صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار اسلامی نظریاتی کونسل میں ’جبری تبدیلیٔ مذہب کی روک تھام کےمجوزہ بل‘ پر بحث کے لیے آئی پی ایس کی طرف سےسہولت کاری English
اسلامی نظریاتی کونسل میں ’جبری تبدیلیٔ مذہب کی روک تھام کےمجوزہ بل‘ پر بحث کے لیے آئی پی ایس کی طرف سےسہولت کاری چھاپیے ای میل

 Anti-Forced-Conversion-Bill-at-CII

پاکستان میں مبینہ جبری مذہبی تبدیلی کے واقعات کی حقیقی تحقیقات کو تیز کرتے ہوئے ، آئی پی ایس نے 17 ستمبر 2021 کو اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کے عہدیداروں اور بھرچنڈی شریف (گھوٹکی) کے پیر عبدالحق عرف میاں مٹھاکے مابین ملاقات کی سہولت فراہم کی ، جن پر یہ الزام ہے کہ انہوں نےکئی افراد کو زبردستی اسلام قبول کروایا ہے۔

بحث کے شرکاء میں سینیٹر مشتاق احمد خان ؛ ڈاکٹر قبلہ ایاز ، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل  ؛  ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی ، رکن  اسلامی نظریاتی کونسل  ؛ ڈاکٹر اکرام الحق ،سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل   ؛  ڈاکٹر محمد مشتاق احمد ، قانونی ماہر اور سابق ڈائریکٹر شریعہ اکیڈمی  اور دیگر افرادشامل تھے۔  آئی پی ایس کے وفد میں سینئر ریسرچ آفیسر سید ندیم فرحت اور آئی پی ایس کے تحقیق کار اور ’جبری مذہبی تبدیلی یا ایمان کی تبدیلی : قصے یا حقیقت‘ کےمصنف صوفی غلام حسین شامل تھے۔

اجلاس کے پیچھے مقصد پاکستان  خاص طور پر سندھ میں جبری  مذہبی تبدیلی کے رجحان پر غور کرنا اور ’جبری تبدیلیٔ مذہب کی روک تھام کےمجوزہ بل‘  کے مضمرات پر بحث کرنا تھا ، جو کہ پہلے ہی پارلیمنٹ کی اقلیتوں کی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جا چکا تھا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے میاں مٹھا نے جبری مذہبی تبدیلی کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کی ۔ انہوں نے سندھ میں اس کی تاریخ کوتفصیل سے بیان کیا اوراس علاقے کے اندر مذہبی تبدیلیوں میں اپنے مدرسے کا اصل کردار بھی بتایا۔ اس کے علاوہ ، انہوں نے اس طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالی جو ان کا مدرسہ مذہب تبدیل کرنے والے کی تصدیق کے لیے اپناتا ہے اور یہ کہ وہ مذہب تبدیل کرنے والوں کو دھونس اور دھمکیوں سے کیوں کر بچاتے ہیں۔