صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک: خارجہ پالیسی پر مبنی ایک تجزیہ English
پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک: خارجہ پالیسی پر مبنی ایک تجزیہ چھاپیے ای میل

 Pakistan-and-its-Neighbors

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی کردار سیاسی عوامل کی بجائے معاشی عوامل کو ہونا چاہیے کیونکہ مضبوط سیکورٹی کے لیے مضبوط معیشت بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ ایک سیمینار میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان کے خارجہ تعلقات بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات سیاسی نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ معاشی مفادات سامنے رکھ کر استوار کیے جانے چاہییں۔

یہ سیمینار 8 فروری 2018ء کو آئی پی ایس میں منعقد ہوا اور اس کا موضوع تھا ”پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک: خارجہ پالیسی پر مبنی ایک تجزیہ“۔صدارت کے فرائض نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز اسلام آباد میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ ڈاکٹر عدنان سرور نے ادا کیے اور اس کے مقررین میں ایمبسیڈر (ریٹائرڈ) تجمل الطاف اور ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالد رحمٰن شامل تھے۔

ایمبسیڈر (ریٹائرڈ) تجمل نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کا محل وقوع اس کے قومی مفادات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کو تزویراتی حیثیت سے دیکھا جائے تو ملک کی جغرافیائی پوزیشن اس کی اقتصادی ترقی کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے بشرطیکہ اس کی سیاسی بدحالی پر قابو پا لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ CPEC، SCO، CASA 1000، TAPI اور IP جیسے معاشی ترقی کے لیے موجود عوامل کے باعث اب ملک کی معاشی سلامتی، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے امور میں مرکزی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

سابق سفیر جنہوں نے 35 سال سے زائد عرصہ تک مختلف ممالک میں پاکستان کے لیے سفارتی خدمات سرانجام دی ہیں، اس اجلاس میں پاکستان کے تحفظ کو علاقائی امن کے تناظر میں دیکھتے ہوئے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات پر اپنی رائے دے رہے تھے۔

تجمل الطاف نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں CPEC کو ایک کلیدی کردار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرکزی اہمیت کے حامل منصوبے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو طرزِ حکومت، سیاسی اصلاحات، انسانی وسائل کی ترقی اور صلاحیتوں کی تعمیر کے میدان میں خاطرخواہ توجہ کی ضرورت ہے۔

تجمل الطاف نے افغانستان کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک چیلنج تصور کرتے ہوئے اس کے ساتھ تعلقات کی بہتری کو انتہائی اہم گردانا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں معیشت کو خاص طور پر اہم توجہ دی جانا چاہیے۔ انہوں نے تجارت، توانائی کے راستوں اور اقتصادی تعاون کے میدانوں میں وسط ایشیائی ممالک کے لیے ویزوں کے اجراء پر زور دیا۔

پاکستان کو ایشیا کی اقتصادی سرگرمیوں میں مرکزی حیثیت دیتے ہوئے مقرر نے کہا کہ پاکستان علاقائی اقتصادی انضمام میں نہ صرف انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ خطے میں موجود سیکورٹی کے چیلنجوں کا حل بھی نکال سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو ایک حقیقت پر مبنی خارجہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے چین، افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ اتحاد کو مضبوط بنانا چاہیے۔ جنوبی اور وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں امن، استحکام، خوشحالی اور اقتصادی ترقی کو مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔