صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام اس کی معاشی و معاشرتی ضروریات کو پورا کرنے کا اہل نہیں English
پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام اس کی معاشی و معاشرتی ضروریات کو پورا کرنے کا اہل نہیں چھاپیے ای میل

 1stAnnualEduDialogueForum

پہلا سالانہ تعلیمی ڈائیلاگ فورم: 70 سالہ پاکستان میں تعلیم کے لیے قومی ایجنڈا

اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پہلے سالانہ تعلیمی ڈائیلاگ فورم نے پاکستان کے موجودہ تعلیمی نظام کو پاکستان کی اقتصادی و معاشرتی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی قرار دیتے ہوئے نئی تعلیمی پالیسی کے لیے کچھ سفارشات پیش کیں۔ نئی تعلیمی پالیسی اس وقت تشکیل کے مراحل میں ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ اسے جنوری 2018ء کے وسط تک مکمل کر لیا جائے گا۔
’ 70 سالہ پاکستان-تعلیم کے لیے قومی ایجنڈا‘ کے موضوع پر منعقد کیے جانے والے فورم کا انتظام 27 سے 28 دسمبر 2017ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی  اسٹڈیز اور تنظیم اساتذہ پاکستان نے مشترکہ طور پر کیا۔
فورم کا مقصد موجودہ تعلیمی نظام کا ملک کے سماجی اور مذہبی اقدار اور اس کے تخلیقی نظریات کے پس منظر میں تجزیہ کرنا اور تعلیم پر ایک ڈائیلاگ کا آغاز کرنا تھا۔ اس تعلیمی ڈائیلاگ میں ملک بھر سے جن ماہرین تعلیم اور موضوع پر عبور رکھنے والے افراد نے شرکت کی ان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور پشاور یونیورسٹی کی فیکلٹی آف اسلامک اینڈ اورینٹل اسٹڈیز کے سابق سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز، رفاہ بین الاقوامی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر انیس احمد، کومسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی لاہور میں سنٹر آف اسلامی فائنانس کے سربراہ ڈاکٹر عبدالستار عباسی، لاہور لیڈز یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد مدنی، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT) میں سکول آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینیٹز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر راؤجلیل احمد،  UMT کی اسی فیکلٹی کے ڈاکٹر واصف علی وثیر، دعوہ اکیڈمی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ڈاکٹر فرید بروہی، سابق سینیٹر اور رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کی ڈائریکٹر ٹریننگ پروگرام ڈاکٹر کوثرفردوس، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی شگفتہ عمر، UMT کے ساجد اقبال شیخ، RIU کے زبیر صفدر، ہزارہ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر قاضی سلطان محمود، تنظیم اساتذہ پاکستان کے صدر ڈاکٹرمیاں محمد اکرم اور ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالدرحمٰن شامل تھے۔
ڈاکٹر محمد اکرم نے اپنی تقریر میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان کے ستر سال بعد بھی ملک نے تعلیمی میدان میں تسلی بخش ترقی نہیں کی اور ابھی بھی میلینیم ترقیاتی اہداف سے کہیں دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا موجودہ تعلیمی نظام اس کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ملک میں تعلیمی نظام اور نصاب کی مختلف اقسام موجود ہیں جو معاشرے میں پہلے سے موجود تقسیم کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ بہت سے غیرملکی اثرورسوخ روبہ عمل ہیں اور ان سے بچاؤ اور مفادات کے تحفظ کے لیے نگرانی کا کوئی طریقۂ کار موجود نہیں ہے۔ نجی شعبہ حکومت کے تعلیمی شعبے پر حاوی ہوتا جا رہا ہے اور حکومت کو اس صورتِ حال سے نپٹنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔مذہبی تعلیم بھی اچھی طرح سے مربوط نہیں ہے۔ خواتین کی تعلیم پر بہت زور دیا گیا ہے لیکن اس کی موجودہ وضع معاشرے کی بہتری پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے مغربی طریقوں پر عمل پیرا ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ہماری اخلاقی، سماجی، مذہبی اور نظریاتی اقدار کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ نہ تو کسی معیار کو سامنے رکھا گیا ہے اور نہ کسی تحقیق پر مبنی نقطۂ نظر کی پیروی کی جارہی ہے۔ روزگار کے لیے منصوبہ بندی کا کوئی طریقۂ کار موجود نہیں۔ اس کے نتیجے میں ملک کا موجودہ تعلیمی نظام ملک کی معاشی، سماجی اورنظریاتی ضروریات کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔
ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ مغرب کے وضع کردہ تعلیمی نظام ہمارے معاشرے میں بھی اسی طرح کے نتائج مرتب کر سکیں کیونکہ ہمارا معاشرہ مختلف نوعیت کی اقدار، معیارات اور طرزِزندگی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے ملک میں ”اشرافیہ کے لیے تعلیم“ کے موجودہ پہلوؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم نے اس تقسیم کو مزید بدتر بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر کم توجہ دی گئی ہے اور زیادہ توجہ تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھانے پر ہے اور اس صورتحال میں جو انسانی وسائل پیدا کیے جا رہے ہیں وہ بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے ملک سے چلے جانے (brain drain) کی صورت میں ضائع ہو رہے ہیں۔
ماہرین تعلیم نے ہر تعلیمی ادارے اور یونیورسٹی کی طرف سے معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر نئے ماتحت تعلیمی ادارے اور یونیورسٹیاں کھولتے چلے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ملک کے ہر ضلع میں یونیورسٹی کے قیام سے تربیت یافتہ اور قابل اساتذہ کی کمی ہو گی ۔ اس اقدام سے نہ صرف تعلیم کا معیار متاثر ہو گا بلکہ اس سے قومی اتحاد بھی شدید طور پر متاثر ہو گا۔
پروگرام کے اختتام پر ماہرین تعلیم اور دانشوروں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ملک میں کثیر نوعیت کی ضروریات کو پورا کرنے کے نقطۂ¬نظر سے تعلیمی نظام وضع کرنے اور نصاب کا ازسرِنو جائزہ لے تاکہ اسے قوم کو یکجا کرنے کا ذریعہ بھی بنایا جا سکے۔
ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ ہمارا مقصد دنیا کا مقابلہ ہونا چاہیے جو سائنسی، تکنیکی، پیشہ ورانہ، کاروباری، تجارتی اور صنعتی تعلیم میں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ دنیا بھر میں روایتی تعلیم کا نظام جدید تعلیمی نظام میں تبدیل ہو رہا ہے جو کہ پہلے سے زیادہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور اس کے نتیجے میں علاقائی معاشرے عالمی معاشرے میں ضم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں تیز رفتار دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو سب سے پہلے اپنے گھر کے حالات کو درست کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں ہمارے قومی تعلیمی نظام میں بہت سی ناکامیاں ہیں وہاں کچھ کامیابیاں بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم بیانیہ کی اُس جنگ میں جس میں ہمیں صرف منفی کردار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ، اپنی کامیابیاں بھی دنیا کے سامنے نمایاں کریں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی چاہیے کہ ہم اپنی ناکامیوں کو تسلیم کریں اور انہیں درست سمت دینے کے لیے بہتر مواقع میں تبدیل کریں۔