صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار پاکستان کو کشمیریوں کی حمایت کے لیے IHL کی دفعات کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ English
پاکستان کو کشمیریوں کی حمایت کے لیے IHL کی دفعات کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ چھاپیے ای میل

 IPS-WGK-10th-Meeting

پاکستان کو بین الاقوامی قانون خصوصاً بین الاقوامی انسانی حقوق (IHL) اور اقوام متحدہ کے قوانین کے بارے میں بہتر فہم پیدا کرنا چاہیے اور ان میں موجود مختلف دفعات کا ذہانت سے استعمال کرنا چاہیےتاکہ محض اخلاقی اور سفارتی حمایت سے کہیں بڑھ کر مزید چینلز کے ذریعے کشمیر کی جدوجہد کو آگے بڑھایا جا  سکے۔

اس رائے کا اظہار 11 اگست 2020  کوکشمیر پر ہونے  والے  آئی پی ایس  ورکنگ گروپ (IPS-WGK) کے 10 ویں اجلاس میں کیا گیا۔

اس اجلاس  کی صدارت ایگزیکٹو پریذیڈنٹ آئی پی ایس خالد رحمٰن نے کی اورمنتظم کے فرائض آئی پی ایس کی ساتھی اور IPS-WGK  کی جنرل سیکرٹری فرزانہ یعقوب نے ادا کیے جبکہ اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے والوں میں  ایسوسی ایٹ پروفیسر  LUMS  ڈاکٹر سکندر احمد شاہ،  حریت رہنماغلام محمد صفی، امبیسیڈر(ر) سید اشتیاق حسین اندرابی ، ایمبیسیڈر (ر) تجمل  الطاف ،  ایمبیسیڈر (ر) سید ابرار حسین، امبیسیڈر (ر) ایازوزیر ،  بریگیڈیئر (ر) سید نذیرمہمند، ڈائریکٹر کشمیر میڑیا سروسز (KMS)شیخ تجمل الاسلام، جموں و کشمیر لبریشن سیل (JKLC) کے ڈائریکٹر راجہ سجاد خان، سینئر صحافی شکیل ترابی اور  Legal Forum for Oppressed Voices of Kashmir (LFOVK)  کے بین الاقوامی ماہر ایڈووکیٹ ناصر قادری  اور دیگر افراد شامل تھے۔

ڈاکٹر شاہ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون میں موجود بین الاقوامی قوانین کی مختلف دفعات اور معاہدوں میں ہندوستان  کے پاپند ہونے کوپاکستان کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کے لیے جاری مقامی جدوجہد کی حمایت میں استعمال کر سکتا تھا۔

انہوں نے کہا، ”بین الاقوامی قانون کے فریم ورک کی ایک وسیع تر اور گہری تفہیم سے مسئلہ کشمیر کی دنیا کے سامنے بہتر طور پروکالت کی جا سکتی تھی۔“

شاہ نے قبضے کے قانون پر توجہ دیتے ہوئے اسے پاکستانی نقطۂ نظر سے اہم قرار دیا ، خاص طور پر اس نئے سیاسی نقشے کو مدنظر رکھتے ہوئے جس میں کشمیر کو غیر قانونی قبضہ کیے گئے  علاقے کے طور پر زور دیا گیا ہے۔

اسپیکر کا مؤقف تھا کہ کشمیر کی خودمختاری میں کسی قسم کی گراوٹ، یہاں تک کہ اگر اسے ہندوستانی آئینی نقطہ نظر سے بھی اختیار کیا گیا ہے تو یہ شملہ اعلامیے کی خلاف ورزی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان ریاست جموں و کشمیر اور اس کے عوام کے ضمن میں طاقت کے استعمال سے متعلق قانون (jus ad bellum) ، دشمنیوں میں طرزِ عمل سے متعلق قانون (jus in bello) نیز بھارتی منصوبہ بندیوں اور اقدامات کو بے نقاب کرنے اور ان کو نشانہ بنانے کے لیے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔  بین الاقوامی قانون میں موجود راستوں کی بنیاد پر  پاکستان کو اپنی فوجی حکمت عملی تیار کرنا چاہیے تاکہ بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں ، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کو روکنے کے لیے حفاظت ذات اور انسانی مداخلت کے طریقوں اور ذرائع کو شامل کیا جا سکے۔

ہندوستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر میں موجود چیپٹر ۶ کے مطابق  اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار کے تحت مسئلہ کشمیر میں مداخلت کی استدعا کی تھی۔ یہ چیپٹر تنازعات کے حل کے لیے کوشش سے متعلق ہے اور اس کے تحت جب تک  تنازعہ طے نہیں ہوتا تب تک اسے دائمی حیثیت ملتی ہے۔ تاہم ، اسپیکر نے کہا کہ چیپٹر ۷ کی دفعات میں پاکستان کے لیے ایسے راستے موجود ہیں جن کے ذریعےمسئلہ کشمیر کی پیروی کی جاسکتی ہے اور یہ دفعات معاشی پابندیوں ، ناکہ بندی ، مواصلات میں مکمل یا جزوی مداخلت ، سفارتی تعلقات منقطع کرنے اور حتٰی کہ فوجی آپشن کے استعمال کی بات کرتی ہیں۔

اسپیکر نے الزام لگایا  کہ بھارت دہشت گردی سے متعلق بین الاقوامی قانون کی دفعات کا سہارہ لے کر جموں و کشمیر میں پاکستان کے امیج کو مسخ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دہشت گردی سے متعلق کنونشنوں کا اطلاق کشمیر کی جدوجہد پر نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن ہندوستان دہشت گردی اور حق خودارادیت کے لیے جائز جدوجہد کے مابین مخصوص لائن کو دھندلا دینے میں کامیاب رہا ہے۔ درحقیقت  ہندوستانی اقدامات دہشت گردی کی تعریف پر زیادہ پورے اترتے ہیں لیکن اس نے انہیں بین الاقوامی قانون میں بکھری ہوئی دفعات کے تحت اپنی شناخت دے کر مرضی کے فریم میں فٹ کر رکھا ہے۔

 اسپیکر نے رائے پیش کی کہ پاکستان کشمیر کے لیے محض ’اخلاقی مدد‘ فراہم کرنے کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کرسکتا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایسا اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے جس کے تحت یہ طے کیا جا سکے کہ کس طرح فوجی مدد فراہم ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان انسانیت کے خلاف جرم کر رہا ہے اور پاکستان کو اس کے جواب میں فوجی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے کیونکہ کچھ ایسی قانونی پوزیشنیں ہیں جن کی بنیاد پر طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے جن کو کچھ ریاستیں بین الاقوامی قانون کے تحت دلائل پر قائل کر کے کامیابی کے ساتھ انجام دے چکی ہیں۔  

جموں و کشمیر میں ہندوستانی مؤقف کے بارے میں زیادہ واضح الفاظ کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ یہ دلیل دینا ٹھیک ہے کہ بھارت کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کر رہا ہے ، لیکن آئی ایچ ایل کے تناظر میں اس سے بھی زیادہ متعلقہ اصطلاح ’متشدد قبضہ‘ ہوگی۔ اسی طرح ، آئی ایچ ایل کے قوانین اور دفعات میں کچھ ہتھیاروں کے استعمال کی ممانعت ہے جو جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ذریعہ آنسو گیس سمیت کم استعمال ہوتا ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے شاہ کے نقطہ نظر کی تائید کی۔ انہوں نے بین الاقوامی فورمز پر ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی IHL کی خلاف ورزیوں کو موثر انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیاسی ، سفارتی، قانونی، حکمت عملی اپناتے ہوئے کشمیر کی جنگ لڑنے کی ضرورت ہے حتیٰ کہ   عسکری  قوت بھی اگر ضروری ہو جائے تو استعمال کرنا چاہیےجبکہ اس جدوجہد میں بین الاقوامی قانون  میں موجود مختلف دفعات کے موثر استعمال کرنے کے لیے بھی خود کو تیار کرنا چاہیے۔

رحمٰن نے اجلاس کے اختتام پر بین الاقوامی فورمز میں مسئلہ کشمیر  کو نمایاں کرنے کے لیے مناسب منصوبہ بندی اور ہوم ورک کی ضرورت پر زور دیا جبکہ پاکستان کے اندر بھی بین الاقوامی قوانین کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے اجتماعی مکالمے کے آغاز پر  زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر بیانیہ کی جنگ ہے اور پاکستان کو بھی اپنے بیان میں یکسانیت پیدا کرنے اور اسے سنجیدگی کے ساتھ لینےاور اس میں توسیع کے لیےایک جامع روڈ میپ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔