صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار امریکہ-ایران کشیدگی: خطے پر اثرات کا جائزہ English
امریکہ-ایران کشیدگی: خطے پر اثرات کا جائزہ چھاپیے ای میل

 US-Iran-Standoff-

امریکہ اور ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیج میں جنگ کا خطرہ ایک دفعہ پھر سر اٹھا رہا ہے۔ امریکہ نے ایرانی تیل کی تجارت پر پابندیوں کو مزید سخت کردیا ہے اور اب بھارت جیسے ممالک بھی اس استثناء سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے جو انہیں ملا ہوا تھا۔

بھارت کے وزیرِ پیٹرولیم نے حال ہی میں یہ بیان دیا ہے کہ ان کا ملک ایرانی تیل کی درآمدات پر لگی امریکی پابندیوں کا توڑ دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک سے ضرورت پوری کرکے کرے گا جس کا نتیجہ بھارت اور ایران کے تعلقات پر منفی اثرات کی صورت میں سامنے آئے گا۔ پاکستان بھی اپنی آزادی کے دن سے ایران کے ساتھ قائم تعلقات کے باوجود ان پابندیوں کے خلاف مزاحمت نہیں کرپایا اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ تکمیل تک نہیں پہنچ پایا ہے۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں کہ جب روس ایران کی پشت پر کھڑا ہے اور بلاشبہ چین بھی، تو کیا پاکستان ایران کے ساتھ اس طرح کھڑا ہو سکے گا کہ  آئی پی گیس منصوبہ کو آگے بڑھانے اور گوادر اور چابہار کو سی پیک/ بی آر آئی کے تحت سسٹر بندرگاہوں کی حیثیت دے کر آپس میں جوڑسکے۔ اس طرح کی صورتِ حال سے ایران کے ذریعے پاکستان کے خلاف بھارتی عزائم کا تیا پانچہ تو ہوسکتا ہے لیکن اس سے نہ صرف امریکہ بلکہ سعودی عرب جیسے دوست اور دیگر خلیجی ممالک کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس پیچیدہ منظرنامے کو سمجھنے کے لیے یکم جون 2019ء کو آئی پی ایس میں ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس کا عنوان تھا: ”امریکہ- ایران کشیدگی: خطے پر اثرات کا جائزہ“۔ اجلاس سے آئی پی ایس کے ایگزیکٹو صدر خالد رحمٰن، سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ ایمبیسیڈر (ریٹائرڈ) تجمل الطاف اور کموڈور (ریٹائرڈ) خالد اقبال کے علاوہ میری ٹائم سٹڈی فورم (MSF) کے صدر ڈاکٹر سید محمد انور، اجلاس میں شامل دیگر تجزیہ کاروں اور تحقیق کاروں نے خطاب کیا۔

نئی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے خالد اقبال نے کہا کہ لگتا ہے امریکہ کا رویہ ایران کی جانب نرم ہو رہا ہے جس سے صورتِ حال امن کی طرف جاتی نظر آرہی ہے۔ ایران کو معاہدے کی شرائط پر عمل کرکے اپنی ساکھ کو بہتر بنانا ہو گا تاکہ وہ یورپ، چین اور روس کی مشروط حمایت حاصل کرسکے۔ پاکستان کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی کی جنگ میں نہیں کودنا چاہیے اور اس طرح کا کردار ادا کرنا چاہیے جو اس نے یمن کے تنازعہ میں ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران اور سعودی عرب کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف جاری جنگی صورتِ حال میں کسی بھی جگہ کھڑے ہونے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہ واضح ہے کہ تینوں سرحدوں پر عدم استحکام کا سامنا کرنا پاکستان کے لیے ممکن نہیں اس لیے پاکستان کو اس ساری صورتِ حال میں غیرجانبدار رہتے ہوئے خطے میں امن لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

تجمل الطاف نے کہا کہ اگرچہ امریکہ-ایران کشیدگی خطرے کی نشاندہی ہے تاہم زیادہ تر تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ کسی نئے محاذ کو نہیں کھولے گا کیونکہ وہ پہلے ہی افغانستان میں جنگ ہار رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے بعد امریکہ دنیا میں اپنی چوہدراہٹ قائم رکھنا چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ یہ ضروری سمجھتا ہے کہ چین کو ایک اقتصادی قوت بننے سے روکنے کے لیے اپنی طاقت استعمال کرے جس کے نتیجے میں سی پیک اور BRI منصوبے کو سپوتاژ کیا جاسکتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کا جائزہ لیتے ہوئے ایمبیسیڈر (ریٹائرڈ) تجمل الطاف نے نشاندہی کی کہ امریکہ ایران پر براہِ راست حملہ کرنے کی بجائے عرب ممالک اور اسرائیل کے ذریعے محاذ کھولے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ خطے میں بھارت کو ایک پولیس مین کے طور پر استعمال کرنے میں مددگار بنا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب اور ایران کے معاملے میں ایک متوازن سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ امریکہ ایران کو اندر سے کمزور کرنا چاہتا ہے۔ تاہم یہ تو مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کسی بھی امریکی کوشش کا حصہ نہیں بنے گا۔ دوسری طرف روس اور چین بھی اس ساری صورتِ حال کو بغور دیکھ رہے ہیں اور ایران کو ان کی بھی حمایت حاصل ہے۔

تجمل الطاف نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بھارت کس طرح ایران اور عرب دنیا کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو قائم رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال سے بھارت-ایران تعلقات پر کچھ زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ آخر میں انہوں نے اپنی بات سمیٹتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس تنازعہ میں ہراول ریاست کا کردار تو ادا نہیں کرے گا لیکن وہ سعودی عنصر کی وجہ سے ایران کے معاملے میں مکمل طور پر غیرجانبدار بھی نہیں رہ سکے گا۔

ڈاکٹر سید محمد انور کا کہنا تھا کہ بھارت نے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات اور چابہار میں اس کی سرمایہ کاری کے باوجود ایران پر امریکی مؤقف کو تسلیم کیا ہے۔ اب جب کہ بھارت نے اپنے مؤقف کو بدل لیا ہے اور ایران پر امریکہ کے لب و لہجہ میں بھی نرمی آگئی ہے تو پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں مزید بہتری لانے کی کوشش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممالک کی خارجہ پالیسی ایک طویل عمل ہوتا ہے اور چند ابھرتے ہوئے منظرناموں میں اس کے فیصلے نہیں کیے جاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ قابل عمل تعلقات رکھتے ہیں تاہم اس کے باوجود یہ قابل بھروسہ تعلقات نہیں ہیں۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ ایران کی چابہار بندرگاہ کا منصوبہ پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کے ضمن میں تین اہم نوعیت کے نکات کی نشاندہی کی۔ پہلا یہ کہ بھارت ایران کی چابہار بندرگاہ کے ذریعے افغانستان اور اس سے آگے کے ممالک تک تجارتی رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر زاہدان اور چمن کو نقل وحمل کے متبادل روٹ کے طور پر فروغ دیا جائے تو اس کی ترقی سے پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور بلوچستان میں بھی استحکام لایا جاسکے گا۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے تجارتی اور تذویراتی پہلوؤں کا اچھی طرح تجزیہ کیا جانا چاہیے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔ تیسرا یہ کہ گوادر اور چابہار سسٹر بندرگاہوں کا درجہ حاصل کرسکتی ہیں اگر ان کے درمیان خشکی پر سڑکوں کی تعمیر کر دی جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں بندرگاہوں کے درمیان کل فاصلہ 80کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ان تین پہلوؤں پر کام کرکے نہ صرف دونوں ممالک کے باہمی تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں بلکہ اس سے علاقائی سیکورٹی کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

خالد رحمٰن نے اجلاس کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ-ایران کشیدگی انتہائی پیچیدہ صورتِ حال پیش کر رہی ہے۔ پاکستان کو اس سے نپٹنے کے لیے ایک جامع اور طویل مدتی حکمتِ عملی اپنانا ہو گی اور اس پر عمل درآمد کرنا ہو گا کیونکہ پاکستان اپنے اتنے قریبی علاقے میں کسی بھی ممکنہ تنازعہ کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ ان کا خیال تھا کہ ایران پر امریکہ کے حملے کے امکانات افغانستان اور عراق کی نسبت کہیں کم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال کے پس منظر میں پاکستان کے پاس مختلف النوع پالیسیاں اختیار کرنے کے مواقع نہیں ہیں تاہم اسے علاقے میں امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھتے ہوئے ان میں تیزی لانے کی ضرورت ہو گی۔