پاکستان میں زرعئی ترقی اور خوراک کا تحفظ چھاپیے

 National-Agriculture-and-Food-Security-in-Pakistan

سی پیک سے پاکستان میں زراعت کے فروغ اور خوراک کی ضروریات پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین

سی پیک   نہ صرف پاکستان کے علاقوں کو اندرونی طور پر ایک دوسرے سے بہتر طور پر منسلک کر رہا ہے بلکہ ان کی رسائ کو چین سمیت   بی آر آئی کے 60 سے زائد دیگر ممالک تک بھی ممکن بنا رہا ہے۔  چینی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں  سماجی میدانوں  میں مشترکہ تعاون کے  مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں    جو  نہ صرف   پاکستان کے شعبہِ زراعت کی ترقی   اورملک میں درپیش خوراک کی کمی کو پورا کرنے میں میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ ایک مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں تک   اس کی بہتررسا  ئ    کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

  ان خیالات کا اظہار  انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز   [آ ئ پی ایس] ، اسلام آباد میں    25 فروری 2020 ہونے والے  ایک خصوصی پالیسی ڈایئلاگ میں کیا گیا جس کا انعقاد   پاکستان ایگریکلچر سائنٹسٹ فورم [پی اے ایس فورم] کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔  اس پالیسی مکالمے سے خطاب کرنے والوں میں  ڈاکٹر محمد عظیم خان ، چیئرمین پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل [پی اے آر سی] ،   پروفیسر انوارالحق گیلانی ،  وائس چانسلر ہری پور یونیورسٹی اور سابق چیئرمین پاکستان کونسل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی [پی سی ایس ٹی]،  پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ ملک ، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، خالدرحمٰن،  ایگزیکٹو صدر آئی پی ایس اور ڈاکٹر عبدالوکیل ، صدر پاکستان ایگریکلچر سائنٹسٹ فورم شامل تھے۔

پاکستان میں زراعت کے شعبے کا  متفصل جائزہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر عظیم خان نے زراعت کے بہت سے ذیلی شعبوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نہ صرف ملک میں  خوراک کے تحفظ سے متعلقہ مسائل کو حل کیا جاسکے بلکہ اس کی بین الاقوامی تجارت کو بھی فروغ دیا جا سکے۔

ڈاکٹر خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 2013ء تک خوراک برآمد کرنے والا ملک تھا لیکن اس کے بعد خوراک درآمد کرنے والا ملک بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں یہ بات مشاہدہ کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کے زرعئ  شعبے کی بہتری کے اچھے مواقع موجود ہوں گے لیکن قوم پر اس کی بھاری ذمہ داری ہو گی کہ وہ آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے احتیاط سے اہداف کا تعین کرے اور ان کے لیے حکمتِ عملی طے کرے۔

پی اے آر سی کے چیئرمین زراعت کے شعبے کو کاروبار پر مبنی ماڈل کے ذریعے ترقی دینے کے حامی تھے جو کہ ان کی رائے میں  خام مال کو معیاری تجارتی مصنوعات اور برانڈز میں تبدیل کر کے ان کی قدر میں اضافے کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ سی پیک  راہداریوں کے آس پاس  تیار کی جانے والی مختلف اشیاء اور مصنوعات کا امتزاج اس سلسلے میں امکانات کو  کئ   گناروشن کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں چارہ، خوردنی تیل اور پام آئل کی تیاری اور برآمد کے بے انتہا مواقع موجود ہیں جبکہ دالیں اور تیل کے بیچ چند دیگر اشیاء ہیں جن میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔

مقرر نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ پاکستان میں فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کی شرح ابھی بھی تشویش کا باعث ہے، لیکن  انہوں نے مزید کہا کہ اس کا حل پیداوار، فصل میں تنوع، کٹائی کے مختلف امور کی انجام دہی میں احتیاط،بہتر  پروسیسنگ اور قدر میں اضافے کے شعبوں میں کیے گئے محتاط اقدامات میں ہے۔ یہ وہ مراحل ہیں جن کی مدد سے ان امور کو بین الاقوامی تجارت کے اعلیٰ معیار پر بھی پورا کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر خان نے پاکستان میں غذائی قلت کی موجودہ حالت پر بھی بھرپور گفتگو کی اور اسے غیرمعمولی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ خوراک میں خود کفیل پاکستان  زراعت کے شعبے میں سب سے اہم مقصد ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر ملک نے سی پیک کے میگا پراجیکٹس کی مطابقت سے پاکستان کے زرعی شعبے میں صلاحیتوں اور مواقع پر گفتگو کی۔ انہوں نے زراعت کے شعبے میں بہت سی اشیاء کا ذکر کیا جن میں پاکستان پوری دنیا بالخصوص چین  میں اپنی برآمدات کو بہتر بنا سکتا ہے ۔ پروفیسر نے کہا کہ چین دنیا میں زرعی فارمی مصنوعات درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور حال ہی میں  اس کی بی آر آئ ممالک سے ہونے والی ایسی درآمدات  میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔  پاکستان بھی اپنی کئ زراعئ  مصنوعات بی آر آئ ممالک سمیت خصوصی طور پر چین  کو برآمد کرنے کو اپنا ہدف بنا سکتا ہے۔ ان اشیاء میں خصوصی طور پر سویا بین، جو، مکئی، گندم اور دیگر اناج شامل ہیں۔ چین کو برآمد کی جانے والی پاکستانی  اشیاء میں فی الوقت چاول سب سے نمایاں ہے لیکن اس ضمن میں اور بہت کچھ کیے جانے کے امکانات موجود ہیں۔ پھلوں کے لحاظ سے چیری، انگور، آم، امرود اور مالٹے اہم  ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین کی زراعت کی تقریباً 70فی صد درآمدات امریکہ، برازیل، جنوب مشرقی ایشیا، یورپی یونین اور آسٹریلیا سے آتی ہیں اور ان ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے اپنے معیار کو بہتر بنانا ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر  انوارالحق گیلانی نے اس موقع پر  افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دوسرے ممالک کے مقابلے میں اپنی زرعی ضروریات کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں بہت پیچھے ہے۔ انہوں نے  شعبہ ِ زراعت میں جدید تکنیکی نظاموں اور طریقوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ گلوبل وارمنگ اور آب و ہوا میں تبدیلی جیسے موجودہ دور کے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔

اسپیکر نے مقامی صلاحیتوں کو بڑھانے کے اقدامات اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے پر توجہ دینے اور ان پر سرمایہ کاری کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ملک میں خوراک کی کمی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے  فصلوں کو غذائیت بخش بنانے، آب و ہوا  میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاوّ کے قابل بنانے ، فارموں کے لیے مزید زمینوں کے حصول، چھوٹے زمینداروں کو بااختیار بنانے، پانی کو محفوظ بنانے، فصلوں اور مویشیوں کے فضلے کی ری سائیکلنگ اور عوامی آگہی مہم کے ذریعے خوراک کی بچت جیسے فوری اقدامات پر بھی زور دیا۔