بجٹ ۱۵-۲۰۱۴کا جائزہ چھاپیے ای میل

’’بجٹ ۱۵-۲۰۱۴کا جائزہ ‘‘کے موضوع پر ہونے والے سیمینار میں ماہرین نے اسے ’’معمول کا بجٹ‘‘ قرار دیا جس میں معیشت کے ٹیٹرھے ترچھے پہلوئوں کو اہمیت دی گئی ہے اور اہم کلیدی شعبوں کو کم اہمیت ملی ہے۔

۶جون ۲۰۱۴ء کو آئی پی ایس میں ہونے والے اس سیمینار کی صدارت پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے سابق چیف اکانومسٹ فصیح الدین نے کی۔ جن دیگر افراد نے اس میں خطاب کیا ان میں سابق وفاقی سیکرٹری اور نیشنل ٹیرف کمیشن کے سابق چیئرمین مسعود داہر، سابق سیکرٹری وزارت پانی و بجلی مرزا حامد حسن، راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈاکٹر شمائل دائود، راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر راجہ عامر اقبال، آئی پی ایس ایسوسی ایٹس ائر کموڈور (ریٹائرڈ) خالد اقبال اور طارق عبدالمجید کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالد رحمن بھی شامل تھے۔

مائیکرو اور میکرو کے نقطۂ نظر سے مقررین نے بجٹ کا تجزیہ تین پہلوئوں سے کیا یعنی پچھلے سال کی کارکردگی، اگلے سال کے لیے وعدے اور مستقبل کے حقیقت پسندانہ امکانات۔ سب سے اہم پہلو ۳۱۲۹بلین روپے کی کل ٹیکس آمدنی ہے جس میں سے وفاق کا حصہ محض ۲۲۲۵ملین روپے ہے اور باقی  رقم این ایف سی ایوارڈ کی مد میں صوبوں کو منتقل ہو جائے گی۔

سود کی بلند شرح کو برقرار رکھا گیا ہے لیکن مجوزہ ٹیکس آمدنی ابھی بھی بہت کم ہے۔ بیرونی وسائل پر انحصار بھی زیادہ کر دیا گیا ہے ۔ بجٹ کے کل اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ پھر بھی ترقیاتی بجٹ کے لیے مختص رقم گزشتہ سال سے بھی کم ہے۔

ماہرین کے مطابق بجٹ کو کاروباری لوگوں کو نواز نے کے نقطۂ نظر سے بنایا گیا ہے جبکہ پاکستان کو جن حقیقی مسائل کا سامنا ہے وہ مالیاتی خسارہ، قرضے کا مستقل بوجھ اور بڑھتی ہوئی آبادی کا شدید دبائو ہے۔ تاہم یہ توقع ظاہر کی گئی کہ ٹیکس لگانے کے بعض اقدامات ،بالخصوص وہ جو غیر رسمی شعبوں کو سامنے رکھ کر کیے گئے ہوں، توقع کے برعکس نتیجہ کے حامل ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ توانائی، پانی، سڑکوں، پُلوں، سرنگوں وغیرہ کے ضمن میں جن 75منصوبوں کا حکومت نے اعلان کیا ہے وہ اگر مکمل ہو گئے تو کاروبار اور روزگار کے کافی مواقع فراہم ہو سکیں گے۔

بنک سے قرضوں کے حصول میں شرح کم ہونے پر بھی توجہ مبذول کروائی گئی۔ جب کہ اس اقدام سے افراطِ زر کے مسئلے کو حل کرنے کی امید دلائی گئی تھی۔ اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ اس کا نتیجہ توانائی کے شعبے جیسے زیادہ توجہ طلب ترقیاتی اخراجات کی قیمت میں ادا ہوگا۔

مقررین نے ایک دو شعبوں پر انحصار کو بجٹ کی بہت بڑی کمی قرار دیا۔ اور حکومت پر زور دیا کہ SMEs (Small Medium Enterprizes) کو زیادہ مراعات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری کو بھی انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اسے ہنگامی صورتحال قرار دیا۔

زراعت اور توانائی کے شعبوں کو ٹیکس نیٹ سے نکال دینے پر بھی مقررین نے تحفظات کا اظہار کیا۔

قومی پیداوار اور برآمدات کے معیار کی تیزی سے کمی پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مقررین نے ہنرمند افرادی قوت کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرنے کا مشورہ دیا۔

سیمینار کا اختتام اس یکساں مؤقف پر ہوا کہ اگرچہ پاکستان کو متعدد مسائل کا سامنا ہے لیکن ملک میں ان کے حل کے لیے عقل و فہم سے بھرپور انسانی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خیالات اور نظریات سامنے لانے کا عمل جاری رکھا جائے اور پھر انہیں حکومت کے زیرِ غور لانے اور عمل میںاپنانے کے لیے مسلسل کوشش کی جائے۔