انجینئر ڈاکٹر ایم اکرم شیخ کے ساتھ ‘The Living Scripts’ سیریز میں نشست چھاپیے

 TLS-with-Engr-Dr-M-Akram-Sheikh

دو نشستوں پر مشتمل  آئی پی ایس کی سیریز ‘The Living Scripts’  کا تیرہواں اجلاس ۲۷ اور ۲۹ جولائی ۲۰۲۰ء کو سابق چیئرمین پلاننگ کمیشن انجینئر  ڈاکٹر ایم اکرم شیخ   (ہلال امتیاز)کی معیت میں ہوا۔  

اپنے نمایاں کیریئر کے دوران متعدد اہم عہدوں پر فائز رہنے والے ڈاکٹر ایم اکرم شیخ نے کہا کہ ان کے فلسفے ، شخصیت اور زندگی کی جدوجہد کا خلاصہ ْوژن ۲۰۳۰ء کی اسٹیٹمنٹ برائے پاکستان‘ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے جو انہوں نے ۲۰۰۵ء میں پلاننگ کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی اور تقاریر کے گہرے مطالعہ کے بعد لکھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل کا تصوراتی نقشہ لیے ہوئے یہ اسٹیٹمنٹ اس طرح تھی ”ایک ترقی یافتہ،صنعتی ، انصاف پسند اور خوشحال پاکستان جو معیشت کے محدود وسائل میں تیز رفتار اور مستحکم ترقی  کی منزلیں  طے کرنے کے لیےعلم  کا علم اٹھائے ہوئے ہو گا۔“

اپنی تعلیمی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ انہوں نے 1962ء میں یو ای ٹی   لاہور سے گولڈ میڈلسٹ کی حیثیت سے بی ایس سی انجینئرنگ مکمل کی اور پھر انہوں نے بطور ڈیزائن انجینئر واپڈا میں ملازمت کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی سے سٹرکچرل انجینئرنگ میں ایم ایس سی کی سند حاصل کی  اور بعد میں کینیڈا کی یونیورسٹی آف  کیلگری سے گریجویٹ ٹیچنگ اسسٹنٹ / پی ایچ ڈی کے طالب علم کی حیثیت سے داخلہ لیا۔ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد وہ  ۱۹۶۸ء میں پاکستان واپس آگئے اور پھر انہوں نے پلاننگ کمیشن کے سربراہ  اور وفاقی وزارتوں  میں متعدد سینئر انتظامی عہدوں  پر خدمات سرانجام دیں جن میں وفاقی سیکرٹری وزارتِ مواصلات، وزارت پانی و توانائی اور وزارت صنعت و تعمیرات  شامل ہے۔وہ اسٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن (SEC) ، پاکستان اسٹیل ملز ، ہیوی میکینیکل کمپلیکس (HMC) اور پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC)  میں مینیجنگ ڈائریکٹر/ چیئرمین  کی حیثیت سے خدمات بھی سرانجام دے چکے ہیں۔

اپنے طویل اور متنوع کیریئر کے دوران  ڈاکٹر  اکرم شیخ نے  تزویراتی پالیسی کے متعدد اقدامات میں سربراہی کے فرائض انجام دیے اور کئی ایک عوامی پالیسیاں اور ان سے متعلق قوانین وضع کرنے میں مدد کی۔ پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں قائم پہلےتھنک ٹینک-گلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک (GTTN) -کی بنیاد  ان کا تازہ ترین اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ان کے اس تا حیات جذبے کا تسلسل بھی ہے جو مسابقت ، جدت طرازی اور فروغ پانےوالی علمی معیشت کے ذریعہ بدلتی ہوئی عالمی معیشت کے ساتھ جڑا ہوا وہ   پاکستان  ہے جو ایک  مضبوط ، پُراعتماد، روادار، جمہوریت اور استحکام پر مبنی  ایک پُر امن معاشرے کی حیثیت  سے  اپنا وجود رکھتا ہو۔