صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار آئی پی ایس نیشنل اکیڈمک کونسل کی سالانہ میٹنگ 2020 English
آئی پی ایس نیشنل اکیڈمک کونسل کی سالانہ میٹنگ 2020 چھاپیے ای میل

 NAC-Meeting-2020

کمزورطرزِحکمرانی اور تعلیم کے شعبے میں تنزلی ملک کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے:  آئی پی ایس  نیشنل اکیڈمک کونسل

 سینئر ماہرین تعلیم اور دانشوروں ، جن میں پاکستان کی چار یونیورسٹیوں کے  وائس چانسلرز بھی شامل تھے، نے ملک میں غیر منظم گورننس کے باعث ہونے والے نقصانات اور تعلیمی شعبے خصوصاً ا    علیٰ تعلیم میں ہونے والے اداراتی انحطاط کو  ملک کے سب سے بڑے  چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ  ان مسائل کو حل کرنے میں تاخیرقوم کے لیے  انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ 

ان خدشات کا اظہار 12 ستمبر 2020 کو انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)  اسلام آباد کی نیشنل اکیڈمک کونسل (این اے سی) کے سالانہ اجلاس میں کیا گیا۔  اس اجلاس کی صدارت ایگزیکٹو صدر آئی پی ایس خالد رحمٰن نے کی جبکہ  سابق سفیر شمشاد احمد خان ، سید ابو احمد عاکف ،سابق وفاقی سیکرٹری، ڈاکٹر انیس احمد ، وائس چانسلر ،رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ،  پروفیسر ڈاکٹر انوار الحسن گیلانی ، وائس چانسلر،یونیورسٹی آف ہری پور ، ڈاکٹر فتح محمد برفت  ،وائس چانسلر ،یونیورسٹی آف سندھ ، ڈاکٹر سید طاہر حجازی  ،وائس چانسلر ،مسلم یوتھ یونیورسٹی، ڈاکٹر سید ایم جنید زیدی،  ایگزیکٹو ڈائریکٹر ، کومسیٹس یونیورسٹی، ڈاکٹر عدنان سرور خان سابق ڈین ، شعبہ سوشل سائنسز ،پشاور یونیورسٹی، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی ، ڈائریکٹراورعبدالصمد خان اچکزئی، چیئرپرسن ،بلوچستان یونیورسٹی، ڈاکٹر نورین سحر،  چیئر پرسن،  شعبہ بشریات  ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد ، پاکستان کے سابق چیف  اکانومسٹ فصیح الدین ، مرزا حامد حسن  ، سابق وفاقی سیکرٹری ، ایئر کموڈور (ر) خالد اقبال اور امان اللہ خان،  سابق صدر،  راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اجلاس سے خطاب کیا۔ 

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ IPS-NAC ایک نگران مشاورتی مجلس ہے جو کہ پاکستان بھر کے نامور دانشوروں ، اسکالرز ، تعلیم اور دیگر شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ہے جنہیں  قومی اہمیت کے معاملات پر اپنی آراء دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جاتا ہے  جس کے نتیجے میں انسٹیٹیوٹ کے تحقیقی کام کو ان کی رہنمائی سے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ 

مقررین نے ملک میں حکمرانی سے متعلق مختلف امور پر سوال اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ  حکومت کی مشینری زیادہ تر بیوروکریسی پر انحصار کرتی ہے لہٰذا  موخرالذکر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کرے۔ انہوں نے بیوروکریسی کے نوآبادیاتی ڈھانچے پر نظر ثانی کرنے اور مروجہ بہترین طریق کار کے مطابق اس میں اصلاحات لانے کا بھی مشورہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ جب تک بیوروکریسی اپنے کردار کو صحیح طرح سےنہیں سمجھتی اور اپنا کام مستعدی سے کرنا شروع نہیں کرتی اس وقت تک ملک کی صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی ہے۔ 

ڈاکٹر برفت نے وسائل کی کمی اور سیاسی تقرریوں کے نتیجے میں ہونے والی ضرورت سے زائد تقرریوں کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں خصوصاً یونیورسٹیوں میں بگڑتی ہوئی صورتحال کی طرف توجہ دلائی۔ سرکاری اداروں کو مضبوط بنانے اور انہیں کسی مداخلت کے بغیر دیے گئے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے کی اجازت دینے کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے   ڈاکٹر برفت نے انکشاف کیا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد یونیورسٹیوں میں سیاسی مداخلت کئی گنا بڑھ گئی ہے جس سے ان کی خود مختاری اور تعلیمی معیار بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ 

ملک کے نظام تعلیم میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے  ڈاکٹر گیلانی نے کہاکہ اچھے تعلیمی نظام کا مقصد طلبا میں اعتماد اور تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانا اور ان کے کردار کو تشکیل دینا ہے۔ تاہم ، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں یہ اہم پہلو مکمل طور نظر انداز ہیں۔ 

ڈاکٹر سحر نے بھی انہی سطور پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں نصاب تین اہم خصوصیات کے گردگھومتا ہے۔ معلومات، مہارت اور رویے کی تعمیر۔ تاہم پاکستان میں بنیادی طور پر معلوماتی پہلو پر توجہ دی  جاتی ہے جس  کے باعث مہارت اور رویوں کی تعمیر کا پہلو یکسرطور پر نظرانداز ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق ،  اس صورتحال  کےنتیجے میں معلومات پر تو بڑی حد تک   توجہ بڑھا دی گئ ہے لیکن  ہنر مندی میں کمزوری اور مہارت حاصل کرنے کے روّیے میں کمی طالب علموں کی پیشہ ورانہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دیتی ہے۔  

فصیح الدین اور ڈاکٹر زیدی نے سائنس اور تکنیکی تعلیم پر بہت زیادہ زور دیتے ہوئے اسے بالخصوص چوتھے صنعتی انقلاب میں درپیش چیلنجوں کے باعث  وقت کی ضرورت قرار دیا ۔  

دوسری طرف،  ڈاکٹر سرور طلباء کے  ٹیکنالوجی پر زیادہ انحصار  کے بارے میں محتاط تھے جو ان کے بقول  ان کی سوچ اور خود سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔اس لیےانہوں نے اس سلسلے میں متوازن طریقہ کاراپنانے کی تجویز دی۔ 

حامد حسن نے مغرب سے متاثرہ ذہنیت کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا جس میں ہر تعلیمی کاوش کو مغربی تمثیل کے مطابق جانچا جاتا ہے جبکہ مقامی طور پر سامنے آنے والے  بیانیے اور مکالمے  کو متوسط معیار کا حامل قرار دے دیا جاتا ہے۔  

ڈاکٹر انیس نے تحقیقی اور علمی کاوش  کے ضمن میں  ایک رد عمل والے رویےّکے بجائے متحرک اپروچ کو اپنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمارے عقائد اور ثقافت کے اپنے مثبت اور مضبوط پہلو ہیں لہذا  مقامی اسکالرشپ کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے جو مقامی نقطہ نظر  اورطرزِ عمل کے ساتھ تحقیق اور  مکالمے کو آگے بڑھا سکے۔