افریقی ریاستوں کے ساتھ بھرپور سفارتی تعلقات قائم کرنے پر زور چھاپیے

 IPS-IR-Africa-Desk-Meeting

پاکستان  کو باہمی دلچسپی کے میدانوں میں تعاون کو فروغ دے کر افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں وسعت لانے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ اس سے نہ صرف سفارتی ، سیاسی ، معاشی اور ثقافتی محاذوں پر ملک کے عالمی مؤقف کو تقویت ملے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

ان خیالات کا تبادلہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS) اسلام آباد اور سینٹر فار ایشین افریقن اسٹڈیز کے باہمی تعاون سے  ۱۵ جولائی ۲۰۲۰ء کو ہونے والے ایک اجلاس میں  کیا گیا جس کا مقصد افریقہ کے سماجی و سیاسی اور معاشی منظرنامے اور اس کی اہمیت کو سمجھنا تھا تاکہ تعلقات میں مضبوط پیش رفت کے ذریعے  مستقبل میں پاکستان کے عالمی مؤقف کوپذیرائی ملنے میں معاونت حاصل  کی جا سکے۔

اجلاس کے مرکزی مقرر ایمبیسیڈر (ریٹائرڈ) تجمل الطاف تھے جبکہ دیگر مقررین میں ایگزیکٹو صدر آئی پی ایس خالد رحمٰن،   سی اے اے ایس کی بانی ڈائریکٹرفرزانہ یعقوب، آئی پی ایس کے سینئر پالیسی تجزیہ کار اور ریسرچ فیلو سید محمد علی اور آئ پی ایس کی  ریسرچ آفیسر کلثوم بلال  سمیت دیگرافرادشامل تھے ۔

پاکستان کے لیے براعظم افریقہ کی ریاستوں کی جغرافیائی اہمیت پر گفتگو کرتے  ہوئےاس طرف توجہ دلائی گئی کہ ایشیاء کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اور دوسرے ہی نمبر پر  سب سے زیادہ آبادی والے براعظم پرامریکہ، چین، روس  جیسی تمام عالمی طاقتوں حتیٰ کہ ہندوستان تک کےاثرات موجود ہیں۔ دوسری طرف۱۹۴۷ء کے بعد سے پاکستان نے براعظم میں 28 سفارتخانے/ ہائی کمیشن کھولےتھے  لیکن ان میں سے ۱۳سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بند کردیے گئے تھے۔ اس وقت پاکستان کے 15 افریقی ممالک میں ریزیڈنٹ مشن ہیں جن میں الجیریا ، ایتھوپیا ، مصر ، کینیا ، لیبیا ، نائیجر، ماریشیس، مراکش ، نائیجیریا ، سینیگال، جنوبی افریقہ، سوڈان، تنزانیہ، تیونس اور زمبابوے شامل ہیں۔ یہ ممالک زیادہ تر شمالی افریقہ میں ہیں اور اتفاقیہ طور پرانہی کی بڑی آبادیاں بھی ہیں جبکہ ان میں سے نو او آئی سی کے ممبر بھی ہیں۔

پچھلے سال سےحکومتِ پاکستان اپنی ’دیکھو افریقہ پالیسی‘ کے ذریعے افریقہ پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔ اسی کے تحت حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں جبوتی ، روانڈا ، یوگنڈا ، گھانا اور آئیوری کوسٹ میں مزید پانچ سفارت خانوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا  جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید پانچ سفارت خانے قائم کیے جائیں گے۔

اپنی رائے پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے  ایمبیسیڈر (ریٹائرڈ) تجمل نے مشورہ دیا کہ دوسرے مرحلے میں پاکستان کے اضافی مشنوں کا فیصلہ تین عوامل یعنی او آئی سی کی رکنیت، جی ڈی پی (برائے نام) ،اور افریقہ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں کے بارے میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی رپورٹوں کی بنیاد پر کیا جائے۔  ان عوامل کی بنا پر انہوں نے بینن، برکینا فاسو اور کیمرون کو ایسے ممالک کی حیثیت سے تجویز کیا جو پاکستان کو دیکھنے چاہییں۔ انہوں نےکہا  کہ ان مشنوں کے افتتاح کا مقصد او آئی سی، اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ تنظیموں میں نہ صرف مسئلہ کشمیر بلکہ مسلم دنیا کے دیگر معاملات پر بھی ان ممالک کی حمایت حاصل کرنا  ہونا چاہیے۔

اس مباحثے میں ایسے بہت سے پہلوؤں پر بھی گفتگو ہوئی جن کے ذریعے پاکستان افریقی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں وسعت لا سکتا ہے۔ براعظم کی وسعت،اس کے مختلف امور اور چیلنجوں کو دیکھتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کو سفارتی، سیاسی ، معاشی، علمی اور ثقافتی محاذ پر افریقی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بڑھانا چاہیے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان افریقی یونین کو ملک میں اپنا دفتر قائم کرنے کے  لیے مدعو کرے،   جب کہ ACFTA  (African Continent Free Trade Agreement) میں  پاکستان کے لیے موجود مواقع کا مطالعہ کرنے کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ اس کے علاوہ افریقہ کے لیے گجرات اور گوجرانوالہ میں تیار لائٹ انجینئرنگ آلات کی تجارتی صلاحیت کی بھی نشاندہی کی گئی۔

تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے علاوہ اجلاس میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی  گئی کہ پاکستان بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے رہنما خطوط کے تحت سول جوہری ٹیکنالوجی کی ترقی میں افریقہ کی مدد کرسکتا ہے۔ یہ بھی تجویز کیا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ میں افریقی نمائندوں کے توسط سے مختلف امور پر اپنے مؤقف میں افریقہ کو سفارتی طور پر شامل  رکھے۔

افریقہ کی تاریخ اور نوآبادیاتی ماضی کو بھی  بحث کا حصہ بنایا گیا ،  جس کی وجہ سے زیادہ تر ممالک ابھی بھی خودمختاری یا مکمل خودمختاری سے محروم ہیں۔ افریقی ممالک کو درپیش چیلنجوں میں بدعنوانی اور خراب حکمرانی کا حوالہ دیتے ہوئے ، یہ نوٹ کیا گیا کہ افریقہ اب ACFTA جیسے کثیرالجہتی پلیٹ فارم کے ذریعے دنیا کے نقشے پر اپنی موجودگی کو مستحکم کررہا ہے۔