صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار پاکستانی معیشت کی کمزوری دراصل گورننس کی ناکامی ہے: ماہرینِ اقتصادیات English
پاکستانی معیشت کی کمزوری دراصل گورننس کی ناکامی ہے: ماہرینِ اقتصادیات چھاپیے ای میل

 Book-Launch-Pak-Economic-Journey

 اسلام آباد میں ہونے والی ایک علمی تقریب میں شامل اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستانی معیشت کے کمزور ہونے کی اصل وجہ اچھی گورننس کی کمی ہے، جس کو بہتر بنائے بغیر معیشت میں زیادہ بہتری لانا ممکن نہیں۔ 

یہ بات انہوں نے 28 فروری 2019 کو انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں 'پاکستان اکنامک جرنی: نیڈ فار آ نیو پیراڈم' نامی کتاب کی تقریبِ رونمائ کے موقع پر کہی جس کے مصنف پاکستان کے سابق چیف اکنامسٹ فصیح الدین ہیں ۔ 

واضح رہے کہ اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے طباعتی پروگرام آئ پی ایس پریس نے شائع کیا ہے جبکہ اس سے پہلے اسے چین کی سچوان ہونیوسٹی میں واقع پاکستان اسٹڈی سینٹر بھی چینی زبان میں شائع کر چکا ہے۔ 

کتاب کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے مصنف کا کہنا تھا کہ پچھلی کچھ دہائیوں میں پاکستان کی معیشت میں کافی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئ ہیں لیکن اس کے باوجود ایک طرف تو یہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان اپنے وسائل اور صلاحییتوں سے خاطر خواہ استفادہ بھی حاصل نہیں کر سکا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو قائدِ اعظم کی سوچ کے مطابق ایک اسلامی اصولوں پر چلنے والی انصاف پسند اور ترقی پسند ریاست بنانے کے لیے ایک بہت مفصل اور جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس کا اس کتاب میں بہت سادہ الفاظ مین جائزہ لیاگیا ہے۔ 

اس علمی نشست کی صدارت پاکستان کے سابق سیکریٹری جنرل فنانس اور ریوینیوسعید احمد قریشی نے کی جب کہ دیگر مقررین میں آئ پی ایس کے ایگزیکٹیو پریزیڈنٹ خالد رحمٰن، سابق سیکریٹری فنانس ڈاکٹر وقار مسعود خان، مسلم یوتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر طاہر حجازی، اور ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی میں شعبہِ سماجی علوم کے ڈین ڈاکٹر عبدالصبور شامل تھے۔  

سعید احمد قریشی کا کہناتھا کی اپنے قیام کے فوری بعد سے ہی پاکستان کو گورننس کے مسائل درپیش رہے ہیں جس کے اثرات ملک کی معیشت پڑتے رہے ہیں۔ انہوں نے کتاب میں دیے گئے کمزور گورننس کے مختلف پہلووں کی طرف اشارہ کیا جن کی وجہ سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچا۔ 

ڈاکٹر وقار مسعود نے ملک میں رائج اکثر نظاموں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے ملک میں انصاف کی نظام اور فراہمی کو بہتر بنانے پر زور دیا اور اسے گورننس اور معیشت کی بہتری کے لیے لازم و ملزوم قرار دیا۔ 

ڈاکٹر حجازی نے بھی کتاب میں بیان کردہ ملکی معیشت کو پیش مختلف مسائل کی طرف توجہ دلائ جن  میں خصوصاً پانی، بجلی، ذراعت اور ٹیکنالوجی کے بارے میں تحقیق اور ویژن کی کمی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ 

ڈاکٹر عبدالصبورنے کتاب میں بیان کردہ کئ اقدامات کی طرف توجہ دلائ جن پر عمل کر کے ملکی معیشت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ 

مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل اسلامی تعلیمات کی رہنمائ میں تلاش کرنا چاہیے لیکن افسوس کہ پالیسی ساز حلقوں میں اس طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ 

آخرمیں مقررین نے مصنف کی کاوش کو سراہتے ہوئے کتاب کو پاکستانی معیشت کے طالبعلموں اور تحقیق کاروں کے لیے ایک انمول علمی خزانہ قرار دیا اور ان کو اس سے استفادہ حاصل کرنے پر زور دیا۔