صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار پاکستان کو بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والے کشمیریوں کی حمایت میں ’مادی‘ مدد کو بحال کرنا ہوگا: جنگ اور امن کے لیے تمام آپشنز کو استعمال کرنا ہو گا۔ English
پاکستان کو بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والے کشمیریوں کی حمایت میں ’مادی‘ مدد کو بحال کرنا ہوگا: جنگ اور امن کے لیے تمام آپشنز کو استعمال کرنا ہو گا۔ چھاپیے ای میل

 Pakistan-must-restore-material-support

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اسلام آباد میں 2 اکتوبر 2019  کو منعقدہ ایک اجلاس میں مقررین نے کشمیر کے مقصد میں کامیابی کے لیے قومی اتفاقِ رائے، مقصد سے وابستگی، قربانی کے جذبے، مقصد پر استقامت اور مدبرانہ اقدامات جیسے کلیدی عوامل پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت سے ان پہلوؤں پر تیزتر اقدامات پر زور دیا کہ وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں موجود کشمیریوں کے لیے یہ کیفیت ’اب یا کبھی نہیں‘ والی ہے۔

یہ گفتگو آئی پی ایس میں تشکیل  دئیے گئے کشمیر ورکنگ گروپ کےتیسرے اجلاس میں ہوئی جس کا مقصد ہندوستانی مقبوضہ کشمیر (IOK) میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت پر نظر رکھنا ہے۔ اس اجلاس کی صدارت میجر جنرل (ریٹائرڈ) سردار محمد انور خان سابق صدر آزاد جموں و کشمیر (AJ&K) اور خالد رحمٰن ایگزیکٹو صدر آئی پی ایس نے مشترکہ طور پر کی۔

دیگر شرکائے گفتگو میں ایمبیسیڈر (ریٹائرڈ) ایاز وزیر، ایمبیسیڈر (ریٹائرڈ) ابرار حسین، ایمبیسیڈر (ریٹائرڈ) تجمل الطاف، بریگیڈیئر(ریٹائرڈ) سیدنذیر مہمند، فرزانہ یعقوب سابق وزیر آزاد جموں و کشمیر، غلام محمد صافی حریت رہنما، ڈاکٹر سید محمد انور ماہر بین الاقوامی قانون، عبدالرحمٰن عثمانی سی ای او الحجرہ ٹرسٹ، شیخ تجمل الاسلام سربراہ کشمیر میڈیا سروسز (KMS)، ڈاکٹر خورشید منشی ایم ایس کشمیر سرجیکل ہاسپیٹل مظفرآباد اور ڈاکٹر شہزاد اقبال شام آئی پی ایس ریسرچ فیلو شامل تھے۔

پاکستان کی طرف سے ردعمل کے انتخاب پر غور کرتے ہوئے ماہرین نے خطے میں ہندوستان کے بنائے گئے منصوبوں کے موثر جواب کے لیے امن اور جنگ کے درمیان تمام ممکنہ آپشنز کو فعال طریقے سے استعمال کرنے پر زور دیا۔ یہ واضح رہے کہ بین الاقوامی کنونشنوں اور انسانیت کے تحفظ پر مبنی قوانین، پاکستان کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ منصفانہ مقصد کو حاصل کرنے کی جنگ میں کشمیریوں کو ’مادی‘ مدد بھی فراہم کرسکتا ہے۔

شرکاء نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ دونوں طرف سے بیان بازی کے باوجود کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری چپقلش میں جوہری جنگ کے امکانات موجود نہیں ہیں کیونکہ ایٹمی ہتھیار جنگ کے لیے نہیں بلکہ قوتِ مزاحمت میں توازن کے لیے تزویراتی ہتھیار ہیں۔ حقیقت میں نہ تو بھارت اور نہ ہی پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں سوچ سکتے ہیں، تاہم اگر بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کشمیری بھائیوں کی حفاظت کے لیے جنگ تک نوبت پہنچ جائے تو پوری قوم اپنی مسلح افواج کے پیچھے کھڑی ہو گی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت سے تزویراتی اور حکمت پر مبنی آپشنز موجود ہیں۔ ان سب پر دانشمندانہ طریقے سے کام کیا جانا چاہیے اور کسی کو بھی مسترد نہیں کیا جانا چاہیے۔

تمام لوگ اس بات پر متفق تھے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزیراعظم کی تقریر نے سفارتی سطح پر وہ پیغام دے دیا ہے جو دینا مقصد تھا۔ تاہم اب ہمیں کشمیر میں کسی ’خون خرابے‘ کا انتظار کیے بغیر سب کچھ کر گزرنا چاہیے۔ اب وقت آگیا ہے کہ الفاظ کی عملی شکل میں ترجمانی کی جائے اور حالات کے مطابق ریاست کی طاقت کا بہترین طریقے سے عملی نمونہ پیش کیا جائے۔

ورکنگ گروپ نے گفتگو میں اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ”کشمیر میں جاری جدوجہد میں جہاں بے گناہ لوگ بغیرہتھیاروں اور وسائل کے قابض ہندوستانی فوج کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں، ہندوستان کے لیے ابھی بھی زمینی صورتحال پر قابو پانا مشکل ہورہا ہے۔ اب یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے ڈٹا رہے اور ان کے جائز مقصد کی حمایت کے لیے تمام تر آپشنز کا استعمال کرے۔“