صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار پاکستان میں پیٹرولیم کی تلاش اور پیداوار کی صورتحال: مستقبل کے لائحہِ عمل پرسوچ بچار English
پاکستان میں پیٹرولیم کی تلاش اور پیداوار کی صورتحال: مستقبل کے لائحہِ عمل پرسوچ بچار چھاپیے ای میل

 StatusofPetroleum

وفاق اور صوبے تیل اور گیس کی تلاش کے کام میں رکاوٹیں جنگی بنیادوں پر دور کی جائیں

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) کےزیرِاہتمام گول میزکانفرنس میں شریک توانائی ماہرین اور پالیسی تجزیہ کاروں کےمطابق وفاق اور صوبوں میں تیل اورگیس کی تلاش سے متعلقہ اٹھارویں آئینی ترمیم کی تشریح اور اطلاق پرجاری اختلافات کا فوری حل ناگزیر ہے بصورتِ دیگریہ چپقلش ملک کی اقتصادی حالت پہ تباہ کن اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ صورتحال کی پیچیدکی سے تیل اور گیس کی تلاش کی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں جسکے باعث بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں یا تو ملک چھوڑ چکی ہیں یا چھوڑنے کے دھانے پر ہیں۔ 

 "پاکستان میں پیٹرولیم کی تلاش اور پیداوار کی صورتحال: مستقبل کے لاۂحہ عمل پرسوچ بچار"  کے موضوع پر ۹ نومبر ۲۰۱۷ کو منعقد ہونے والی مزکورہ گول میزکی صدارت سابق وفاقی سیکرٹری مرزا حامد حسن نےکی جوکہ آئی پی ایس کی کی نیشنل اکیڈمک کونسل کے رکن بھی ہیں۔ اس موقع پرخیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ (کےپی اوجی سی ایل) کے سی ای او محمد رضی الدین نےاپنےادارے کی پیش رفت اور اسکو درپیش چیلنجز سےمتعلق کلیدی پریزنٹیشن دی۔ کانفرنس میں شریک دیگرشرکاء نےبھی گفتگومیں بھرپورحصہ لیا جن میں سابق وفاقی سیکرٹری اشفاق محمود، صدرپاکستان انرجی لائرزایسوسی ایشن محمد عارف، ایگزیکٹوڈائریکٹر نیپرا سلمان امین، صوبائی ڈائریکٹر (بلوچستان) ڈائریکٹوریٹ جنرل پیٹرولیم کنسیشن (ڈی جی پی سی) عبدالقدوس خان، مشیر سینٹربرائےگلوبل اینڈاسٹریٹیجک اسٹڈیز خالد رحیم، ماہرِقانون جاویداختر، ایری ذونااسٹیٹ یونیورسٹی کے تعاون سے نیشنل یونی ورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکلنالوجی، اسلام آباد میں قائم یوایس۔پاکستان سینٹرفارایڈوانسڈاسٹڈیزان انرجی کےڈپٹی ڈائریکٹراحمدسعید شامل تھے۔ 

محمدرضی الدین نےاپنی گفتگو میں اس امید کا اظہارکیا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کےپی اوجی سی ایل کی صورت میں وفاق اور دیگر پالیسی زمہ داران کےساتھ مثبت مزاکرات کےذریعےدرپیش چیلنجزسےنبردآزما ہوجائے گی۔ مزیدبراں کے پی اوجی سی ایل صوبےکےآٹھ بلاکس میں ترقیاتی کام اور پیٹرولیم کی تلاش کےلئیےسرمایہ کاری لانےکی تمام کوششیں جاری  رکھے ہوئے ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ تیل اور گیس کی پیداوار کے ذریعے صوبے کا موجودہ جی ڈی پی ۲۵ بلین ڈالر سے بڑھ کر ۲۰۲۵ تک  ۱۲۵ بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

  اشفاق محمود نے اظہارِخیال کرتےہوئےکہا کہ صوبائی حکومت کووفاق کےساتھ مل کرکام کرنا چاہیے۔ اختیارات کی تفویض اور انکی حدودکےتعین کیلیئےمنصوبہ بندی ناگزیرہے۔ اس ضمن میں ائی پی ایس جیسے تھنک ٹینکس اپنا کردارادا کرسکتےہیں۔

 اپنےاختتامی کلمات میں مرزاحامد حسن نےکہا کہ موجودہ بحران کی زمہ داری صوبوں اوروفاق دونوں پرعائد ہوتی ہےاور اسکےحل کیلیئےجنگی بنیادوں پراقدامات اٹھانےکی ضرورت ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم اپنی توانائ ضروریات کا ۵۰ فیصد قدرتی گیس سے پورا کرتے تھے، مگر اب بدقسمتی سے ہم اپنی بیشتر توانائ ضروریات کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کر رہے ہیں۔ ملک میں جاری گیس پائپ لائن کے منصوبے اور ایل این جی کی برآمد اسکی مثال ہیں۔ گزشتہ دو سال سے ہم تیل کی قیمتوں میں کمی سے فائدہ اٹھا رہے تھے مگر اب مشرقِ وسطی کے بحران کے باعث پاکستان میں انرجی سیکٹر کی مجموعی صورتحال مایوس کن ہے جسکی وجہ مقامی ذرائع کی تلاش اور ان سے استفادہ نہ کرنا ہے۔ قیمتیں دوبارہ بڑھ رہی ہیں۔ تیل کی قیمت ۵۰ ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر ۶۰ ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے۔  

صوبائی اور وفاقی حکومتوں میں عدم تعاون کی فضا کو توانائی بحران کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے مرزا حامد حسن کا مزید کہنا تھا کہ صورتحال کی خرابی کی ذمہ داری ریگولیٹری باڈیز پر بھی عائد ہوتی ہےجو کہ اپنی زمہ داریوں سے غافل ہیں۔