پاک امریکہ تعلقات: موجودہ کیفیت اور مستقبل کی صورت گری چھاپیے

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں منعقدہ سیمینار کے کلیدی مقرر ڈاکٹر طاہر امین اور خارجہ امور کے دیگر ماہرین نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر طور پر آگے بڑھانے کے لیے انتہائی ماہرانہ سفارت کاری کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کو ہر حال میں اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر خارجہ پالیسی کی راہیں متعین کرنا ہوں گی۔ سیمینار کے شرکاء کا اس بات پر اتفاق تھا کہ پاکستان کو موجود صورت حال میں دو پہلوئوں کو مقدم رکھنا ہوگا۔

pakus1

ایک یہ کہ اسے اپنی خارجہ پالیسی میں ایسی مثبت تبدیلیاں لانا ہوں گی جن کے باعث صرف امریکہ ہی مرکزِ نگاہ نہ رہے بلکہ دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ بھی تعلقات کو اہم سمجھا جائے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایسی دانش مندانہ اور ماہرانہ سفارت کاری کی راہ اپنائی جائے جس کے نتیجے میں ہم موجودہ پیچیدہ صورتِ حال سے نکل سکیں جس میں امریکہ نے ہماری اپنی مرضی کی راہیں مسدود کررکھی ہیں۔ تاکہ ہم اپنے قومی مفادات کے مطابق طالبان اور پاک -ایران گیس پائپ لائن جیسے معاملات پر مذاکرات کے خود مختارانہ فیصلے کرسکیں۔

سیمینار کا عنوان تھا ’’پاکستان امریکہ تعلقات: موجودہ کیفیت اور مستقبل کی صورت گری‘‘۔ سیمینار کی صدارت جناب اکرم ذکی سابق سینیٹر اور سیکرٹری وزارتِ خارجہ حکومتِ پاکستان نے کی۔ ڈاکٹر طاہر امین ڈائریکٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز قائد اعظم یونیورسٹی نے کلیدی خطاب کیا جبکہ خالد رحمن ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس نے اختتامی خطاب کیا۔ سیمینار میں سفارت کار، محققین، طلبہ اور متعلقہ شعبوں کے افسران اور ذمہ داران نے  شرکت کی۔

جناب اکرم ذکی نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو ’’دوست نما دشمن‘‘ سمجھتا ہے اور اسے ہم سے دلچسپی صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت اور ایٹمی صلاحیت کے خاتمہ سے ہے۔ انہوں نے پاک امریکہ تعلقات کی موجودہ صورتِ حال کو ’’انتہائی مشکل حالات میں بہ امر مجبوری ساتھ نبھانے والی کیتھولک شادی‘‘ سے تشبیہ دی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے لیے امریکہ کے ساتھ تعلقات نبھانا انتہائی مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے۔ تاہم ان کو ایک بہتر انداز میں نبھانے کے لیے ضروری ہے کہ امریکی رائے عامہ ہمارے مؤقف سے درست طور پر واقف ہو۔ خاص طور پر ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستان کے تحفظات سے اس کا باخبر ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے درمیان دوستی اور دشمنی کے تصورات بدل گئے ہیں۔ اب دو ملکوں کی دوستی مشترکہ مفادات کے لیے ساتھ ساتھ چلنے اور اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھنے میں ہے۔ چنانچہ تمام ملک اپنے اپنے مفادات پر نظر رکھتے ہوئے مستقبل کے لیے باہمی اشتراک کے شعبوں اور باہمی اختلاف کے شعبوں کا بہت واضح تعین کر لیتے ہیں اور باہمی تعاون کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ سفارت کاری کی کامیابی اسے سمجھا جاتا ہے کہ باہمی اختلافات کے باوجود تعلقات دشمنی کی حد تک خراب نہ ہوں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے امریکہ سے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل اور متنوع پہلوؤں پر محیط ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ دونوں ممالک تعلقات میں موجودہ سرد مہری اور عدمِ استحکام کے باوجود مستقبل کے لیے طویل مدتی تعاون پر مبنی تعلقات کے خواہاں ہوں گے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس سال جنوری کے اختتام پر تزویراتی مذاکرات کے نئے دور کا آغاز مثبت سمت میں ایک قدم ہو گا۔

ڈاکٹر طاہر امین نے اپنے کلیدی خطاب میں پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ پرروشنی ڈالی۔ انہوں نے مختلف تاریخی مراحل کا ذکر کیا جن میں ان تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوئی یا سرد مہری آئی۔ انہوں نے اسی حوالہ سے چار پہلوئوں کو گفتگو کا مرکز بنایا۔ تاریخی پس منظر، ایک دوسرے کی طرف میلان رکھنے اور دور دھکیلنے والے معاملات،۲۰۱۴ء میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی کیفیت اور پاک امریکہ تعلقات کے حوالہ سے پاکستان کی خارجی پالیسی کے محرکات۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں تزویراتی تعلقات محض زبانی کلامی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے سی آئی اے کا بھاری بجٹ اور پاکستان میں اس کا فعال نیٹ ورک ہماری خودمختاری پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے اس جانب توجہ مبذول کروائی کہ ۲۰۱۴ء میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء سے پاکستان اور اس خطے کے دیگر ممالک کو اہم مضمرات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس صورتِ حال سے بہتر طور پر عمدہ برآ ہونے کے لیے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں وسعت اور لچک پیدا کرنا ہوگی اور روس، چین اور خطے کے دیگر ممالک کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں استحکام وہ معاملہ ہے جو دونوں ممالک میں اتفاق کا نکتہ ہے، تاہم امریکہ کے پاکستان میں ڈرون حملے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کے اہم نکات ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے اس متضاد کردار پر تنقید کی کہ وہ ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان میں طالبان سے بات چیت کے عمل کو تباہ کر رہا ہے جبکہ خود افغانستان میں طالبان سے بات چیت کر رہا ہے۔

سیمینار کے دیگر شرکاء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہوگا تاکہ ہم سیاست اور معیشت میں وہ استحکام حاصل کرسکیں جس کی مدد سے مضبوط اور با معنی سفارتی کوششوں کا حصول ممکن ہو سکے۔

نوعیت:     روداد سیمینار
تاریخ:    ۹جنوری ۲۰۱۴ء
مقام:    انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد۔