرجی لائرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد عارف نے خطاب کیا۔ شرکاء میں توانائی کے شعبہ کے ماہرین، متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے افسران، پالیسی ماہرین، صنعت کے نمائندے اور میڈیا کے افراد شامل تھے جنہوں نے پاکستان کے توانائی کے شعبے کے مسائل، چیلنجوں اور ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اختر علی نے حکومتی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ توانائی کے شعبے میں حکومتی پالیسیاں سرمایہ کار دوستانہ ہیں اور پاکستان میں جو ٹیرف سرمایہ کاروں کو پیش کیا جارہا ہے وہ باقی ممالک کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ ہوا سے چلنے والے پن بجلی گھروں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس ذریعے سے پیدا ہونے والی بجلی کا ٹیرف سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے 14سینٹ رکھا گیا ہے جوکہ بھارت سے دوگنا ہے اور بین الاقوامی سطح پر 4سے 8سینٹ کے درمیان ہے۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ گڈانی بلوچستان کے کوئلے سے چلائے جانے والے بجلی کی پیداوار کے منصوبے کو  ختم نہیں کیا گیا، بلکہ چینی سرمایہ کاروں کی درخواست پر اب یہ پورٹ قاسم کراچی میں لگایا جائے گا۔

انہوں نے اس سے قبل توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ٹرانسمیشن کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی سمیت توانائی کی پیداوار بڑھانے اور فراہمی کے نظام کی توسیع، قابلِ تجدید توانائی کے وسائل کے فروغ اور اس مقصد کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے حکومتی اقدامات کا جائزہ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کوئلے اور ہائیڈل کی طرح کے مقامی وسائل کو ترقی دینے کے خیال سے غافل نہیں ہے تاکہ ملک کوتوانائی کے مسائل کا کوئی پائیدار حل فراہم کیا جاسکے۔ تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اس کی راہ میں مالی اور تکنیکی مسائل سمیت متعدد قسم کی رکاوٹیں حائل ہیں۔ انہوں نے اپنی دلیل کی حمایت میں یہ رائے دی کہ ایک تیز اور فراہمی میں انتظامی لحاظ سے بہتر ذریعہ کے باعث کوئلے کی بجائے LNGکو استعمال میں لایا جائے۔

محمد عارف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو تیل اور گیس کی جنگی بنیادوں پر فراہمی کے لیے مناسب بجٹ مختص کرنا چاہیے کیونکہ ابھی تک ملک میں ایسے علاقے کے دوتہائی حصے میں بھی انہیں تلاش نہیں کیا جاسکا جہاں ان کی موجودگی کے امکانات ہیں۔ انہوں نے OGDCLجیسے اداروں کی نجکاری کے خیال کی بھرپور مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تزویراتی اثاثوں کی کسی صورت نجکاری نہیں ہونی چاہیے اور تاریخی لحاظ سے یہ ثابت بھی ہوچکا ہے کہ PTCLاور KESCکی طرح کے اداروں کی نجکاری سے بہت کم فوائد حاصل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کثرت سے استعمال ہونے والی اصطلاح ’’توانائی کی کمی‘‘ کی بجائے ’’زر کی کمی‘‘ کی اصطلاح استعمال ہونی چاہیے کیونکہ بنیادی طور پر یہ مالی وسائل کی کمی ہے جو سارے معاملے کو متاثر کررہی ہے۔

سلائیڈز پر پیش کی گئی تفصیلات کے بعد باہمی گفتگو میں توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری پر بینکوں کی طرف سے متعین کردہ سود کی شرح پر نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا کیونکہ اس کے نتیجے میں آخر کار ٹیرف کی شرح حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین نے اس ضمن میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری کے منصوبوں پر سود کی اتنی زیادہ شرح کی اجازت دینے سے عملاً صارفین کی جگہ بینکنگ کے شعبے کے مفادات کا تحفظ کیا جارہا ے۔

اپنے اختتامی کلمات میں مرزا حامد حسن نے توانائی کے تحفظ اور مؤثر طرز حکمرانی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختصر مدت کے اقدامات کے طور پر گردشی قرضے کے بھنور کو قابو کیا جاسکے۔ انہوں نے گردشی قرضے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے تمام نادہندگان کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔

نوعیت:     کارروائی سیمینار
تاریخ:    19مارچ 2015ء